جمعرات، 31 اگست، 2023

نہر زبیدہ کی تاریخ

نہر زبیدہ کی تاریخ

••┈┈•••○○❁⭕❁○○•••┈┈••

ہارون رشید کی بیوی زبیدہ رحمتہ اللہ علیہا بہت ہی دیندار صاحب علم و فضل خاتون تھیں ‎ان کے محل میں ‏ایک ہزار با ندیاں چو بیس گھنٹے قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول رہتی‎ ‎تھیں۔ ایک دفعہ مکہ مکرمہ ‏میں پانی کی شدید قلت ہو گئی اور پانی کا ایک مشکیزہ دس‎ ‎درہم سے لیکر ایک دینار تک بک گیا۔ حجا ج ‏اکرام کو بہت تکلیف اٹھانی پڑی ۔ زیبدہ‎ ‎رحمتہ اللہ علیہا کو جب اس کی خبر ہوئی تو ان کو بہت دکھ ہوا۔ انہوں نے اپنے‎ ‎انجنیروں کو جمع کر کے حکم دیا کہ کسی طرح مکہ مکرمہ کے لیے پانی کا بندوبست‎ ‎کرو اور پانی کے چشمے تلاش کرو چنانچہ انہوں  نے کافی تگ و دو سے ایک چشمہ طائف‌‎ ‎کے ‏راستے میں اور دوسرا چشمہ نعمان وادی میں دریافت کیا۔ لیکن ان کا پانی مکہ مکر‎مہ تک پہنچانا بڑا جا‏ن جوکھوں کا کام تھا راستے میں پہاڑیاں تھیں جن کو کھودنا‎ ‎انتہائی دشوار تھا لیکن اس نیک خاتون ‏نے حکم دیا کہ جتنا بھی خرچ ہو مکہ مکرمہ‌‎ ‎کے لیے پانی کا بندوبست کیا جائے اور اگر کوئی مزدور ‏پتھر پر ایک کدال مارنے کی‎ ‎ایک اشرفی بھی طلب کرے تو دے دو۔‎
چنانچہ تین سال کی شب و روز محنت کے بعد 33‌‎ ‎ہزار میٹر (۳۳ کلومیٹر لمبی) نہر تیار ہو گئی جس کو ‏ریت سے بچا نے کے لیے اوپر سے‎ ‎ڈھانپا گیا راستے میں کئی جگہ مسافروں کے پانی پینے کے لیے ‏انتظام کیا گیا اور بارش‎ ‎کے زمانے میں بارش کے پانی کو بھی نہر میں ڈالنے کا بندوبست کیا گیا اس میں ‏ایسا‎ ‎مصالحہ استعمال کیا گیا کہ اس کا پانی رِس کر ریتلی زمین میں جذب نہ ہو، نہر کی‎ ‎تیاری پر 70 لاکھ ‏دینار خرچ ہو ئے۔ جب حساب کا پرچہ ملکہ کو پیش کیا گیا تو اس وقت‎ ‎وہ دریائے دجلہ کے کنارے اپنے ‏محل میں بیٹھی تھی اس نے وہ پرچہ لیکر اس کو دیکھے‎ ‎بغیر یہ کہہ کر پانی میں بہا دیا کہ ”حساب کو ‏حساب کے دن کے لیے چھوڑا“ اور کہا جس‎ ‎نے مجھ سے اس حساب میں کچھ لینا ہو لے  لے ، نہر کے ‏مکمل ہو نے پر بہت خوشی منائی‎ ‎گئی اور تعمیر کرنے والوں کو بہت سے انعام و اکرام سے نوازا گیا۔ ‏اور نہر کا نام‎”‎عین المشاش‘‘ رکھا گیا ۔ مگر اللہ تعالیٰ کو اس کا یہ عمل ایسا پیارا لگا کہ یہ نہر‎ ‎’’نہر ‏زبیدہ رحمتہ اللہ علیہا‘‘ کے نام سے ہی مشہور ہو گئی۔

نہر زبیدہ 1200 برس تک مشاعر مقدسہ اور مکہ مکرمہ میں پانی کی فراہمی کا بڑا ذریعہ رہی۔ آج کے دور میں ماہر آرکیٹکٹ اور انجینیئرحیران ہیں کہ صدیوں پہلے فراہمی آب کے اس عظیم الشان منصوبے کو کیسے تکمیل تک پہنچایاگیا۔ نہر زبیدہ کا منصوبہ اس وقت کے ماہرین نے 10سال کے عرصے میں مکمل کیا۔

اللہ تعالیٰ پورے عالمی اسلام میں ایسے کاموں کے توفیقات عطا فرمائے، اور ہم سب میں جزبہ خیر سگالی، جزبہ ایثار، خدمت خلق، حقوق العباد اور اخلاص پیدا کرے.
آمین ثم آمین یا رب العالمین.

جمعرات، 24 اگست، 2023

اے نادان ! یہ خواہشات سے بنا ہوا کشکول ہے‘ جسے صرف قبر کی مٹی بھر سکتی ہے۔۔۔

بادشاہ نے ایک درویش سے کہا۔۔
” مانگو کیا مانگتے ہو؟" درویش نے اپنا کشکول آگے کردیا اور عاجزی سے بولا۔۔
” حضور! صرف میرا کشکول بھر دیں۔۔" بادشاہ نے فوراً اپنے گلے کے ہار اتارے انگوٹھیاں اتاریں جیب سے سونے چاندی کی اشرفیاں نکالیں اور درویش کے کشکول میں ڈال دیں لیکن کشکول بڑا تھا اور مال و متاع کم ۔۔ لہٰذا اس نے فوراً خزانے کے انچارج کو بلایا۔۔... انچارج ہیرے جواہرات کی بوری لے کر حاضر ہوا‘ بادشاہ نے پوری بوری الٹ دی لیکن جوں جوں جواہرات کشکول میں گرتے گئے کشکول بڑا ہوتا گیا۔۔ یہاں تک کہ تمام جواہرات غائب ہوگئے۔۔بادشاہ کو بے عزتی کا احساس ہوا اس نے خزانے کہ منہ کھول دیئے لیکن کشکول بھرنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔ خزانے کے بعد وزراء کی باری آئی. اس کے بعد درباریوں اور تجوریوں کی باری آئی‘ لیکن کشکول خالی کا خالی رہا۔۔ ایک ایک کر کے سارا شہر خالی ہوگیا لیکن کشکول خالی رہا۔۔ آخر بادشاہ ہار گیا درویش جیت گیا۔
درویش نے کشکول بادشاہ کے سامنے الٹایا‘ مسکرایا‘ سلام کیا اور واپس مڑ گیا. بادشاہ درویش کے پیچھے بھاگا اور ہاتھ باندھ کر عرض کیا۔۔
” حضور ! مجھے صرف اتنا بتادیں یہ کشکول کس چیز کا بنا ہوا ہے ؟" درویش مسکرایا اور کہا ۔۔
” اے نادان ! یہ خواہشات سے بنا ہوا کشکول ہے‘ جسے صرف قبر کی مٹی بھر سکتی ہے۔۔۔

سونے کے حروف سے لکھے جانے لائق کلام

سونے کے حروف سے لکھے جانے لائق کلام

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی والدہ کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے اپنی ماں سے  اس بات کے لیے معذرت ظاہر کی کہ وہ ان سے دور ہیں اور بعض دینی مصروفیات کے سبب مصر میں قیام پذیر ہیں .  جب ان کی والدہ کو یہ خط ملا تو انہوں نے جواباً لکھا :

میرے محبوب اور لاڈلے بیٹے احمد بن تیمیہ! 

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

اللہ کی قسم! میں نے تمہیں اسی مقصد کے لیے پالا ہے، میں نے تمہیں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے وقف کیا ہے ، میں نے اسلامی اصولوں پر تمہاری تربیت کی ہے. میرے بیٹے!  تم کبھی یہ خیال مت کرنا کہ تم مجھ سے قریب رہو یہ مجھے  اس کے مقابلے میں زیادہ محبوب ہے کہ تم دین سے قریب رہو اور مختلف شہروں میں رہ کر اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں لگے رہو، بلکہ میرے بیٹے تمہاری ذات سے میری خوشی کی انتہا اسی میں ہے کہ تم زیادہ سے زیادہ اپنے دین اور مسلمانوں کی خدمت میں لگے رہو.  میرے بیٹے!  میں کل قیامت کے دن اللہ کے سامنے تم سے ہرگز یہ نہیں پوچھوں گی کہ تم کیوں مجھ سے دور رہتے تھے کیونکہ میں جانتی ہوں کہ تم کن کاموں میں لگے رہتے ہو اور کہاں رہتے ہو، البتہ اے احمد!  میں اللہ کے سامنے اس وقت ضرور تم سے سوال کروں گی اور تمہارا حساب لوں گی جب تم اللہ کے دین کی خدمت میں اور اس دین پر چلنے والے اپنے مسلمان بھائیوں کی خدمت میں کوئی کوتاہی کروگے.  

اللہ تم سے راضی ہو، تمہارے مسکن کو خیر و برکت سے منور کرے، تمہیں لغزشوں سے بچائے، اور اللہ مجھے اور تمہیں رحمان کے عرش کے سایے میں جمع کرے اس دن جس دن کوئی اور سایہ نہ ہوگا.  

منگل، 22 اگست، 2023

عجیب و غریب واقعہ

‏شروع سے آخر تک  پڑھیں اور آپنے بچوں کو پڑھائیں
‏دل کی کیفیت بدل جائیگی
‏ﺟﺐ میں ﺍﭘﻨﮯ استاد ( شیخ ) ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ ‘ 
‏ﻣﯿﮟ ﺑﺤﺮﯼ ﺟﮩﺎﺯﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﺍﻥ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ‘ 
‏ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻥ ﮐﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺘﻨﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﮐﻤﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﻭ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ‘ 
‏ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﺣﮑﻤﺖ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﭘﻮﭼﮭﯽ ‘ 
‏ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﮯ ‘ ﺗﻢ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻭ ‘ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ ‘ 
‏ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﺎﮦ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﺍﻥ ﻟﻮﮈﻧﮓ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ‘ ﻣﯿﺮﺍ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ”
‏ﺗﻢ ﺁﺝ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﺟﺎﺅ ‘ ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺟﮭﻮﭦ ﻣﻮﭦ ﮐﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﭘﮍ ﺟﺎﻧﺎ ‘ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﮐﺎﻡ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮧ ﻟﮕﺎﻧﺎ ‘ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﻟﯿﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺟﺎﻧﺎ “ 
‏ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﯿﺦ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﯿﺎ ‘ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﭘﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﮔﻮﺩﯼ ﭘﺮﻟﯿﭩﺎ ﺭﮨﺎ ‘ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁ ﮔﯿﺎ ‘ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ‘ ﺗﻢ ﺍﺏ ﺩﻭ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﻗﻢ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﺮ ﺩﻭ ‘ 
‏ﺁﭖ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﯾﮟ ﻭﮦ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻼ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﻣﯿﺮﺍﺩﻝ ﺧﯿﺮﺍﺕ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ‘ 
‏ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺩﻥ ﺧﻮﺏ ﺳﯿﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﻮﮎ ﺧﺘﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ‘ 
‏ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ  ﮐﻨﮉﯼ ﻟﮕﺎﺋﯽ ‘ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﺑﯿﭻ ﮐﺮ ﺳﻮﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﮑﻤﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ‘ 
‏ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺑﻮ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﭘﺮ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﻟﺬﺕ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ‘ 
‏ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺷﯿﺦ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﯿﻔﯿﺎﺕ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ‘
‏ﻭﮦ ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﮯ ‘ ﺑﯿﭩﺎ ﯾﮧ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﺎ ﮐﻤﺎﻝ ﮨﮯ ‘ ﺣﺮﺍﻡ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻮﮨﺮ ﺍﮌﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ‘ ﺁﭖ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‘ 
‏ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ‘ ﺟﻼﻝ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺗﻨﮓ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺳﻮﭺ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﻮ ﭘﮭﯿﻼ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﺳﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ‘ 
‏ﻣﯿﺮﮮ شیخ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ‘ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺁﺝ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺣﺮﺍﻡ 40 ﺩﻥ ﺳﺘﺎﺋﮯ ﮔﺎ ‘ 
‏ﺁﭖ ﺍﻥ 40 ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻮﭦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯽ ﻣﺎﺋﻞ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ‘
‏ ﺁﭖ ﻏﯿﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ‘ 
‏ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻻﻟﭻ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ‘ 
‏ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ 
‏ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻣﯿﺮ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﮔﯽ ‘ 
‏ﻣﯿﮟ ﮈﺭ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ‘ 
‏ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﺍﻥ ﺑﺮﮮ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﺎ ﭼﺎﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ‘ 
‏ﻭﮦ ﺑﻮﻟﮯ ” ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻭ ‘ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ “
‏ﺍﻧﮩﻮﮞ ﺳﺮ ﮨﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ ‘
‏ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ریاضت ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻮ ﺳﯿﮑﮭﺎ ‘ ﻭﮦ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ‘ ﯾﮧ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﺍﯾﮏ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﮨﮯ ‘ ﺍﺱ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﭘﺮ ﺍﺳﺮﺍﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﭨﺎ ﺗﺎﻻ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﺗﺎﻻ ﺍﯾﮏ ﺍﺳﻢ ﺍﻋﻈﻢ ﺳﮯ ﮐﮭﻠﺘﺎ ﮨﮯ
‏ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺳﻢ ﺍﻋﻈﻢ ﮨﮯ ﺣﻼﻝ ‘ ﺁﭖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺣﻼﻝ ﺑﮍﮬﺎﺗﮯ ﺟﺎﺅ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﺎ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﮐﮭﻠﺘﺎ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ “ 
‏ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ” ﺍﻭﺭ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ “ 
‏ﻭﮦ ﺑﻮﻟﮯ ” ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻭﮦ ﭼﯿﺰ ﺟﺴﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ‘ ﺳﻨﻨﮯ ‘ ﭼﮑﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻻﻟﭻ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ ‘
‏ ﺁﭖ ﺍﺱ ﺣﺮﺍﻡ ﺳﮯ ﺑﭽﻮ ‘ 
‏ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﻮ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ ‘
‏ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺍﺟﺎﮌ ﺩﮮ ﮔﺎ 
‏تباہ کردیگا ‘ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺟﻮﮨﺮ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﺎ
‏بے قیمت کردیگا آپنے گھر میں آپنے پڑوس میں اور پورے دنیا میں 
‏پھر معاشرے میں آپ کی کوئی اہمیت ہی نہ رہیگی،
‏اور آپ کے چہرے کی رونق ختم ہوجائیگی۔

پیر، 21 اگست، 2023

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول آمبور میں 77 واں جلسہ یوم آزادی

١٥ آگست ٢٠٢٣ کو جشن یوم آزادی بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول آمبور میں نہایت تزک واحتشام کے ساتھ منایا گیا جلسہ کی صدارت ڈی. کارتیگین تاجر بانگی حیات باشاہ صاحب وقف مارکیٹ نے فرماٸ اور ڈاکٹر اے. محمد ریان نے پرچم کشاٸ کی۔ مہمانوں نے مدرسہ کے مینیجر و کرسپانڈنٹ جناب الحاج بانگی پرویز اکبر صاحب کی بےلوث تعلیمی خدمات کو سرہاتے ہوۓ فرمایا کہ آپ کی سماجی و ملی خدمات قابل ستاٸش ہیں آپ نے اس اسکول کو جدید تکنیکی تعلیمی نظام سے جوڑ رکھا ہے یہ دوسروں کے لۓ قابل تقلید ہے۔ مہماوں نے اپنے خطاب کے دوران طلبا و طالبات کی کارکردگی کو سراہا۔ جناب جے. نظام الدین ہیڈماسٹر نے مہمانوں کا استقبال کیا اور مینیجمنٹ کی جانب سے مہمانوں کی شال پوشی فرماٸ۔ جناب ایس. فضل اللہ  مینیجر بانگی مارکیٹ و سابق میر مدرس مدرسہ ھذا نے مہمانوں کا تعارف فرمایا۔ اسکول کے طلبا وطالبات نے بزبان اردو تمل و انگریزی پرجوش تقاریر فرماٸ اور مجاہدین آزادی ٹیپوسلطان، جھانسی کی رانی، مہاتما گاندھی، ڈاکٹر ذاکر حسین ، بھگت سنکھ،جواہر لال نہرو، سروجنی ناٸڈو، اندھرا گاندھی اور تمل شاعر مہاکوی بھارتی کے روپ میں خود کو پیش کرکے داد و تحسین حاصل کیا۔ جلسہ میں حصہ لینے والے طلبا و طالبات کو مینیجر و کرسپانڈنٹ کی جانب سے انعامات پیش کۓ گۓ۔ مدرس کے الطاف احمد نے ہدیہ تشکر پیش کیا جلسہ بحسن خوبی قومی ترانہ کے ساتھ اختتام پزیر ہوا۔

اللہ کے انعام یافتہ بندے!!!

اللہ کے انعام یافتہ بندے!!!
ﺍﯾﮏ ﻏﺮﯾﺐ ﻋﻮﺭﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﺑﺎﺑﺎ ﻓﺮﯾﺪ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ ﮔﻨﺞ ﺷﮑﺮ ﺭﺣﻤﺘﻪ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻔﻠﺴﯽ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺎﻝ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﻧﻪ ﺗﮭﺎ۔
ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺩﻋﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﻩ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻟﯿﻨﮯ ﭘﺮ ﺑﻀﺪ ﺭﻫﯽ۔ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ، ﺑﯽ ﺑﯽ ! ﺳﺐ ﺧﺰﺍﻧﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﮯ ﻫﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮕﻮ، ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﺩﻧﯽ ﺳﺎ ﻏﻼﻡ ﻫﻮﮞ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﻩ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﻮﻟﯽ، ﺁﭖ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﮯ ﻧﯿﮏ ﺑﻨﺪﮮ ﻫﯿﮟ ﻣﯿﮟﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﺭ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﻧﮭﯿﮟ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﯽ۔
ﺁﺧﺮ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ، ﺍﭼﮭﺎ ﺟﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﭩﯽ ﮐﺎ ﮈﮬﯿﻼ ﺗﻼﺵ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻻﺅ، ﻭﻩ ﻋﻮﺭﺕ ﻣﭩﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮈﮬﯿﻼ ﺍﭨﮭﺎ ﻻﺋﯽ، ﺑﺎﺑﺎ
ﻓﺮﯾﺪ ﺭﺣﻤﺘﻪ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭﻩ ﺍﺧﻼﺹ ( ﻗﻞ ﻫﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﺣﺪ ) ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﻣﭩﯽ ﭘﺮ ﺩﻡ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﺳﮯ ﻭﻩ ﻣﭩﯽ ﺳﻮﻧﺎ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ۔ ﺁﭖ ﺭﺣﻤﺘﻪ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻧﮯ ﻭﻩ ﺳﻮﻧﺎ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ،
ﻟﻮ ﺑﯽ ﺑﯽ ! ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﺮﻭ۔ ﻭﻩ ﻋﻮﺭﺕ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﻫﻮﺋﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻮﻧﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺴﺨﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ۔ ﮔﮭﺮ
ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﭩﯽ ﮐﮯ ﮐﺌﯽ ﮈﮬﯿﻠﮯ ﺍﮐﭩﮭﮯ ﮐﺌﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﭘﺎﮎ ﺻﺎﻑ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﮯ ﻣﮩﮑﺎ ﺩﯾﺎ، ﻏﺴﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﮎ ﺻﺎﻑ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﺷﺪﺕ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﺳﻮﺭﻩ ﺍﺧﻼﺹ ﭘﮍﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﭩﯽ ﭘﺮ ﺩﻡ ﮐﯿﺎ، ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﻥ ﮐﯽ ﺁﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﭩﯽ، ﺳﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﭽﮫ ﻧﻪ ﻫﻮﺍ۔
ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﭘﺮ ﺟﻨﻮﻥ ﮐﯽ ﺳﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﺳﻮﺍﺭ ﻫﻮ ﮔﺌﯽ ﻭﻩ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺳﻮﺭﻩ ﺍﺧﻼﺹ ﭘﮍﮬﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﭩﯽ ﭘﺮ ﺩﻡ ﮐﺮﺗﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﭩﯽ، ﻣﭩﯽ ﻫﯽ ﺭﻫﺘﯽ۔ ﻭﻩ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺗﮏ ﺳﻮﺭﻩ ﺍﺧﻼﺹ
ﭘﮍﮬﺘﯽ ﺭﻫﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺳﺐ ﺑﮯ ﺳﻮﺩ ﺭﻫﺎ، ﺁﺧﺮ ﻭﻩ ﻣﭩﯽ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﺎﺑﺎ ﻓﺮﯾﺪ ﺭﺣﻤﺘﻪ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﻫﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﻮﻩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ، ﺁﭖ ﻧﮯ ﻧﻪ ﻭﺿﻮ ﮐﯿﺎ ، ﻧﻪ ﻏﺴﻞ، ﻧﻪ ﻫﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﺑﺲ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ ﺳﻮﺭﻩ ﺍﺧﻼﺹ ﭘﮍﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﭩﯽ ﺳﻮﻧﺎ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻏﺴﻞ ﮐﯿﺎ، ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻟﮕﺎﺋﯽ، ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﭘﺎﮎ ﺻﺎﻑ ﮐﯿﺎ، ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺳﻮﺭﻩ ﺍﺧﻼﺹ ﭘﮍﮪ ﺭﻫﯽ ﻫﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﭩﯽ ﺳﻮﻧﺎ ﻧﮭﯿﮟ ﺑﻨﺘﯽ، ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﻋﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﻤﯽ ﻫﮯ ؟
ﺑﺎﺑﺎ ﻓﺮﯾﺪ ﺭﺣﻤﺘﻪ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﻢ ﻫﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﺁﭖ ﺭﺣﻤﺘﻪ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯿﮕﮯ ﻫﻮﺋﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ، ﺗﯿﺮﮮ ﻋﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻤﯽ
ﻧﮭﯿﮟ ﺗﮭﯽ، ﺑﺲ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﻨﻪ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﯾﺪ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻧﮭﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔
سبحان اللہ بے شک یہی وہ اللہ کے بندے تھے جو اللہ کے نزدیک انعام یافتہ قرار پائے۔
اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ. ’’(اے اللہ) ہمیں سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا جن پر تو نے اپنا انعام فرمایا۔‘‘
یہ انعام یافتہ بندے کون ہیں۔ اس کی وضاحت خود قرآن مجید نے یہ کہہ کر فرمائی ہے :
فَأُوْلَـئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَوَحَسُنَ أُولَـئِكَ رَفِيقًا
’’تو یہی لوگ (روز قیامت) ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے (خاص) انعام فرمایا ہے جو کہ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں اور یہ بہت اچھے ساتھی ہیں۔‘

اللہ سے صلح کر لوإ

ہماری تاریخ میں بہت بڑا خوبصورت نام عبداﷲ بن زید رحمۃ ﷲ علیہ کا ہے۔ آپ نے ساری زندگی نکاح نہیں کیا، جوانی گزر گئی بڑھاپا آیا ایک دن بیٹھے حدیث مبارکہ پڑھ رہے تھے تو اس میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ:*''جنت میں کوئی اکیلا نہیں ہو گا جو نکاح کی عمر میں نہیں پہنچا یا پہنچا بھی تو کسی وجہ سے نہیں ہوا اور وہ مسلمان ہی مرا تو ﷲ مسلمان مردوں اور عورتوں کا جنت میں آپس میں نکاح کر دے گا''۔*
جب یہ حدیث پاک پڑھی تو دل میں خیال آیا کہ یہاں تو نکاح نہیں کیا تو جنت میں ہونا ہی ہونا ہے تو جنت میں میری بیوی کون ہو گی دعا کی کہ یا ﷲ مجھے دکِھا تو سہی جنت میں میری بیوی کون ہو گی؟
پہلی رات دعا قبول نہیں ہوئی دوسری رات بھی دعا قبول نہیں ہوئی تیسری رات دعا قبول ہو گئی، خواب میں کیا دیکھتے ہیں کالے رنگ کی عورت ہے حضرت بلال حبشی کے دیس کی رہنے والی حبشہ کے دیس کی اور وہ کیا کہتی ہے کہ:''میں میمونہ ولید ہوں اور میں بصریٰ میں رہتی ہوں''۔پتہ مل گیا آنکھ کھلی حضرت کی تہجد کا وقت تھا نوافل پڑھے نماز فجر باجماعت ادا کی اور سواری لے کر حضرت عبداﷲ بن زید بصریٰ گئے وہاں لوگوں نے بڑا استقبال کیا حضرت کا نام ہی بہت بڑا تھا بیٹھا کر پوچھا حضرت بتائے بغیر کیسے آنا ہوا خیر تو ہے آپ نے پوچھا یار یہ تو بتاؤ یہاں کوئی میمونہ ولید رہتی ہے لوگوں نے حیران ہو کر پوچھا حضرت آپ اتنے دٗور سے چل کر میمونہ ولید سے ملنے آئے ہیں آپ نے فرمایا کیوں اُس سے کوئی نہیں مل سکتا نہیں حضور وہ تو دیوانی ہے لوگ اُسے پتھر مارتے ہیں، حضور نے پوچھا کیوں مارتے ہیں حضور کام ہی ایسے کرتی ہے کوئی رو رہا ہو تو اسے دیکھ کر ہنسنے لگتی ہے اور کوئی ہنس رہا ہو تو رونا شروع کر دیتی ہے اور وہ اجرت پر پیسے لیکر لوگوں کی بکریاں چرہاتی ہے آج بھی وہ ہماری بکریاں لیکر جنگل میں گئی ہے آپ آرام فرمائیں عصر کے بعد آ جائے گی آپ مل لیجیے گا۔
حصْرت نے فرمایا عصر کس نے دیکھی کہا وہ کس سمت گئی ہے لوگوں نے کہا حضور جنگل نہ جائیں بہت خوفناک جنگل ہے آپ نے فرمایا بتاؤ کس طرف گئی ہے لوگوں نے بتایا آپ فرماتے ہیں کہ میں نکل گیا آپ فرماتے ہیں کہ جب میں جنگل گیا واقعی خوفناک جنگل تھا جنگلی جانوروں کی بھرمار تھی قدم قدم پر کوئی نہ کوئی چیز کھڑی ہے آپ فرماتے ہیں کہ قربان جاؤں اس عورت کی مردانگی پر وہ اس جنگل میں کس طرح بکریاں چرا رہی ہے شیروں نے اس کی بکریوں کو ابھی تک کھایا نہیں اتنے درندے ہیں سارے مل کر حملہ کر دیں تو کیا کرے یہ اکیلی عورت کس کس کو روکے گی؟ خیر آپ فرماتے ہیں کہ وہ جگہ جہاں لوگوں نے مجھے بتائی تھی میں وہاں پہنچ گیا جب میں وہاں پہنچا تو منظر دیکھ کر میں حیران رہ گیا دو حیران کر دینے والے منظر تھے۔
پہلا یہ کہ میمونہ ولید ؒ بکریاں نہیں چرا رہی تھی بلکہ اُس جنگل میں جائے نماز بچھا کر نوافل پڑھ رہی تھی پر بکریاں چرانا تو بہانہ تھا یہ تو بہانہ تھا کنارہ کشی کا، لوگ یہی سمجھتے تھے میمونہ سارا دن بکریاں چراتی ہے لیکن میمونہ بکریاں نہیں چرا رہی تھی۔
دوسرا کیا دیکھا کہ میمونہ تو نماز پڑھ رہی ہیں پھر بکریاں کون چرا رہا ہے بکریاں تو ایک جگہ نہیں رکتیں کہیں اِدھر جاتی ہیں کہیں اُدھر آپ فرماتے ہیں کہ میمونہ نماز پڑھ رہی تھی اور شیر بکریاں چرا رہے ہیں بکریاں چر رہی ہیں شیر انکے اردگرد گھوم رہے ہیں اگر کوئی بکری بھاگتی ہے اس کی فطرت ہے شرارت کرنا تو شیر اُسے پکڑ کر واپس لے آتا ہے لیکن کہتا کچھ نہیں۔
آپ فرماتے ہیں میں حیران و پریشاں کھڑا تھا کہ یہ کیسے ہو گیا ہے یہ فطرت کیسے بدل گئی لوگ کہتے ہیں فطرت نہیں بدلتی یہ شیروں اور بکریوں میں یاری کیسے ہو گئی آپ فرماتے ہیں میں دنگ حیران و پریشان کھڑا ہوں مجھے نہیں پتہ کہ کب میمونہ ولید نے نماز ختم کر دی اور مجھے مخاطب کر کے کہتی ہیں کہ:*''اے عبدﷲ ملنے کا وعدہ تو جنت میں تھا آپ یہاں آ گئے''۔*
آپ فرماتے ہیں میں حیران رہ گیا اس سے پہلے تو ملاقات بھی نہیں ہوئی تو حضرت میمونہ ولید  کو میرا نام کیسے پتہ چل گیا
تو آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت میمونہ ولیدؒ سے سوال کیا اِس سے پہلے ہم ملے نہیں ملاقات نہیں ہوئی ہماری تو میرا نام کیسے پتہ چلا آپ کو تو جواب کیا ملا حضرت میمونہ ولیدؒ فرماتی ہیں عبدﷲ جس ﷲ نے رات کو تجھے میرے بارے میں بتایا ہے اُسی ﷲ نے مجھے آپکے بارے میں بتایا ہے
آپ فرماتے ہیں کہ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ حیران کیا وہ یہ تھا کہ یہ فطرت کیسے بدلی میں نے حضرت میمونہ ولید ؒ سے پوچھا آپ یہ تو بتاؤ یہ شیروں نے بکریوں کے ساتھ یاری کیسے کر لی یہ تو غذا ہے انکی اگر شیر بکریوں کے ساتھ یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا یہ کیسے معاملہ ہو گیا تو حضرت میمونہ ولید ؒ فرماتی ہیں جب سے میں نے رب سے صلح کر لی ہے اُس دن سے اِن شیروں نے بھی میری بکریوں کے ساتھ صلح کر لی ہے۔

اتوار، 20 اگست، 2023

اَلدِّينُ النَّصِيحَةُ

حضرتِ سیّدنا تمیم داری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ نبیِ اکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:اَلدِّينُ النَّصِيحَةُ یعنی دین خیر خواہی ہے، ہم نے عرض کی: کس کے لیے؟ ارشاد فرمایا:لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِاَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ یعنی اللہ کے لیے ، اس کی کتاب کے لیے ، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ اور عام مسلمانوں کے لیے۔(مسلم،ص51، حدیث:196)

مذکورہ حدیث نبی رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی ان احادیث میں شمار کی جاتی ہے جن کو”جَوَامِعُ الْکَلِم“ کہا جاتا ہے ، یعنی وہ احادیث جن کے الفاظ بہت کم ہوتے ہیں لیکن علم وحکمت کے کثیر موتی ان میں موجود ہوتے ہیں ۔

حدیثِ مذکور کے راوی حضرتِ سیدنا تمیم داری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ہیں آپ اور آپ کے بھائی سیدنا نعیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سن نو ہجری میں ایمان لے کر آئے ، بہت بڑے عابد و زاہد اور ساری رات اللہ جَلَّ شَانُہ کی عبادت میں گزارنے والے صحابی تھے، مسجد میں سب سے پہلے چراغ جلانے والے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہی تھے۔ (الاصابۃ ،ج1،ص487،رقم: 838)

حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے دین کو خیر خواہی کا نام دیا ہے جس کے لیے عربی زبان میں نصیحت کا لفظ استعمال ہوتا ہے ، نصیحت کسی بھی شئے کو تمام آلائش سے پاک کرکے اسے خالص کرنے کو کہتے ہیں ، اسی طرح کسی شئے کے عیب کو دور کرنے اور اسے درست کردینے کو بھی عربی میں نصیحت کہا جاتا ہے ۔ حدیث میں جن ہستیوں اوراشیاء کے لیے نصیحت کا حکم ہے، سب کے لیے  نصیحت کا معنی الگ الگ  ہیں ۔

اللہ تعالٰی کے لیے نصیحت کا معنی:اللہ تعالیٰ کو تمام خوبیوں کا جامع ماننا ، تمام عیوب سے پاک ماننا، اللہ تعالیٰ کو معبود برحق اور شریک سے پاک ماننا ، اس کی اطاعت کرنا، اس کی نافرمانی سے اجتناب کرنا ،اس کا شکر ادا کرنا،  اخلاص کے ساتھ اس کی عبادت کرنا اور اس سےمحبت کرنا وغیرہ۔

کتابُ اللہ کے لیے نصیحت کا معنی :اس پر ایمان لانا یہ اعتقاد رکھنا کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ، کوئی اس کی مختصر ترین سورت کی مثل بھی نہیں لاسکتا ، اس کے احکام پر عمل کرنا ، اس کی تلاوت کرنا وغیرہ، یونہی اللہ  تعالیٰ کی دیگر کتابوں پر بھی ایمان لانا  کتابُ اللہ کے لیے نصیحت کے معنی میں شامل ہے ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کے لیے نصیحت کا معنی:اُن کی رسالت کی تصدیق کرنا ، جو کچھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے لے کر آئے اس پر ایمان لانا، ان کی اطاعت کرنا، ان کی تعظیم وتوقیر کرنا ، ان کی سنت پر عمل کرنا اِس کی دعوت کو عام کرنا ، ان سے اور ان کے صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے محبت کرناوغیرہ،صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَ صحبہ و بارک وَ سَلَّمَ

مسلمانوں کے ائمہ کے لیے نصیحت کا معنی:اگر اس سے مراد حکام کو لیا جائے تو معنی ہوگا جو کچھ شریعت کے مطابق حکم کریں اس میں ان کی بات ماننا، ان کے خلاف بغاوت نہ کرنا ، ان کو حق کی تلقین کرنا وغیرہ۔اور علما ہوں تو اس کا معنی ہوگا کہ شرعی احکام میں ان کی اطاعت کرنا ان کی تعظیم وتکریم کرنا وغیرہ

اور عام مسلمانوں کے لیے نصیحت کا معنی : اُن کی دین ودنیا کے  بھلائی کے کاموں  میں رہنمائی کرنا ، اس کے لیے قول وفعل کے ذریعے ان کی مدد کرنا ، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت کرنا وغیرہ۔ (جامع العلوم والحکم، ص106، 107، الفتح المبین،ص 253تا257،  المعین علی تفہم الاربعین، ص226تا228،)

حضرت بایزید بسطامی

👈 حضرت بایزید بسطامی ؒ اپنی زندگی کا ایک عجیب و غریب واقعہ سناتے ہیں کہ میں ایک سفر میں خلوت سے لذّت حاصل کر رہا تھا اور فکر میں مستغرق تھا اور ذکر سے اُنس حاصل کر رہا تھا کہ میرے دل میں ندا سنائی دی،اے بایزید دَرِسمعان کی طرف چل اور عیسائیوں کے ساتھ ان کی عید اورقربانی میں حاضر ہو۔ اس میں ایک شاندار واقعہ ہوگا  حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ صبح سویرے میں نے عیسائیوں کا لباس پہنا زنار کو باندھا اور دَیر سمعان پہنچ گیا۔ وہ ان کی عید کا دن تھا مختلف علاقوں کے راہب دیر سمعان کے بڑے راہب سے فیض حاصل کرنے اور ارشادات سننے کے لئے حاضر ہو رہے تھے میں بھی راہب کے لباس میں ان کی مجلس میں جا بیٹھا۔ جب بڑا راہب آکر ممبر پر بیٹھا تو سب خاموش ہو گئے۔ بڑے راہب نے جب بولنے کا ارادہ کیا تو اس کا ممبر لرزنے لگا اور کچھ بول نہ سکا گویااس کا منہ کسی نے لگام سے بند کر رکھا ہے توسب راہب اور علماء کہنے لگے اے مرشد ربّانی کون سی چیز آپ کو گفتگو سے مانع ہے۔ ہم آپ کے ارشادات سے ہدایت پاتے ہیں اورآپ کے علم کی اقتدا کرتے ہیں۔ بڑے راہب نے کہا کہ میرے بولنے میں یہ امر مانع ہے کہ تم میں ایک محمّدی شخص آ بیٹھا ہے۔ وہ تمہارے دین کی آزمائش کے لئے آیا ہے لیکن یہ اس کی زیادتی ہے۔ سب نے کہا ہمیں وہ شخص دکھا دو ہم فوراً اس کو قتل کر ڈالیں گے۔ اُس نے کہا بغیر دلیل اور حجت کے اس کو قتل نہ کرو،میں امتحاناً اس سے علم الادیان کے چند مسائل پوچھتا ہوں اگر اس نے سب کے صحیح جواب دیئے تو ہم اس کو چھوڑ دیں گے، ورنہ قتل کردیں گے کیونکہ امتحان مرد کی عزّت ہوتی ہے یا رسوائی یا ذِلّت۔سب نے کہاآپ جس طرح چاہیں کریں ہم آپ کے خوشہ چیں ہیں۔ تو وہ بڑا راہب ممبر پر کھڑا ہوکر پکارنے لگا۔ اے محمّدی، تجھے محمّد کی قسم کھڑا ہو جا کہ سب لوگ تجھے دیکھ سکیں تو بایزید رحمةاللہ علیہ کھڑے ہو گئے۔ اس وقت آپ کی زبان پر رب تعالیٰ کی تقدیس اور تمجید کے کلمات جاری تھے۔ اس بڑے پادری نے کہا اے محمّدی میں تجھ سے چند مسائل پوچھتا ہوں۔ اگر تو نے پوری وضاحت سے ان سب سوالوں کا جواب باصواب دیا تو ہم تیری اتباع کریں گے ورنہ تجھے قتل کردیں گے۔ تو بایزید رحمةاللہ علیہ نے فرمایا کہ تو معقول یا منقول جو چیز پوچھنا چاہتا ہے پوچھ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اور ہمارے درمیان گواہ ہے۔ تو اس پادری نے کہا۔
 وہ ایک بتاؤجس کا دوسرا نہ ہو ؟
 وہ دو بتاؤ جن کا تیسرا نہ ہو ؟
 وہ تین جن کا چوتھا نہ ہو؟
 وہ چار جن کا پانچواں نہ ہو؟
 وہ پانچ جن کا چھٹا نہ ہو ؟
 وہ چھ جن کا ساتواں نہ ہو ؟
 وہ سات جن کا آٹھواں نہ ہو ؟
 وہ نو جن کا دسواں نہ ہو؟
 وہ دس جن کا گیارہواں نہ ہو ؟
 وہ بارہ جن کا تیرہواں نہ ہو ؟
 وہ قوم بتاؤ جو جھوٹی ہو اور بہشت میں جائے ؟
 وہ قوم بتاؤ جو سچّی ہو اور دوزخ میں جائے ؟
 بتاؤ کہ تمہارے جسم سے کون سی جگہ تمہارے نام کی قرارگاہ ہے ؟
 الْذارِیاتِ ذروًا کیا ہے ؟
اَلْحاَمِلَاتِ وِقْراً کیا ہے ؟
 اَلْجَارِیَاتِ یَسْرًا کیا ہے ؟
 اَلْمُقَسِّمَاتِ اَمْرًا کیا ہے ؟
 وہ کیا ہے جو بے جان ہو اور سانس لے ؟
ہم تجھ سے وہ چودہ پوچھتے ہیں جنہوں نے رَبُّ العالمین کے ساتھ گفتگو کی ؟
 اور وہ قبر پوچھتے ہیں جو مقبور کو لے کر چلی ہو ؟
 وہ پانی جو نہ آسمان سے نازل ہوا ہو اور نہ زمین سے نکلا ہو ؟
 اور وہ چار جو نہ باپ کی پشت اور نہ شکم سے پیدا ہوئےمادر ؟
 پہلا خون جو زمین پر بہایا گیا ؟
 وہ چیز پوچھتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہو اور پھراس کو خرید لیا ہو ؟
 وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا پھر نا پسند فرمایاہے ؟
 وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہو پھر اس کی عظمت بیان کی ہو وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہو پھر خو د پوچھا ہو کہ یہ کیا ہے ؟
 وہ کون سی عورتیں ہیں جو دنیا بھر کی عورتوں سے افضل ہیں ؟
کون سے دریا دنیا بھر کے دریاؤں سے افضل ہیں؟
 کون سے پہاڑ دنیا بھر کے پہاڑوں سے افضل ہیں؟
 کون سے جانور سب جانوروں سے افضل ہیں ؟
 کون سے مہینے افضل ہیں ؟
 کون سی راتیں افضل ہیں ؟ طَآمَّہ کیا ہے ؟
 وہ درخت بتاؤ جس کی بارہ ٹہنیاں ہیں اور ہر ٹہنی پر تیس پتّے ہیں اور ہر پتّے پر پانچ پھُول ہیں دو پھُول دھوپ میں اور تین پھُول سایہ میں ؟
 وہ چیز بتاؤجس نے بیت اللہ کا حج اور طواف کیا ہو نہ اُس میں جان ہو اور نہ اُس پر حج فرض ہو ؟
 کتنے نبی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے اور اُن میں سے رُسول کتنے ہیں اور غیر رسُول کتنے ؟
 وہ چار چیزیں بتاؤ جن کا مزہ اور رنگ اپنا اپنا ہو اور سب کی جڑ ایک ہو ؟
 نقیر کیا ہے اور قطمیر کیا ہے اور فتیل کیاہے اور سبدولبد کیا ہے طَم ّ وَرم ّ کیا ہے ؟ 
ہمیں یہ بتاؤ کہ کتّا بھونکتے وقت کیا کہتا ہے ؟
 گدھا ہینگتے وقت کیا کہتا ہے ؟ 
بیل ڈکارتے وقت کیا کہتا ہے ؟
 گھوڑا ہنہناتے وقت کیا کہتا ہے ؟
 اونٹ بلبلاتے وقت کیا کہتا ہے ؟
 مور چہچہاتے وقت کیا کہتا ہے ؟
 بلبل کوکتے وقت کیا کہتی ہے ؟
 مینڈک ٹرٹراتے وقت کیا کہتا ہے ؟
 جب ناقوس بجتا ہے تو کیا کہتا ہے ؟
 وہ قوم بتاؤ جن پر اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی ہو اور نہ انسان ہوں اور نہ جن اور نہ فرشتے ؟
 یہ بتاؤ کہ جب دن ہوتا ہے تو رات کہاں چلی جاتی ہے اور جب رات ہوتی ہے تو دن کہاں چلا جاتا ہے ؟
تو حضرت بایزید بسطامی نے فرمایا کہ کوئی اور سوال ہو تو بتاؤ۔ وہ پادری بولا کہ اور کوئی سوال نہیں۔ آپ نے فرمایا اگر میں ان سب سوالوں کا شافی جواب دے دوں تو تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایمان لاؤ گے۔ سب نے کہا ہاں، پھر آپ نے کہا اے اللہ تو ان کی اس بات کا گواہ ہے۔
پھر فرمایا کہ تمہارا سوال کہ ایسا ایک بتاؤ جس کا دوسرا نہ ہو وہ اللہ تعالےٰ واحد قہار ہے
 اور وہ دو جن کا تیسرا نہ ہو وہ رات اور دن ہیں لقولہ تعالیٰ ( سورة بنی اسرائیل آیت ۲۱)
 اور وہ تین جن کا چوتھا نہ ہووہ عرش اور کرسی اور قلم ہیں اور وہ چار جن کا پانچواں نہ ہو وہ چار بڑی آسمانی کتابیں تورات، انجیل ، زبور اورقرآن مقدس ہیں اور وہ پانچ جن کا چھٹا نہ ہو وہ پانچ فرض نمازیں ہیں اور وہ چھ جن کا ساتواں نہ ہو وہ چھ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایالقولہ تعالیٰ ( سورہ قاف، آیت ۸۳)
 اور وہ سات جن کا اّٹھواں نہ ہووہ سات آسمان ہیں لقولہ تعالیٰ (سورہ ملک آیت ۳)
 اور وہ آٹھ جن کا نواں نہ ہو وہ عرش بریں کو اُٹھانے والے آٹھ فرشتے ہیں لقولہ تعالیٰ (سورہ حآقّہ، آیت ۷۱)
 اور وہ نو جن کا دسواں نہ ہو وہ بنی اسرائیل کے نو فسادی شخص تھے لقولہ تعالیٰ (سورة نمل، آیت ۸۴) اوروہ د س جن کاگیارھواں نہ ہو وہ متمتع پر دس روزے فرض ہیں جب اس کو قربانی کی طاقت نہ ہو لقولہٰ تعالیٰ (سورة بقرہ، آیت۶۹۱) 
اور وہ گیارہ جن کا بارواں نہ ہو وہ یوسف علیہ السّلام کے بھائی ہیں۔ گیارہ ہیں۔ ان کا بارواں بھائی نہیں لقو لہ تعالیٰ (سورة یوسف، آیت ۴) 
اوروہ بارہ جن کا تیرواں نہ ہووہ مہینوں کی گنتی ہے لقولہ تعالیٰ (سورہ توبہ، آیت ۶۳) 
اور وہ تیرہ جن کا چودہواں نہ ہو وہ یوسف علیہ السّلام کا خواب ہے لقولہ تعالیٰ (سورة یوسف، آیت۴)
 اور وہ جھوٹی قوم جو بہشت میں جائی گی وہ یوسف علیہ السّلام کے بھائی ہیں کہ اللہ تعالےٰ نے ان کی خطا معاف فرمادی ۔ لقولہ تعالیٰ (سورة یوسف،آیت ۷۱)
 اور وہ سچی قو م جو دوزخ میں جائی گی وہ یہود و نصارےٰ کی قوم ہے لقولہ تعالیٰ (سورة بقرہ، آیت ۳۱۱) تو ان میں سے ہر ایک دوسرے کے دین کو لاشی بتانے میں سچّا ہے لیکن دونوں دوزخ میں جائیں گے. 
 اور وہ سچی قو م جو دوزخ میں جائے گی. 
اور تم نے جو سوال کیا ہے تیرا نام تیرے جسم میں کہاں رہتا ہے تو جواب یہ ہے کہ میرے کان میرے نام کے رہنے کی جگہ ہیں۔ اور اَلزَّارِیَاتِ ذرْواً چار ہوائیں ہیں ۔ مشرقی ، غربی، جنوبی، شمالی۔ اوراَلْحَامِلَاتِ وِقْراً بادل ہیں لقولہ تعالیٰ (سورة بقرہ آیت ۴۶۱ )
اور اَلْجَا رِیَاتِ یُسْراً سمندر میں چلنے والی کشتیاں ہیں اور اَلْمُقَسِّمَاتِ اَمْراً وہ فرشتے ہیں جوپندرہ شعبان سے دوسرے پندرہ شعبان تک لوگوں کا رزق تقسیم کرتے ہیں ۔ 
اور وہ چودہ جنہوں نے رَب تعالیٰ کے ساتھ گفتگوکی وہ سات آسمان اور سات زمینیں ہیں لقولہ تعالیٰ(سورة حٰم السّجدہ، آیت ۱۱) 
اور وہ قبرجو مقبور کو لے کر چلی ہو وہ یونس علیہ السّلام کو نگلنے والی مچھلی ہے۔
 اور بغیر روح کے سانس لینے والی چیزصبح ہے لقولہ تعالیٰ اور وہ پانی جو نہ آسمان سے اترا ہو اور نہ زمین سے نکلا ہو وہ پانی ہے جو گھوڑوں کا پسینہ بلقیس نے آزمائش کے لیے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا اور وہ چار جو کسی باپ کی پشت سے ہیں اور نہ شکم مادر سے وہ اسماعیل علیہ السّلام کی بجائے ذبح ہونے والا دنبہ اورصالح علیہ السلام کی اونٹنی اورآدم علیہ السلام اور حضرت حوّا ہیں ۔
 اور پہلا خون ناحق جو زمین پر بہایا گیا وہ آدم علیہ السلام کے بیٹے ہابیل کا خون ہے جسے بھائی قابیل نے قتل کیا تھا۔ 
اور وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی پھر اسے خرید لیا وہ مومن کی جان ہے لقولہ تعالیٰ (سورة توبہ، آیت ۱۱۱) 
اوروہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی پھر اسے ناپسند فرمایا ہو وہ گدھے کی آواز ہے لقولہ تعالیٰ (سورة لُقمان، آیت۹۱)
 اور وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہو پھر اُسے بُرا کہا ہو وہ عورتوں کا مکرہے لقولہ تعالیٰ (سورة یوسف، آیت ۸۲)
 اور وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہو پھر پوچھاہو کہ یہ کیا ہے وہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا ہے لقولہ تعالیٰ (سورة طٰہٰ آیت ۷۱)
 اور یہ سوال کہ کون سی عورتیں دنیا بھر کی عورتوں سے افضل ہیں وہ اُ م البشر حضرت حوّا اور حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ اور حضرت آسیہ اور حضرت مریم ہیں ۔ رَضی اللہ تعالیٰ عنہنَّ اجمعین۔
 باقی رہا افضل دریا وہ سیحون ، جیجون ، دجلہ ، فرات اور نیل مصر ہیں ۔
 او ر سب پہاڑوں سے افضل کوہِ طور ہے
 اور سب جانوروں سے افضل گھوڑا ہے
 اور سب مہینوں سے افضل مہینہ رمضان لقولہ تعالیٰ (سورة بقرہ ، آیت ۵۸۱)
 اور سب راتوں میں افضل رات لیلةالقدر ہے لقولہ تعالیٰ (سورة قدر، آیت ۳)
 اور تم نے پوچھا ہے کہ طاْمہ کیا ہے وہ قیامت کا دن ہے۔ اور ایسا درخت جس کی بارہ ٹہنیاں ہیں اور ہر ٹہنی کے تیس پتّے ہیں اور ہر پتّہ پر پانچ پھول ہیں جن میں سے دو پھول دھوپ میں ہیں اور تین سایہ میں ۔ توہ وہ درخت سال ہے۔ بارہ ٹہنیاں اس کے بارہ ماہ ہیں اور تیس پتّے ہر ماہ کے دن ہیں۔ اور ہر پتّے پر پانچ پھول ہر روز کی پانچ نمازیں ہیں دو نمازیں ظہر اور عصر آفتاب کی روشنی میں پڑھی جاتی ہیں اور باقی تین نمازیں اندھیرے میں۔
 اور وہ چیز جو بے جان ہو اور حج اس پر فرض نہ ہو پھر اس نے حج کیا ہو اور بیت اللہ کا طواف کیا ہو وہ نوح علیہ السّلام کی کشتی ہے ۔
 تم نے نبیوں کی تعداد پوچھی ہے پھر رسولوں اور غیر رسولوں کی تو کل نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں ۔ ان میں سے تین سو تیرہ رسول ہیں اور باقی غیر رسول۔
 تم نے وہ چار چیزیں پوچھی ہیں جن کا رنگ اور ذائقہ مختلف ہے حالانکہ جڑ ایک ہے۔وہ آنکھیں، ناک،منہ،کان ہیں۔ کہ مغزسر ان سب کی جڑ ہے۔ 
آنکھوں کا پانی نمکین ہے۔اور منہ کا پانی میٹھا ہے۔اور ناک کا پانی ترش ہے اور کانوں کا پانی کڑوا ہے۔تم نے نقیر (سورة نسا آیت ۴۲۱) ،قطمیر ( سورة فاطر آیت ۳۱) ،فتیل (بنی اسرائیل آیت ۱۷)۔ سبدولبد، طمّ ورَمّ کے معانی دریافت کیے ہیں۔کھجور کی گٹھلی کی پشت پر جو نقطہ ہوتا ہے اس کونقیر کہتے ہیں اور گٹھلی پرجو باریک چھلکا ہوتا ہے اس کو قطمیر کہتے ہیں اور گٹھلی کے اندر جو سفیدی ہوتی ہے اسے فتیل کہتے ہیں۔سبدولبدبھیڑبکری کے بالوں کو کہا جاتا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی آفرینش سے پہلے کی مخلوقات کو طمّ ورَمّ کہا جاتا ہے۔
 اور گدھا ہینگتے وقت شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے لَعَنَ اللّٰہ ُالْعَشَّار۔ اور کتا بھونکتے وقت کہتا ہے وَیْلُ لِاَھِلِ اْلنَّارِمِنْ غَضَبِ الْجَبَّارِ۔ اور بیل کہتا ہے سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہ۔ اور گھوڑا کہتا ہے سُبْحَانَ حَافِظِیْ اِذَا اَلتَقَت الْاَبْطَال َوَاشْتَعَلَتِ الرِّجَالُ بِالرِّجَال اور اونٹ کہتا ہے حَسْبِیَ اللّٰہ ُ وَکَفٰی بِاللٰہِ وَکِیْلاَ اور مور کہتا ہے الرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسّتَوٰی (سورہ طٰہٰ آیت ۵۱) ۔ اور بلبل کہتا ہے سُبْحَا نَ ا للّٰہ ِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَحِیْنَ تُصْبِحُوْنَ (سورة روم آیت ۷۱)۔ اورمینڈک اپنی تسبیح میں کہتا ہیسُبْحَانَ الْمَعْبُودِ فِیْ البَرَارِیْ وَالْقِفَارِ سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْجَبَّارِ ( سورة نحل آیت ۸۶) اور ناقوس جب بجتا ہے تو کہتا ہے سُبْحَانَ اللّٰہِ حَقَّا حَقَّا اُنْظُرْ یَاْبنَ اٰدَمَ فِی ھٰذِہِ الدُّنْیَا غَرْبًا وَّشَرْقًا مَّاتَرٰی فِیْھَا اَحَدًایَّبْقٰی۔ اور تم نے وہ قوم پوچھی ہے جن پر وحی آئی حالانکہ وہ نہ انسان ہیں نہ فرشتے اور نہ جن۔ وہ شہد کی مکھیاں ہیں لقولہ تعالیٰ (سورة نحل آیت ۸۶) 
تم نے پوچھا ہے کہ جب رات ہو تی ہے تو دن کہاں چلا جاتا ہے اور جب دن ہوتا ہے تو رات کہاں ہوتی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے جب دن ہوتا ہے تورات اللہ تعالیٰ کے غا مض علم میں چلی جاتی ہے ۔ اور جب رات ہوتی ہے تو دن اللہ تعالیٰ کے غامض علم میں چلا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وہ غامض علم کہ جہاں کسی مقرب نبی یا فرشتہ کی رسائی نہیں ۔
 پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا کوئی ایسا سوال رہ گیا ہے جس کا جواب نہ دیا گیا ہو ۔ انہوں نے کہا نہیں ۔ سب سوالوں کے صحیح جواب دیے ہیں.
 تو آپ نے اس بڑے پادری سے فرمایا کہ میں تم سے صرف ایک بات پوچھتا ہوں اس کا جواب دو۔ وہ یہ ہے کہ آسمانوں کی کنجی اور بہشت کی کنجی کون سی چیز ہے۔ تو وہ پادری سر بگر یباں ہوکر خاموش ہو گیا تو سب پادری اس سے کہنے لگے کہ اس شیخ نے تمہارے اس قدر سوالوں کے جواب دیئے لیکن آپ اس کے ایک سوال کا جواب بھی نہیں دے سکتے وہ بولا کہ جواب مجھے آتا ہے۔ اگر میں وہ جواب بتاؤں تو تم لوگ میری موافقت نہیں کرو گے۔ سب نے بیک زباں کہا کہ آپ ہمارے پیشوا ہیں ۔ ہم ہر حالت میں آپ کی موافقت کریں گے۔ تو بڑے پادری نے کہا آسمانوں کی کنجی اور بہشت کی کنجی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ مُحَّمدُ رَّسُولُ اللہ ہے ۔ تو سب کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے اور اپنے اپنے زنار وہیں توڑ دیے ۔

بچے پاک فطرت پہ پیدا ہوتے ہیں

*بچے پاک فطرت پہ پیدا ہوتے ہیں*

والد کتاب پڑھنے میں مشغول ہیں، والدہ کچن میں برتن دھو رہی ہیں اور بچہ ہال میں کھلونوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ 

ٹیلیفون بجتا ہے ماں کام چھوڑ کر ٹیلیفون کی طرف جانا چاہتی ہیں لیکن والد ان سے پہلے ہی اٹھ کر فون اٹھا لیتے ہیں۔ فون پر بات کرکے دوبارہ مطالعہ شروع کر دیتے ہیں۔

 والد گھر میں نہیں، بچہ مسلسل ماں کا دامن کھینچ رہا ہے کہ میرے ساتھ کھیلیں لیکن ماں کھانا بنانے میں مصروف ہیں اس لیے کہتی ہیں : تھوڑا صبر کرو بیٹا چند منٹ بعد آؤں گی۔ اچانک فون بجتا ہے، ماں کام چھوڑ کر فون اٹھاتی ہیں۔

 بچہ چند دنوں سے اس بات کو نوٹ کر رہا ہے (فون کی آواز سن کر کام چھوڑ کر جواب دینا)

 آج بھی فون بجا بچہ جو کاپی میں رنگ کر رہا تھا، فوراً فون کا جواب دینے اٹھا سب سے پہلے اس نے فون اٹھایا لیکن ماں نے مسکرا کر اس کے ہاتھوں سے فون لے لیا۔

 اب آگے دیکھئے!!! 

بچہ اپنی گاڑی سے کھیل رہا ہیں ، ماں کپڑے استری کررہی ہے، والد صوفے پہ لیٹے اخبار پڑھ رہے ہیں۔

 مسجد سے اذان کی آواز آتی ہے بچہ سر اٹھاکر ایک نظر باہر ڈالتا ہے اور آواز کو ڈھونڈتا ہے پھر ایک نظر اپنے والدین پر کوئی خاص حرکت نہیں دیکھی دوبارہ کھیلنے میں مصروف ہوگیا۔

 ماں پھلوں کی پلیٹ لے کر والد کے نزدیک بیٹھتی ہیں۔ بچے کو اپنی گود میں بٹھاتی ہیں۔ سب میوے کھانے میں مصروف ہیں۔ اذان کی آواز آتی ہے، بچہ پھر آواز کی طرف توجہ کرتا ہے، والدین کی طرف سے کوئی اقدام دیکھنا چاہتاہے لیکن چند روز تک ایسے ہی ہوتا ہے۔

 آج پھر گھر میں سب اپنے کاموں میں لگےہوئے ہیں اور بچہ کھیلنے میں۔ اذان کی آواز آتی ہے لیکن بچہ سر اٹھا کہ بھی نہیں دیکھتا۔

 یہ وہی فرمانِ حضور اکرم ﷺ ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے
 
 *"بچے پاک فطرت پہ پیدا ہوتے ہیں، یہ ماں باپ ہیں جو اسے بے دین کرتے ہیں"* 

 اگر والدین اذان کی آواز سن کر کام کاج چھوڑ کر نماز کی طرف جائیں تو بچے کے تحت شعور میں محفوظ ہو جائے گا کہ اذان کی آواز آئے تو کیا کرنا ہوتا ہے؟

 جیسے فون کی آواز کے بعد کا رد عمل اس کے ذہن میں رہ گیا۔

اسی طرح ہمارے عمل سے بچہ نماز سے آشنا ہوتا ہےاور بغیر بولے ہمارے عمل سے سیکھتا ہے۔

اب یہ والدین کے ذمہ ہے کے وہ اپنے بچے کو کیا سکھاتے ہیں۔تحریر پڑھ کر اپنے ذہن میں تربیت کے لئے بہت سی چیزیں ہم تیار کر سکتے ہیں۔

حضرت بہلول دانا رحمۃ اللہ علیہ

حضرت بہلول دانا رحمۃ اللہ علیہ
خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں بغداد میں ایک درویش رہتے تھے۔ان درویش کا نام بہلول دانا تھا ۔بہلول دانا بیک وقت ایک فلاسفر اور ایک تارک الدنیا درویش تھے ۔ان کا کوئی گھر ،کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔وہ عموما شہر میں ننگے پاؤں پھرتے تھے اور جس جگہ تھک جاتے وہیں ڈیرہ ڈال لیتے۔ بعض لوگوں نے انہیں مجذوب لکھا ہے۔ کہ یہ اللہ کی تجلیات اور عشق میں مستغرق اور گم رہتے تھے۔اور اپنے اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوتے تھے۔ بہت کم لوگوں کی طرف التفات کرتے تھے۔ اور جب کبھی عوام الناس کی طرف منہ کرتے تو حکمت و دانائی کی بہت ہی عجیب و غریب باتیں کرتے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اللہ کے بہت بڑے ولی کامل تھے ۔ ان کا ا صل نام وہب بن عمرو تھا۔
مجذوب کی تعریف دارلافتا ءاہلسنت میں یوں تحریر ہے۔"مجذوب اللہ کے عشق میں مستغرق لوگ ہوتے ہیں، ان لوگوں کا اللہ کے ساتھ کیا راز وابستہ ہے جس کا پتہ لگانا انتہائی مشکل کام ہے، نیز یہ لوگ اللہ کے عشق میں پاگل ہوتے ہیں، چنانچہ کبھی کبھار بظاہر خلاف شرع قول یا فعل ان سے سرزد ہوجاتا ہے۔، لیکن کسی دوسرے کو اس بات کی طرف کان نہیں دھرنا چاہیے، اور نہ ہی اس کی ترویج و اشاعت کرنی چاہیے، یہ لوگ اللہ کے ایسے محبوب ہوتے ہیں کہ اللہ تعالٰیٰ ان کی ٹیڑھی سیدھی ہربات کو پسند کرتا ہے، ہمیں ان کے پوشیدہ حالات کا علم نہیں ہے، اس لیے اس سلسلہ میں کوئی لب کشائی نہ کرنی چاہیے۔ واللہ تعالی اعلم"
مشہور واقعہ
ایک دن بہلول دریا کے کنارے بیٹھے ساحل کی گیلی ریت کو اپنے سامنے جمع کر کے اس کی ڈھیریاں بنا رہےتھے۔ اور ملکہ زبیدہ اپنے محل کے جھروکے سے بڑے انہماک سے ان کو یہ کام کرتے دیکھ رہی تھی وہ مٹّی کی ڈھیری بناتے اور پھر اپنے ہاتھ سے ہی اس کو مسمار کر دیتے ملکہ جھروکے سے اتر کر اپنی سہیلیوں کے ہمراہ دریا کے کنارے آ گئ اور بہلول سے پوچھا کیا کر رہے ہو بہلول ؟
بہلول نے ادائے بے نیازی سے کہا جنّت کے محل بنا رہا ہوں ،،
ملکہ نے سوال کیا اگر کوئی تم سے یہ محل خریدنا چاہے تو کیا تم کو اس کو فروخت کرو گے ،
بہلول نے کہا ہاں ہاں ! کیوں نہیں۔ میں بناتا بھی ہوں اور فروخت بھی کرتا ہوں
تو بتاؤ ایک محل کی قیمت کیا ہے ملکہ کے سوال کرتے ہی بہلول نے بے ساختہ کہا تین درہم ،
ملکہ زبیدہ نے اسی وقت اپنی کنیزوں کو حکم دیا کہ بہلول کو تین درہم ادا کئے جائیں ۔ اور ادا کردئیے گئے۔
یہ تمام واقعہ ملکہ نے اپنے شوہر خلیفہ ہارون الرشید کو بتایا۔خلیفہ نے اس واقعہ کو مذاق میں ٹال دیا۔
رات کو جب ہارون الرشیدسوئے تو انہوں نے خواب میں جنت کے مناظر دیکھے ، آبشاریں، مرغزاریں اور پھل پھول وغیرہ دیکھنے کے علاوہ بڑے اونچے اونچے خوبصورت محلات بھی دیکھے، ایک سرخ یاقوت کے بنے ہوئے محل پر انہوں نے زبیدہ کا نام لکھا ہوا دیکھا۔ ہارون الرشیدنے سوچا کہ میں دیکھوں تو سہی کیوں کہ یہ میری بیوی کا گھر ہے۔ وہ محل میں داخل ہونے کے لیئے جیسے ہی دروازے پر پہنچے تو ایک دربان نے انہیں روک لیا۔ ہارون الرشیدکہنے لگے ، اس پر تو میری بیوی کا نام لکھا ہوا ہے، اس لیئے مجھے اندرجانا ہے، دربان نے کہا نہیں، یہاں کا دستور الگ ہے، جس کا نام ہوتا ہے اسی کو اندر جانے کی اجازت ہوتی ہے، کسی اور کو اجازت نہیں ہوتی، لہذا آپ کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ جب دربان نے ہارون الرشید کو پیچھے ہٹایا تو ان کی آنکھ کھل گئی۔
بیدار ہونے پر فوراً خیال آیا کہ مجھے تو لگتا ہےکہ بہلول کی دعا زبیدہ کے حق میں اللہ رب العزت کے ہاں قبول ہوگئی، وہ ساری رات اسی افسوس میں کروٹیں بدلتے رہے۔
چنانچہ وہ شام کو بہلول کو تلاش کرتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے کہ اچانک انہوں نے دیکھا کہ بہلول ایک جگہ بیٹھے اسی طرح مکان بنا رہے ہیں، ہارون الرشید نے اسلام وعلیکم کہا، بہلول نے جواب دیا وعلیکم سلام، ہارون الرشیدنے پوچھا، کیا کررہے ہیں؟ بہلول نے کہا، جنّت کے محل بنا رہا ہوں۔ ہارون الرشیدنے پوچھا ۔ بیچو گے ۔تو بہلول نے کہا ہاں ہاں ! کیوں نہیں۔ میں بناتا بھی ہوں اور فروخت بھی کرتا ہوں۔
تو بتاؤ ایک محل کی قیمت کیا ہے۔بہلول نے بے ساختہ کہا تیری پوری سلطنت۔
ہارون الرشیدنے کہا ، اتنی قیمت تو میں نہیں دے سکتا، کل تو آپ تین درہم کے بدلے دے رہے تھے، اور آج پوری سلطنت مانگ رہے ہیں؟ بہلول دانا نے کہا، خلیفہ! کل بن دیکھےمعاملہ تھا اور آج تم محل دیکھ کر آئے ہو۔ خلیفہ یہ سن کر گھٹنوں کے بل بہلول دانا کے سامنے مایوس ہوکر بیٹھ گئے۔ اور کہا حضرت آپ مجھ سے میری ساری سلطنت لے لیں۔ اور مجھے ایک محل دے دیں۔ جب بہلول دانا نے خلیفہ کی عاجزی دیکھی تو کہا ۔ کہ میں تمہاری اس سلطنت کا کیا کروں گا۔ اس دنیا کی محبت تو بہت سے گناہوں کی جڑ ہے۔جاؤ اپنی سلطنت اپنے پاس رکھو ۔اس محل کو بھی تمہارے لئے تین درہم میں فروخت کرتا ہوں۔
-----------------------------
حضرت سیِّدُناسری سقطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''ایک بار مجھے قبرستان جانا ہوا۔ وہاں میں نے حضرت سیِّدُنا بہلول دانا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو دیکھا کہ ایک قبر کے قریب بیٹھے مِٹی میں لوٹ پوٹ ہو رہے ہیں۔میں نے پوچھا:''آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟'' جواب دیا:''میں ایسی قوم کے پاس ہوں جو مجھے اذیت نہیں دیتی اور اگر میں غائب ہوجاؤں تو میری غیبت نہیں کرتی۔'' میں نے عرض کی:''روٹی مہنگی ہو گئی ہے ؟'' تو فرمانے لگے:''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !مجھے کوئی پرواہ نہیں،اگرچہ ایک دانہ دینار کا ملے۔ ہم پر اس کی عبادت فرض ہے جیسا کہ اس نے ہمیں حکم دیا ہے اور ہمارا رزق اس کے ذمۂ کرم پر ہے جیسا کہ اس نے ہم سے وعدہ کر رکھا ہے۔''
------------------------
ایک مرتبہ کسی نے کہا : ’’ بہلول ! بادشاہ نے تمہیں پاگلوں کی مردم شماری کا حکم دیا ہے۔‘‘ فرمایا : ’’ اس کے لئے تو ایک دفتر درکار ہوگا۔ ہاں دانا گننے کا حکم ہو تو انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں - 
-----------------------
ایک دن بہلول بازار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی شخص نے پوچھا بہلول کیا کر رہے ہو تو بہلول نے کہا کہ بندوں کی اللہ سے صلح کروا رہا ہوں۔ 
اس شخص نے کہا کہ پھر کیا بنا؟
بہلول نے کہا کہ اللہ تو مان رہا ہے لیکن بندے نہیں مان رہے۔
کچھ عرصہ بعد اسی شخص کا ایک قبرستان کے پاس سے گزر ہوا تو دیکھا بہلول قبرستان میں بیٹھے ہیں۔
قریب جا کر پوچھا بہلول کیا کر رہے ہو۔
بہلول نے کہا بندوں کی اللہ سے صلح کروا رہا ہوں۔
اس شخص نے کہا کہ پھر کیا بنا؟
بہلول نے کہا بندے تو مان رہے ہیں مگر آج اللہ نہیں مان رہا ہے۔

پیر، 14 اگست، 2023

ﺍﺭﺩﻭ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ

‏"ﺍﺭﺩﻭ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ"
ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﭽﮧ ﮐﻮ ﮨﻢ ﺑﭽﮧ ﮨﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
مثلاً ﺳﺎﻧﭗ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ،
ﺍﻟﻮ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ،
ﺑﻠﯽ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ،
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ
ﺍﻥ ﮐﮯ لئے ﺟﺪﺍ ﺟﺪﺍ ﻟﻔﻆ
ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﺜﻼً :
ﺑﮑﺮﯼ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ : ﻣﯿﻤﻨﺎ
ﺑﮭﯿﮍ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ : ﺑﺮّﮦ
ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ : ﭘﺎﭨﮭﺎ
ﺍﻟﻮّ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ : ﭘﭩﮭﺎ
ﺑﻠﯽ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ : ﺑﻠﻮﻧﮕﮍﮦ
ﺑﭽﮭﯾﺮﺍ : ﮔﮭﻮﮌﯼ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ
ﮐﭩﮍﺍ : ﺑﮭﯿﻨﺲ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ
ﭼﻮﺯﺍ : ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ
ﺑﺮﻧﻮﭨﺎ : ﮨﺮﻥ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ
ﺳﻨﭙﻮﻻ : ﺳﺎﻧﭗ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ
ﮔﮭﭩﯿﺎ : ﺳﻮﺭ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ

ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﻌﺾ ﺟﺎﻧﺪﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ
ﺟﺎﻧﺪﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﮭﯿﮍ ﮐﮯ لئے 
ﺧﺎﺹ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﻘﺮﺭ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﻮ ﺍﺳﻢ ﺟﻤﻊ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ؛
ﻣﺜﻼً :
ﻃﻠﺒﺎﺀ ﮐﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ،
پرﻧﺪﻭﮞ ﮐﺎ غول،
ﺑﮭﯿﮍﻭﮞ ﮐﺎ ﮔﻠﮧ، 
ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﯾﻮﮌ،
ﮔﻮﻭﮞ ﮐﺎ ﭼﻮﻧﺎ ،
ﻣﮑﮭﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﮭﻠﮍ،
ﺗﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺟﮭرﻣﭧ ﯾﺎ ﺟﮭﻮﻣﮍ ،
ﺍٓﺩﻣﯿﻮں ﮐﯽ ﺑﮭﯿﮍ ،
ﺟﮩﺎﺯﻭﮞ ﮐﺎ ﺑﯿﮍﺍ ،
ﮨﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﮈﺍﺭ،
ﮐﺒﻮﺗﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﭨﮑﮍﯼ،
ﺑﺎﻧﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻨﮕﻞ ،
ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﮭﻨﮉ،
ﺍﻧﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﮐﻨﺞ ،
ﺑﺪﻣﻌﺎﺷﻮﮞ ﮐﯽ ﭨﻮﻟﯽ ،
ﺳﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﮧ،
ﺍﻧﮕﻮﺭ ﮐﺎ ﮔﭽﮭﺎ،
ﮐﯿﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﮩﻞ ،
ﺭﯾﺸﻢ ﮐﺎ ﻟﭽﮭﺎ،
ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺟﺘﮭﺎ،
ﻓﻮﺝ ﮐﺎ ﭘﺮّﺍ،
ﺭﻭﭨﯿﻮﮞ ﮐﯽﭨﮭﭙﯽ،
ﻟﮑﮍﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﭩﮭﺎ،
ﮐﺎﻏﺬﻭﮞ کی ﮔﮉﯼ،
ﺧﻄﻮﮞ ﮐﺎ ﻃﻮﻣﺎﺭ،
ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﮔُﭽﮭﺎ،
ﭘﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﮈﮬﻮﻟﯽ،
ﮐﻼﺑﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻨﺠﯽ ۔

ﺍﺭﺩﻭ ﮐﯽ ﻋﻈﻤﺖ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﺍﺱ ﺳﮯکیجئے ﮐﮧ ﮨﺮ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﯽﺻﻮﺕ ﮐﮯ لئے ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﻟﻔﻆ ﮨﮯ، 
ﻣﺜﻼ :
ﺷﯿﺮ ﺩﮬﺎڑﺗﺎ ﮨﮯ ، 
ﮨﺎﺗﮭﯽ ﭼﻨﮕﮭﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﮔﮭﻮﮌﺍ ﮨﻨﮩﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ ، 
ﮔﺪﮬﺎ ﮨﯿﭽﻮﮞ ﮨﯿﭽﻮﮞ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﮐﺘﺎ ﺑﮭﻮﻧﮑﺘﺎ ﮨﮯ ،
ﺑﻠﯽ ﻣﯿﺎﺅﮞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ،
ﮔﺎﺋﮯ ﺭﺍﻧﺒﮭﺘﯽ ﮨﮯ ، 
ﺳﺎﻧﮉ ﮈﮐﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﺑﮑﺮﯼ ﻣﻤﯿﺎﺗﯽ ﮨﮯ ، 
ﮐﻮﺋﻞﮐﻮﮐﺘﯽ ﮨﮯ ، 
ﭼﮍﯾﺎ ﭼﻮﮞ ﭼﻮﮞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ،
ﮐﻮﺍ ﮐﺎﺋﯿﮟ ﮐﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎﮨﮯ ،
ﮐﺒﻮﺗﺮ ﻏﭩﺮ ﻏﻮﮞ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﻣﮑﮭﯽﺑﮭﻨﺒﮭﻨﺎﺗﯽ ﮨﮯ ، 
ﻣﺮﻏﯽ ککڑاتی ﮨﮯ، 
ﺍﻟﻮ ﮨﻮﮐﺘﺎ ﮨﮯ ،
ﻣﻮﺭ ﭼﻨﮕﮭﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ، 
ﻃﻮﻃﺎ ﺭﭦ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﻣﺮﻏﺎ ﮐﮑﮍﻭﮞ کوں ﮐﮑﮍﻭﮞ ﮐﻮﮞ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﭘﺮﻧﺪﮮ ﭼہچہاتے ﮨﯿﮟ ،
ﺍﻭﻧﭧ ﺑﻐﺒﻐﺎﺗﺎ ﮨﮯ،
ﺳﺎﻧﭗ ﭘﮭﻮﻧﮑﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﮔﻠﮩﺮﯼ ﭼﭧ ﭼﭩﺎﺗﯽ ﮨﮯ ،
ﻣﯿﻨﮉﮎ ٹرّﺍﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﺟﮭﯿﻨﮕﺮ ﺟﮭﻨﮕﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﺑﻨﺪر ﮔﮭﮕﮭﯿﺎﺗﺎ ﮨﮯ ،

*ﮐﺌﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯﻭﮞ ﮐﮯ لئے ﻣﺨﺘﻠﻒ
ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮨﯿﮟ*
ﻣﺜﻼ
ﺑﺎﺩﻝ ﮐﯽ ﮔﺮﺝ، 
ﺑﺠﻠﯽ ﮐﯽ ﮐﮍﮎ ،
ﮨﻮﺍ ﮐﯽﺳﻨﺴﻨﺎﮨﭧ ، 
ﺗﻮﭖ کی ﺩﻧﺎﺩﻥ ، 
ﺻﺮﺍﺣﯽ ﮐﯽ ﮔﭧ ﮔﭧ ،
ﮔﮭﻮﮌﮮ کی ﭨﺎﭖ ، 
ﺭﻭپیوں کی ﮐﮭﻨﮏ ، 
ﺭﯾﻞ ﮐﯽ ﮔﮭﮍ ﮔﮭﮍ، 
ﮔﻮﯾﻮﮞ کی ﺗﺎﺗﺎ ﺭﯼ ﺭﯼ، 
ﻃﺒﻠﮯ کی ﺗﮭﺎﭖ، 
ﻃﻨﺒﻮﺭﮮ ﮐﯽ ﺁﺱ، 
گھڑی کی ٹک ٹک،
ﭼﮭﮑﮍﮮ ﮐﯽ ﭼﻮﮞ،
ﺍﻭﺭ 
ﭼﮑﯽ کی ﮔﮭُﻤﺮ۔

*ﺍﻥ ﺍﺷﯿﺎﺀ ﮐﯽ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﮐﮯ لئے ﺍﻥ
ﺍﻟﻔﺎﻅ ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﮐﯿﺠﯿﮯ* :
ﻣﻮﺗﯽ ﮐﯽ ﺁﺏ ، 
ﮐﻨﺪﻥ ﮐﯽ ﺩﻣﮏ، 
ﮨﯿﺮے ﮐﯽ ﮈﻟﮏ ، 
ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﮐﯽ ﭼﻤﮏ ، 
ﮔﮭﻨﮕﮭﺮﻭ ﮐﯽ ﭼﮭُﻦ ﭼﮭُﻦ ،
ﺩﮬﻮﭖ ﮐﺎ ﺗﮍﺍﻗﺎ ،
ﺑﻮ ﮐﯽ ﺑﮭﺒﮏ ،
ﻋﻄﺮ ﮐﯽ ﻟﭙﭧ ،
ﭘﮭﻮﻝ ﮐﯽ ﻣﮩﮏ ۔

ﻣﺴﮑﻦ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﻟﻔﺎﻅ
ﺟﯿﺴﮯ 
ﺑﺎﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﻣﺤﻞ ،
ﺑﯿﮕﻤﻮﮞ کا ﺣﺮﻡ ،
ﺭﺍﻧﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﻮﺍﺱ،
ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮎ ، 
ﺭﺷﯽ ﮐﺎ ﺁﺷﺮﻡ ،
ﺻﻮﻓﯽ ﮐﺎ ﺣﺠﺮﮦ ،
ﻓﻘﯿﮧ ﮐﺎ ﺗﮑﯿﮧ ﯾﺎ ﮐﭩﯿﺎ ،
ﺑﮭﻠﮯ ﻣﺎﻧﺲ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ، 
ﻏﺮﯾﺐ کا ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﺍ ، 
ﺑﮭﮍﻭﮞ ﮐﺎ ﭼﮭﺘﺎ ، 
ﻟﻮﻣﮍﯼ کی ﺑﮭﭧ ،
ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﺎ ﮔﮭﻮﻧﺴﻠﮧ ، 
ﭼﻮﮨﮯ ﮐﺎ ﺑﻞ ،
ﺳﺎﻧﭗ ﮐﯽ ﺑﺎﻧﺒﯽ ،
ﻓﻮﺝ ﮐﯽ ﭼﮭﺎﻭﻧﯽ،
ﻣﻮﯾﺸﯽ ﮐﺎ ﮐﮭﮍﮎ ،
ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﺎ ﺗﮭﺎﻥ
(اقتباس: ﺷﻮﺭﺵ ﮐﺎﺷﻤﯿﺮﯼ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ “ﻓﻦ ﺧﻄﺎﺑﺖ“ سے)

ہفتہ، 12 اگست، 2023

مولانا روم رحمتۂ الله علیه فرماتے هیں

مولانا روم رحمتۂ الله علیه فرماتے هیں
 
ایک شخص مسجد میں نماز ادا کرنے کیلئے اندھیری رات میں گھر سے نکلا ،اندھیرے کی وجه سے ٹھوکر لگی اور وه منه کے بل کیچڑ میں گر گیا .کیچڑ سے اٹھ کر وه گھر واپس گیااور لباس تبدیل کر کے دوبارہ مسجد کی طرف چل دیا .ابھی چند قدم هی چلا تھا کۂ دوبارہ ٹھوکر لگی اور وه دوبارہ کیچڑ میں گر گیا .کیچڑ سے اٹھ کر وه ایک بار پھر گھر واپس گیا اور لباس تبدیل کر کے مسجد جانے کیلئے دوبارہ گھر سے نکل آیا .اپنے گھر کے دروازے پر اسے ایک شخص ملا جو اپنے هاتھ میں ایک روشن چراغ تھامے هوئے تھا .چراغ والا شخص چپ چاپ نمازی کے آگے آگے مسجد کی طرف چل دیا .اس بار چراغ کی روشنی میں نمازی کو مسجد تک پہنچنے میں کسی دشواری کا سامنا نه کرنا پڑا اور وه بخیریت مسجد تک پہنچ گیا .مسجد کے دروازے پر پہنچ کر چراغ والا شخص رک گیا .نمازی اسے وهیں چھوڑ کر مسجد میں داخل هو گیا اور نماز ادا کرنے لگا .نماز سے فارغ هو کر وه مسجد سے باهر آیا تو اس نے دیکھا چراغ والا شخص اس کا منتظر هے تاکہ اسے دوبارہ چراغ کی روشنی میں گھر تک چھوڑ آئے .جب نماذی گھر پہنچ گیا تونمازی نے اس اجنبی سے پوچھا ،آپ کون هیں اجنبی بولا ،سچ بتاؤں تو میں ابلیس شيطان هوں .نمازی کی حیرت کی انتہا نه رهی ،اس نے پوچھا ،تجھے تو میری نماز رھ جانے پر خوش هونا چاهئے تھا .پھر تو چراغ کی روشنی میں مجھے مسجد تک کیوں لایا ؟ابلیس شيطان نے جواب دیا ،جب تجھے پہلی ٹھوکر لگی تو الله نے تیرے عمر بھر کے گناه معاف فرما دئے .جب دوسری ٹھوکر لگی تو تیرے سارے خاندان کو بخش دیا .مجھے فکر هوئی کۂ اب اگر تو ٹھوکر کھا کر گرا تو کہیں الله تیرے سارے گاؤں کی مغفرت نه فرما دے ،اس لئے چراغ لے کر آیا هوں کۂ تو بغیر گرے مسجد تک پہنچ جائے .

مرد کی غیرت

*مرد کی غیرت*
ایک عورت نے اپنے شوہر کے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا کہ اس کے ذمہ میرے حق مہر کے500 دینار ہیں۔

عدالت نے شوہر کو بلا کر پوچھا تو اس نے انکار کر دیا۔

عدالت نے گواہوں کو طلب کیا اور ان سے گواہی لیتے وقت عورت کا چہرہ پہچاننے کے لئے عورت کو نقاب اتارنے کا کہا۔

اس پر اس کا شوہر جلدی سے کھڑا ہو کر کہنے لگا کہ قاضی صاحب ۔میں تسلیم کرتا ہوں کہ مجھ پر میری بیوی کے 500 دینار لازم ہیں ۔ بس آپ اس کا نقاب نہ اتروائیے ۔

یہ سن کر بیوی کہنے لگی کہ قاضی صاحب آپ اور تمام حاضرین گواہ رہیں کہ میں نے اپنا حق مہر معاف بخش دیا ان کو ۔
قاضی بے چارہ حیران و پریشان کہ یہ ہو کیا رہا ہے ۔

خیر ان میاں بیوی کے جانے کے بعدقاضی نے محرر سے کہا کہ
اس کیس کا الگ فائل بناو اور نام لکھو

“مرد کی غیرت ”

علامہ ابن قیم فرما تے ہیں کہ ” انسان کے دل میں غیرت ہوتی ہے ۔اور اگر غیرت نہ ہو تو اس دل میں محبت ہو ہی نہیں سکتی ۔اور محبت سے خالی دل میں ایمان اور دین کیسے باقی رہ سکتے ہیں۔

المیہ ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں حوا کی بیٹی اود عصمت مسلم کو بلا روک ٹوک نیم برہنہ کرنے پر امت فخر کر رہی ہے اور اسلام کا وقار چند ٹکوں کی بھینٹ چڑ چکا ہے ۔

سومحبت کیجئے حلال کیجئے ۔اسلامی غیرت و حمیت کا جنازہ نکالنے سے پرہیز کریں۔

بدھ، 9 اگست، 2023

خود احتسابی

ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جنگل سے گزر رہے تھے راستہ میں کھانے کے لیے رکے وہاں ایک لڑکے کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے حضرت نے اس بچے کو کھانے پہ بلایا تو اس نے کہا میرا (نفل) روزہ ہے تو حضرت نے اس کے امتحان کے لیے کہا کہ ایک بکری ہمیں دیدو ہم اس کی قیمت بھی دیں گے اور کچھ گوشت بھی اس نے کہا کہ یہ بکریاں میرے نہیں ہیں میرے آقا کے تو حضرت نے کہا کہ مالک سے کہنا بھیڑیے نے کھالیا اس لڑکے نے ایسا جواب دیا کہ سنہری حروف میں لکھا جانے والا تھا کہا کہ *اللہ کہاں جائے گا* اور ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کے وقت گشت فرمارہے ہیں ایک گھر کے سامنے سے گزررہے تھے کہ گھر میں سے آواز آئی ماں بیٹی سے کہہ رہی ہے کہ بیٹا آج بکریوں نے دودھ کم دیا ہے دودھ میں پانی ملادینا(یہاں ماں اپنی بیٹی کا امتحان لےرہی ہے) بیٹی نے کہا امیرالمومنین نے منع فرمایا ہے ماں نے کہا اتنی رات کو امیرالمومنین کہاں دیکھنے آرہے ہیں اس لڑکی کا جواب یہی تھا *امیرالمومنین تو نہیں دیکھ رہے ہیں لیکن امیرالمومنین کا آقا تو دیکھ رہا ہے*
یہی بات ہر مسلمان کے اندر پیدا ہو کہ میں جو تنخواہ لےرہا ہوں اتنی محنت بھی مجھ سے ہورہی ہے کہ نہیں اس کے لیے ہر وقت دل میں اللہ کا استہضار ہوکہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے تو پھر بندہ  کےلیے محنت کرنا کوئ مشکل نہیں اس خیال کے ساتھ اگر محنت کی جائے تو نتیجہ بھی ملےگا میرے خیال میں یہی *خود احتسابی* ہے اس پر تنخواہ کی شکل میں مال بھی ملےگا اور اللہ کی طرف سے اجر بھی ان شاء الله

اللہ کے نبی سے کھجور کے درخت کا سودا

*اللہ کے نبی سے کھجور کے درخت کا  سودا*
 ایک صحابی آئے یا رسول اللہ میرا پڑوسی ہے اس کی کھجور ٹیڑھی ہو کر میرے گھر میں چند اس کی شاخیں ہیں۔ اس پر جب پھل لگتا ہے اور ٹوٹ کر گرتا ہے تو میرے بچے اٹھا لیتے ہیں ہم غریب ہیں تو وہ بھاگتا ہوا آتا ہے اور آکر میرے بچوں کے منہ میں سے کھجور کو نکال لیتا ہے۔ یا رسول اللہ آپ اس کو کہیں کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچوں پر اتنی زیادتی نہ کرے۔ آپ نے اسے بلایا وہ منافق تھا۔ آپ نے فرمایا بھئی ایک سودا کرتے ہو؟ اس نے پوچھا کون سا سودا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ کھجور کا درخت مجھے دے دو اور اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں کھجور کا درخت لے کر دونگا۔ وہ کہنے لگا یارسول اللہ یہ اصل میں میرے بچوں کو بہت پسند ہے اگر کوئی اور کھجور ہوتی تو میں دے دیتا  تو یہ میری معزرت ہے یا رسول اللہ اور چلا گیا۔
ایک صحابی بیٹھے تھے ابو دحداح وہ کہنے لگے یا رسول اللہ اگر میں وہ کھجور کا درخت لے دوں تو مجھے جنت میں کھجور کا درخت لیں دیں گے آپ؟ آپ نے فرمایا ہاں تو مجھے لے دے اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں کھجور کا درخت لے دوں گا۔ وہ صحابی اٹھ کر اس منافق کے پیچھے چلے گئے اور بلایا اے بھائی بات سنو، کھجور کا درخت کتنے کا بیچو گے؟ اس نے کہا میں نے اللہ کے نبی کو نہیں دیا تمہیں کیسے دے دوں۔ انہوں نے کہا اچھا بھائی منہ سے بول کتنے پیسے لو گے۔ تو اس نے جان چھڑانے کے لیے کہا کہ اپنا سارا باغ مجھے دے دے اور یہ ایک کھجور کا درخت لے لے اور باغ میں 600 کھجور کے درخت اور یہ کھجور کا درخت کسی اور کو دینا ہے وہ کہنے لگے پکے ہو؟ سودے سے پھرو گے تو نہیں؟ کہا میں پاگل ہوں کہ میں مکر جاؤں گا مجھے 600 کھجور کے درخت مل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا مجھے منظور ہے کھجور کا درخت میرا اور سارا باغ تیرا۔
 ابودحداح گئے اور باغ کے باہر کھڑے ہوگئے اندر بھی داخل نہ ہوئے اور جیب میں جو پیسے تھے وہ بھی زمین کے اندر ڈال دیے کہ یہ بھی باغ کی کمائی ہے اور باغ کا جنت کے بدلے سودا کر دیا ہے اللہ کے نبی سے اور اپنی بیوی کو آواز دی باہر آؤ یہ باغ اب ہمارا نہیں ہے، اس باغ کا اللہ کے نبی کے ساتھ سودا کر آیا ہوں بیوی نے جب اللہ کے نبی کا نام سنا تو وہ بھی بچوں کو لے کر باغ سے باہر آگئی اور کہا تم نے بہت خوبصورت سودا کیا۔
حضرت ابو دحداح اللہ کے نبی کے پاس گئے  یارسول اللہ میں نے سودا کر لیا ہے۔ فرمایا ابو دحداح کیسے کیا سودا ؟ کہا یارسول اللہ سارا باغ دے دیا اور وہ کھجور کا درخت لے لیا۔ اللہ کے نبی نے فرمایا پھر میرا سودا بھی بدل گیا اور فرمایا میرے ساتھی میں اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں اللہ نے تیرے لیے جنت میں ایک محل نہیں سینکڑوں محل بنا دیے ہیں اور ایک باغ نہیں ہزاروں باغ تیرے لیے تیار کر دیے ہیں۔ اور جب حضرت ابودحداح فوت ہوئے تو اللہ کے نبی نے فرمایا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں ایک لاکھ جنت کے کھجور کے درخت ابو دحداح کے جنازے کے اوپر جھکے ہوئے ہیں۔
Reference:۔
مسند عبد بن حمید: 1334
ابن حبان: 71
الطبرانی: 763
الحاکم: 2/20
شعب الایمان: 3451

منگل، 8 اگست، 2023

ڈپریشن کا علاج

*ڈپریشن کا علاج*

آج کی نئ جنریشن کا حال یہ ہیکہ ہر بندہ ڈپریشن میں مبتلا نظر آتا ہے انسان کو اللہ تعالیٰ نے صحت دی ہے طرح طرح کی نعمتیں عطا کی ہیں پھر بھی وہ خوش نہیں ہوتا وہ غمزدہ رھتا ہے ٹینشن میں رھتا ہے اور وجہ کہ فلاں نے دھوکہ دیا فلاں چھوڑ کےچلا گیا.......
اس ڈپریشن کا واحد اور کامیاب علاج *قرآن مجید* ہے جب بھی آپ ڈپریشن میں ہوں بھت لو فیل کر رہے ہوں تو چھپ کر کے قرآن لے کر بیٹھ جائیں اور دس منٹ بعد آپ کافی فریش فیل کرینگے قرآن کی تلاوت میں جو سکون اللہ پاک نے رکھا ہے وہ دنیا کی کسی چیزمیں نہیں ہے جیسا کی خود اللہ کہہ رہا ہے *الا بذكر الله تطمئن القلوب*..
دلوں کا اطمینان محض اللہ کے ذکر میں ہے.
اللہ تعالیٰ نے انسان کا سکون صرف اللہ کی یاد میں رکھا ہے جب بھی انسان خود کو بےبس محسوس کرے خود کو ڈپریشن میں مبتلا پائے تو قرآن کا اپنا دوست اپنا رہنما بنائے ان شاء اللہ تعالیٰ وہ اپنے آپ کو پرسکون محسوس کرےگا
آج ہمارا criteria ہمارا نقصان یہ ہیکہ فلاں انسان ہمیں چھوڑ گیا تو بس زندگی ختم جبکہ صحابہ کا criteria یہ تھا کہ سب کچھ ختم ہو جائے بس اللہ ساتھ ہے تو سب ہے ساری دولت شہرت سب چلی جائے لیکن اللہ ہے اللہ ساتھ ہے تو پھر کوئ غم نہیں.
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگی کو صحابہ کی زنگی سے میچ کرنے کی کوشش کریں آج ہم ہیرو ہیروئین کو اپنا رول ماڈل مانتے ہیں جسکی وجہ سے نہ تو ہم خوش رہ پاتے ہیں اور نہ کامیاب ہو ہاتے ہیں صحابہ کی زندگی کو نمونہ بنائیں انکے نقش قدم پر چلیں نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کی سنت پر عمل کریں قرآن کا ساتھ مضبوطی سے پکڑیں ان شاء اللہ ساری ٹینشن سارے ڈپریشن سارے نقصان ختم ہو جائینگے...

🖋️....
┄┄┅┅✪❂✵✵❂✪┅┅┄┄۔


پیر، 7 اگست، 2023

محاورہ اور ضرب المثل میں کیا فرق ہے ؟

محاورہ   دو یا دو سے زیادہ الفاظ کی اس ترکیب کو کہتے ہیٸ جو اپنی حقیقی معنی میں استعمال  ہونے کی بجائے  مجازی معنی میں استعمال  کیاجاٸے محاورہ  کہلاتی ہے مثلاً  باغ باغ ہونا۔ پانی پانی ہونا
 ضرب المثل اس جملے یا فقرے کو کہتے ہیں جو مثال کے طور پر استعمال  کیا جاٸے
 مثلاً  ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا ۔
خوب صورت وہ ہے جو خوب صورت  کام کرے

ہفتہ، 5 اگست، 2023

جہیز خور مرد سسرال کا فرمانبردار

*جہیز خور مرد سسرال کا فرمانبردار*

ایک دن ایک خاتون ایک پروفیسر صاحب سے ملنے گئیں۔

کہنے لگیں سر۔۔ میرا بیٹا ہماری بات نہیں سنتا۔۔ وہ اپنے سسرالیوں کو بہت عزت دیتا ہے۔۔ اپنے ساس سسر اور بیوی کی بات بہت مانتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے انہوں نے جادو ٹونے کرکے اسے بس میں کر رکھا ہو۔

پروفیسر صاحب بہت شفیق انسان تھے لیکن کبھی کبھی جلالی مزاج میں آجاتے۔۔ بی بی کی بات سن کر پروفیسر صاحب ایک دم بولے

بی بی!

تمہارے بیٹے کے کمرے میں جو بیڈ ہے وہ کس کا ہے؟

عورت: جی وہ اس کی بیوی جہیز میں لائی تھی۔

اور جو اس پر بستر ہے وہ ؟؟؟

جی وہ بھی جہیز میں لائی تھی۔

اور جو صوفہ اس کے کمرے میں رکھا ہے وہ ؟؟؟

جی وہ بھی بہو جہیز میں لائی تھی۔۔

اور جو سیف الماری ہے ؟

جی وہ بھی اس کی بیوی کی ہے۔۔

اور جس برتن میں وہ کھانا کھاتا ہے پانی پیتا ہے وہ ؟؟؟

جی وہ بھی اس کی بیوی کا ہے ۔۔۔

اور جس ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہوکر وہ کنگھی کرتا ہے اس کنگھی، برش سے لے کر اس آئنے تک سب آپ کی بہو کا ہی ہوگا ۔

عورت کے چہرے پر اب کچھ شرمندگی کے آثار نمودار ہوئے ۔۔ جی وہ بھی میری بہو جہیز میں لائی تھی۔۔

تو بی بی 

جب آپ کا بیٹا سوتا اپنے سسر کے دئیے ہوئے بستر پر ہے، وہ بیٹھتا اپنے سسر کے دیے ہوئے صوفے پر ہے، اسی کے دیے ہوئے برتنوں میں کھاتا ہے اسی کی دیے ہوئے گلاس میں پانی پیتا ہے بال بنانے کے لیے اسی کا دیا ہوا برش استعمال کرتا ہے۔۔۔

تو بی بی 

بیٹا تو آپ کا نمک حلالی کر رہا ہے۔ آپ نے اسے درحقیقت ان چیزوں کے بدلے گروی رکھ چھوڑا ہے۔ بلکہ بیچ ہی رکھا ہے بی بی آپ نے اسے۔

جب وہ کنگھی سے لے کر گلاس تک کسی کا دیا ہوا استعمال کر رہا ہے بیٹھنے کے لیے صوفہ، بیڈ، بستر، کمبل، چادر سب دوسرے کا دیا ہوا استعمال کر رہا ہے تو خود داری تو اس کی اسی دن مار دی تم لوگوں نے جب یہ سب ٹرک بھر کر گھر لائے تھے۔۔۔۔

بی بی جادو تو تم نے خود کروایا اس پر اب جب وہ نمک حلالی کر رہا ہے تو آپ اعتراض کر رہی ہیں۔

اگر بیٹا پیدا کرلیا، شادی کے لیے لڑکی بھی ڈھونڈ لی تو سامان بھی خود بناتے کم از کم اس کی خودی تو زندہ رہتی۔ 

غیر کے سامان پر عیاشی کرنے والے سے آپ کونسی وفاداری اور غیرت کی امید لگائے بیٹھی ہیں۔

پروفیسر صاحب کے الفاظ تھے یا پگھلا ہوا سیسہ۔۔

ایسے لگ رہا تھا کہ وہ معاشرے کے ہر جہیز خور انسان کے منہ پر طمانچہ رسید کر رہا تھا

جمعہ، 4 اگست، 2023

قصہ عربی شیخ کے مرغے کا."عربی ادب سے ماخوذ "

قصہ عربی شیخ کے مرغے کا.
"عربی ادب سے ماخوذ "
ایک بوڑھے شیخ کو اپنا ایک مرغا بہت پیارا تھا۔۔ اچانک ایک دن وہ چوری ہو گیا۔۔ اس نے اپنے نوکر چاکر بھگائے پورا قبیلہ چھان مارا مگر مرغا نہی ملا۔۔۔
ناچار غلام نے آ کر اطلاع دی کہ مرغے کو کوئی جانور کھا گیا ہو گا۔۔ بوڑھے شیخ نے مرغے کے پروں اور کھال ڈھونڈ کر لانے کا مطالبہ کر دیا۔۔ غلام حیران اور سرگرداں ڈھونڈنے نکل پڑے مگر بےسود۔۔ 
شیخ نے ایک اونٹ کاٹا اور پورے قبیلے کے عمائدین  کی دعوت کر ڈالی۔۔
جب وہ کھانے سے فارغ ہوئے تو شیخ نے ان سے اپنے مرغے کا دکھ بیان کیا اور ان سے مدد کی درخواست کی۔۔ کچھ زیر لب مسکرائے کچھ نے بڈھے کو خبطی سمجھا ۔مگر وعدہ کیا کہ کوشش کریں گے۔۔ باہر نکل کر مرغے کی تلاش پر اونٹ ذبح کرنے پر خوب گپ شپ ہوئی۔ 
کچھ دن بعد قبیلہ سے بکری چوری ہوئی۔۔ غریب آدمی کی تھی۔۔ وہ صرف ڈھونڈ ڈھانڈ کر خاموش ہو گیا۔۔ شیخ کے علم میں جب بات آئی تو اس نے ایک اونٹ پھر ذبح کیا اور دعوت کر ڈالی۔۔ جب لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو اس نے پھر مرغے کی تلاش اور بکری کا قصہ چھیڑا اور قبیلے کو کہا کہ اس کا مرغا ڈھونڈ دیں۔۔ اب تو کچھ نے اسے برا بھلا کہا۔۔ کچھ نے اس کو دلاسہ دیا کہ اتنی بڑی بات نہی صبر کر لو اس سے زیادہ اپنا نقصان کر چکے ہو۔۔ 
ابھی تین دن ہی گزرے تھے کہ شیخ غفور کا اونٹ رات کو اس کے گھر کے سامنے سے چوری ہو گیا۔۔ شیخ غفور  نے  اپنے ملازمین کو  خوب بڑا بھلا کہا۔۔ اور خاموش ہو گیا کہ ایک اونٹ اس کے لئے کوئی مالی وقعت نہی رکھتا تھا۔۔ 
بڈھے شیخ کو جب علم ہوا تو اس نے پھر ایک اونٹ کاٹا اور قبیلے کی دعوت کر دی ۔۔۔ کھانے سے جب سب فارغ ہوئے تو اس نے سرسری اونٹ گم ہونے کا ذکر کر کے اپنے مرغے کو یاد کیا اور قبیلہ سے التجا کی کہ اس کا مرغہ  ڈھونڈ دیں۔۔ اب تو محفل میں خوب گالی گلوچ ہوئی۔۔ اور بڈھے کو کہا کہ اب اگر دوبارہ اس نے مرغے سے متعلق کوئی حرکت کی تو پورا قبیلہ اس سے قطع تعلق  کر لیں گے۔۔شیخ کے بیٹوں نے بھی باپ کی اس حرکت پر مہمانوں کو رخصت کرتے ہوئے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا۔۔اور شرمندہ بھی ہوئے کہ ایک مرغے کے بدلے تین اونٹ اور شرمندگی علیحدہ ۔۔ یقینا ان کا باپ اب سٹھیا گیا ہے۔۔ 
پندرہ روز گزرے تو قبیلہ کی ایک لڑکی کنویں سے پانی بھرنے گئی اور پھر واپس نہیں آئی۔۔ گاوں میں کہرام مچ گیا۔۔پورے قبیلہ کی عزت داو پر لگ گئی۔۔ نوجوانوں نے جھتے بنائے اور تلاش شروع کی۔۔پہلے گاوں پھر اردگرد ۔۔ پھر مزید گاوں کے لوگ شامل ہوئے اور اردگرد کے گاوں سے معلومات کی گئی۔ تو پتہ چلا کہ کچھ ڈاکو قریب پہاڑ کی ایک غار میں کچھ عرصے سے رہتے ہیں۔۔  
گاوں کے لوگوں نے چھاپہ مارا وہاں لڑائی ہوئی اموات ہوئیں اور لڑکی برآمد کر لی گئی۔۔ لوگوں نے وہاں اونٹ،بکری اور مرغے کی باقیات بھی ڈھونڈ لیں۔۔
تب انہیں احساس ہوا کہ بڈھا شیخ کس طوفان کے آنے کا انہیں عندیہ دے رہا تھا۔۔ اگر گاوں کے لوگ مرغے پر ہی متحد ہو جاتے تو آبرو تک بات نہ پہنچتی۔۔ 
*وَ لَنُذِیۡقَنَّہُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰی  دُوۡنَ الۡعَذَابِ  الۡاَکۡبَرِ  لَعَلَّہُمۡ  یَرۡجِعُوۡنَ*

*ترجمہ:* بالیقین ہم انہیں قریب کے چھوٹے سے بعض عذاب  اس بڑے عذاب کے سوا چکھائیں گے تاکہ وہ لوٹ آئیں ۔ (السجدہ)
یہ اللہ کریم کی سنت ہے کہ وہ بڑی تکلیف سے پہلے چھوٹی تکلیف سے تنبیہ فرماتا ہے تاکہ اہل عقل ،سمجھ جائیں اور اپنی اور اپنے زیر تسلط اپنے ریوڑ پر توجہ دیں اس سے قبل کہ بھیڑیے نوچ کھائیں ۔

جمعرات، 3 اگست، 2023

حلیم، دلیم، لحیم....۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


حلیم، دلیم، لحیم....

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     میری بیٹی نے بتایا کہ کل کالج میں اس حوالے سے بحث ہوگئی ، ایک ہم جماعت کہنے لگی صحیح لفظ حلیم نہیں دلیم ہے، دوسری بولی حلیم نہ دلیم بلکہ یہ تو لحیم ہے۔ ہم صحیح لفظ پوچھنے ٹیچر کے پاس چلے گئے کہ درست کیا ہے؟ وہ بولیں، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حلیم کو کسی اور نام سے پکارنا چاہئے کیونکہ " حلیم" اللّٰه تعالیٰ کا صفاتی نام ہے۔
.
گھر پہنچ کر بیٹی نے کہا ابو،، اب آپ ہی بتا دیجیے صحیح لفظ کیا ہے،۔

ہم نے کہا جو لوگ اللّٰه تعالیٰ کے صفاتی نام سے مماثل ہونے کی باعث اس کو حلیم کہنے سے گریزاں ہیں امید ہے کہ وہ اپنے مقدمات کے لئے "وکیل" تو نہیں کرتے ہوں گے کہ انسان کو وکیل کیسے کہا جا سکتا ہے؟ یا پھر وہ وہ وکیلوں کے بارے میں اکبر الہٰ آبادی کے اس مشہور ترین شعر سے بھی اتفاق نہیں کرتے ہوں گے۔
.
پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا
لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے
.
وہ تو بیمار ہونے پر "حکیم" سے دوا بھی نہیں لیتے ہوں گے کہ انسان حکیم کیسے ہو سکتا ہے؟ نہ تو ان کے بچے مدرسوں میں "اوّل" آتے ہوں گے اور نہ ہی ان کے پاس "آخر" میں کچھ "باقی" رہ جاتا ہوگا۔ کیونکہ یہ تمام بھی اللّٰه تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں۔ مرنے کے بعد ان کا کوئی"ولی" بھی نہیں ہوتا ہوگا کیونکہ انسان ولی کے درجے پر کیسے پہنچ سکتا ہے؟ یہ متقیان یقیناً مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی افواج کو بھی "قابض" نہیں کہتے ہوں گے۔ ساڈی "باری" آن دیو' کا نعرہ بھی انہیں کفّار کی سازش لگتا ہوگا۔ انہی اصولوں کی بنیاد پر "لطیفہ" کہنا بھی بے ادبی کے زمرے میں آنے لگے گا اور "ملِک" صاحب کہنا تو پھر سیدھا سیدھا کفر ہی ٹھہرے گا۔
.
لفظ " مصوّر" کے لئے تو پھر فتویٰ لینے کے بھی ضرورت نہیں ہے۔ کسی صحابی، ولی اللہ یا بادشاہ کو "جلیل" القدر کہنا شرک ٹھہرے گا اور "شہید" کا استعمال انسانوں کے لئے متروک قرار پائے گا۔ کسی کو " عظیم" کہنے پر پابندی ہوگی اور "مقتدر" قوتیں کہنے پر تعزیر جاری کی جائے گی۔ کوئی انسان کسی کا " والی" " وارث" نہیں کہلائے گا کیوں کہ یہ دونوں بھی اسمائے الہٰی ہیں۔ "ظاہر" و " باطن" بھی انسانوں کے لئے ممنوع قرار پائیں گے۔ کوئی عمل یا کاروبار " نافع" ہوگا اور نہ کوئی مسجد یا کتاب "جامع" کہلائے گی۔ بیشتر اردو شاعری کو دریا بُرد کرنا پڑے گا کیونکہ ناہنجار شاعروں نے "رقیب" کی دل کھول کر برائیاں کی ہیں جو کہ اس نئے اسلامی نظام کے بالکل خلاف ہے۔ اسی ہی طرح نہ تو کوئی کام "موخر" کیا جا سکے گا اور نہ ہی کسی کی برائی کرتے ہوئے اسے "منتقم" مزاج کہنے کی اجازت ہو گی۔
.
یہاں پر ایک سنگین مسئلہ پر غور کرنے کی ضرورت پڑے گی کہ صدیوں سے علمائے اسلام حضرت عثمان کو " غنی" لکھ رہے ہیں۔ اب ان کی تمام کتابوں کو کس طرح سے درست کیا جاسکتا ہے۔ اور اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آقائے دو جہاں، نبی آخر الزّماں نے تمام عمر اپنے عزیز ترین صحابی، عم زاد اور داماد کو "علی" کے نام سے پکارا اور یہ عمل نہ تو ربِ کائنات کی بے ادبی کا باعث بنا اور نہ ہی موجبِ شرک ٹھہرا۔ اب یہاں اس نئے فہمِ اسلام کو کیسے نافذ کیا جائے گا؟
.
ہم نے کہا بیٹا عربی کا ایک اصول سمجھ لیا جائے تو اس قسم کی الجھن سے بچنا انتہائی آسان ہوجائے گا۔ پہلی بنیادی بات یاد رکھنے والی یہ ہے کہ ”حلیم“ کا مصدر لفظ "حِلم" ہے جس کا مطلب "برد باری، تحمل، نرم دلی، نرم خوئی" گویا حِلم ایک صفت ہے جس میں "ی" کا اضافہ کرکے اسم بنایا گیا "حلیم"۔ یعنی کوئی ایسی چیز جو انتہائی نرم ہو۔

یہ حلیم اسم نکرہ ہے یعنی وہ نام جو کسی بھی چیز کا ہوسکتا ہے۔ جیسے مدرسہ ، گاڑی یا سائیکل وغیرہ لیکن اسی کو اسم معرفہ میں تبدیل کرکے اللّٰه تعالیٰ کا صفاتی نام بھی کہا گیا ہے۔ لیکن عربی میں کسی اسم نکرہ کو اسم معرفہ میں تبدیل کرنے کے اس نام سے پہلے ”ال“ (الف اور لام) لگا دیتے ہیں اس سے اسم نکرہ اسم معرفہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

اس کو تم یوں سمجھ لو جیسے تم انگریزی میں ہر ملک کو کنٹری کہتی ہو لیکن اگر مقصد کسی خاص ملک کی طرف اشارہ کرنا ہو تو اس کو کنٹری نہیں بلکہ دی کنٹری کہتی ہو۔ بالکل اسی طرح کسی بھی نرم چیز کو ”حلیم“ کہا جاسکتا ہے لیکن اللّٰه تعالیٰ کی نرم صفت کی باعث اس کو ”الحلیم“ کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے تمام اسمائے صفاتی میں تم کو یہ بات واضح نظر آئے گی کہ وہ ”ال“ سے شروع ہوتے ہیں تب ہی یہ صرف اس کی ذات کے لیے مخصوص ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اس پکوان کو ”حلیم“ کہا جاتا ہے ”الحلیم“ نہیں۔ اور حلیم کے معنی ہیں نرم ،ملائم۔ یہ صفت اس پکوان میں بھی پائی جاتی ہے کہ اس میں گوشت ہونے کے باوجود یہ انتہائی نرم و ملائم ہوتا ہے۔
.
ہم نے کہا یاد رکھو جس طرح میڈیا نے ہماری معلومات کا بیڑا غرق کیا ہے اسی طرح سوشل میڈیا نے ہمارے علم کا بھی بیڑا غرق کر دیا ہے اور اردو زبان کا تو دونوں نے مل کر خوب پلیتھن نکالا ہے۔ یہ حلیم ، دلیم اور لحیم کا جھگڑا سوشل میڈیا سے پہلے کبھی نہ اٹھا عشروں سے ہم سب حلیم ہی کھاتے آئے تھے۔ یاد رکھو:

اردو ہے جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

منگل، 1 اگست، 2023

ایک عابد نے خدا کی زیارت (دیدار و ملاقات) کے لیے 40 دن کا چلہ کیا

ایک عابد نے خدا کی زیارت (دیدار و ملاقات) کے لیے 40 دن کا چلہ کیا ۔ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا۔ اعتکاف کی وجہ سے خدا کی مخلوق سے یکسرجدا  تھا اور اسکا سارا وقت آہ و زاری اور راز و نیاز میں گذرتا تھا 
36 ویں رات اس عابد نے ایک آواز سنی : شام کو ‏تانبے کے بازار میں فلاں تانبہ ساز کی دکان پر جاؤ اوراپنی مراد پا لو-
عابد وقت مقررہ سے پہلے پہنچ گیا اور مارکیٹ کی گلیوں میں تانبہ ساز کی اس  دوکان کو ڈھونڈنے لگا وہ کہتا ہے ۔ "میں نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو تانبے کی دیگچی پکڑے ہوئے تھی اور اسے ہر تانبہ ساز کو دکھارہی تھی"-
‏اسے وہ بیچنا چاہتی تھی, وہ جس تانبہ ساز کو دیگچی دکھاتی وہ اسے تول کر کہتا 4 ریال  ملیں گے- بڑھیا کہتی  6 ریال میں بیچوں گی- کوئی تانبہ ساز اسے 4 ریال سے زیادہ دینے کو تیار نہ تھا- آخر کار وہ بڑھیا ایک تانبہ ساز کے پاس پہنچی تانبہ ساز اپنے کام میں مصروف تھا-
‏بڑھیا نے کہا: میں یہ برتن بیچنے کے لیے لائی ہوں اور اسے 6 ریال میں بیچوں گی, کیا آپ 6 ریال دیں گے؟
تانبہ ساز  نے پوچھا صرف 6 ریال میں کیوں؟ بڑھیا نے دل کی بات بتاتے ہوئے کہا: میرا بیٹا بیمار ہے، حکیم نے اسکے لیے نسخہ لکھا ہے جس کی قیمت 6 ریال ہے۔
‏تانبہ ساز نے دیگچی لے کر کہا: ماں یہ دیگچی بہت عمدہ اور قیمتی ہے۔ اگر آپ بیچنا ہی چاہتی ہیں تو میں اسے 30 ریال میں خریدوں گا!!
بوڑھی عورت نے کہا: کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟!!! "کہا ہرگز نہیں،"میں واقعی 30 ریال دوں گا- یہ کہہ کر اس نے برتن لیا اور
‏بوڑھی عورت کے ہاتھ میں 30 ریال رکھ دیئے !!! بوڑھی عورت بہت حیران ہوئی اور دعا دیتی جلدی سے اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔
عابد کہتا ہے میں یہ سارا ماجرہ دیکھ رہا تھا جب وہ بڑھیا چلی گئی تو میں نے تانبےدوکان والے سے کہا: 
چچا، لگتا ہے آپکو کاروبار نہیں آتا؟!! بازار میں کم و بیش سبھی تانبے والے اس دیگچی کو تولتے تھے اور 4 ریال سے زیادہ کسی نے اسکی قیمت نہیں لگائی۔ اور آپ نے 30 ریال میں اسے خریدا ھے... 
بوڑھے تانبہ ساز نے کہا: 

(میں نے برتن نہیں خریدا,  میں نے اسکے بچے کا نسخہ خریدنے کے لیے اسے پیسے دئیے ہیں, میں نے ایک ہفتے تک اسکےبیمار بچے کی دیکھ بھال کے لئے پیسے دئیے ہیں,  میں نے اسے اس لئے یہ قیمت دی  کہ گھر کا باقی سامان بیچنے کی نوبت نہ آئے) 

 عابد کہتا ہے میں سوچتا اور اسکو دیکھتا رہ گیا... 
 اتنے میں غیبی آواز آئی  ۔۔۔۔۔
‏"چلہ کشی سے کوئی میری زیارت کا شرف  حاصل نہیں کرسکتا , گرنے  والے کوتھامو اور غریب کا ہاتھ پکڑو میں خود تمہارے پاس چل کر آوں گا "۔ 

*حکایت شیخ سعدی سے ماخوذ.*

بادشاہ کی جانب سے انوکھی پیشکش


 ○
بادشاہ کی جانب سے انوکھی پیشکش

ایک ریاست کے بادشاہ نے اعلان کروایا کہ کل صبح جب میرے محل کا مرکزی دروازہ کھولا جائے گا تب جس شخص نے بھی محل میں جس چیز کو ہاتھ لگا دیا وہ چیز اس کی ہو جائے گی.
اس اعلان کو سن کر سب لوگ آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ میں تو سب سے قیمتی چیز کو ہاتھ لگاؤں گا.

کچھ لوگ کہنے لگے میں تو سونے کو ہاتھ لگاؤں گا، کچھ لوگ چاندی کو تو کچھ لوگ قیمتی زیورات کو، کچھ لوگ گھوڑوں کو تو کچھ لوگ ہاتھی، کچھ لوگ دودھ دینے والی گائے کو ہاتھ لگانے کی بات کر رہے تھے.

جب صبح محل کا مرکزی دروازہ کھلا اور سب لوگ اپنی اپنی من پسند چیزوں کے لئے دوڑے

سب کو اس بات کی جلدی تھی کہ پہلے میں اپنی من پسند چیزوں کو ہاتھ لگا دوں تاکہ وہ چیز ہمیشہ کے لئے میری ہو جائے.
بادشاہ اپنی جگہ پر بیٹھا سب کو دیکھ رہا تھا اور اپنے آس پاس ہو رہی بھاگ دوڑ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا.

اسی وقت اس بھیڑ میں سے ایک شخص بادشاہ کی طرف بڑھنے لگا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچ کر اس نے بادشاہ کو چھو لیا.

بادشاہ کو ہاتھ لگاتے ہی بادشاہ اس کا ہو گیا اور بادشاہ کی ہر چیز بھی اس کی ہو گئی.

جس طرح بادشاہ نے ان لوگوں کو موقع دیا لیکن دنیا کی لالچ میں آ کر اُن لوگوں نے غلطیاں کیں

ٹھیک اسی طرح ساری دنیا کا مالک بھی ہم سب کو ہر روز موقع دیتا ہے، لیکن افسوس ہم لوگ بھی ہر روز غلطیاں کرتے ہیں. ہم اللَّه پاک کی خوشنودی حاصل کرنے کی بجائے اللَّه پاک کی بنائی ہوئی دنیاوی چیزوں کی آرزو کرتے ہیں.

لیکن کبھی بھی ہم لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ کیوں نہ دنیا کے بنانے والے مالک کو پا لیا جائے.

اگر مالک ہمارا ہو گیا تو اس کی بنائی ہوئی ہر چیز بھی ہماری ہو جائیں گی

ﺣﻀﺮﺕ ﺷﯿﺦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﺎﺩﺭ ﺟﯿﻼﻧﯽ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ

ﺣﻀﺮﺕ ﺷﯿﺦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﺎﺩﺭ ﺟﯿﻼﻧﯽ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﻪ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ـ
-1 ﺗﻢ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﻠﻖ ﺳﮯ ﻣﺮﺟﺎﺅ .
ﺧﻠﻖ ﺳﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﺧﻠﻖ ﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﺎﺳﻮﺍ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻣﯿﺪ ﯾﺎ ﺗﻮﻗﻊ ﻣﺖ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﺳﮯ ﺗﻮﻗﻊ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﭘﮧ ﺗﻮﮐﻞ ﺭﮐﮭﻨﺎـ
-2 ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﺎﺕ ﺳﮯ ﻣﺮﺟﺎﺅـ
ﯾﻌﻨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺭﺯﻭ ﻧﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻧﮧ ﺁﺧﺮﺕ ﮐﯽ ـ ﯾﮧ ﮨﮯ ﺑﮩﺖ ﮐﭩﮭﻦ ﻣﻨﺰﻝ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻓﯿﺾ ﻭ ﮐﺮﻡ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯـ
-3 ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺭﺍﺩﮮ ﺳﮯ ﻣﺮ ﺟﺎﺅـ
ﺍﯾﺴﮯ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟٰﮯ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺸﯿﺖ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﻋﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯـ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﺍﻧﺎﻧﯿﺖ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮧ ﺭﮨﮯـ
4 ـ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﺮﺟﺎﺅ ـ
ﯾﻌﻨﯽ ﻧﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﯿﺎﻝ ﻧﮧ ﺁﺭﺯﻭ ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺳﭙﺮﺩ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ـ
ﯾﮧ ﻣﻨﺰﻝ ﻣﻮﺗﻮﺍ ﻗﺒﻞ ﺃﻥ ﺗﻤﻮﺗﻮﺍ ـ ‏( ﻣﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺮ ﺟﺎﺅ ‏) ﮨﮯ
ﮐﯿﺘﯽ ﺟﺎﻥ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺭﺏ ﺩﮮ، ﺍﺳﺎﮞ ﺍﯾﺴﺎ ﻋﺸﻖ ﮐﻤﺎﯾﺎ ﮨُﻮ
ﻣﺮﻥ ﺗﻮ ﺍﮔﮯ ﻣﺮ ﮔﺌﮯ ﺑﺎﮨﻮ، ﺗﺎﮞ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﻮﮞ ﭘﺎﯾﺎ ﮨُﻮ
ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺑﺎﮨﻮ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ
ﺗﺼﻮﻑ ﮐﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﻋﻤﻠﯽ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﺐ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﻧﺼﺐ ﺍﻟﻌﯿﻦ ﮨﮯ ـ
ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺍﺻﻠﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﺭﻭﺡ ﮨﮯ ﺑﺎﻗﯽ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﺩﻭﻟﺖ ﻋﺰﺕ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﻓﺎﻧﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﯿﺎ ﭼﯿﺰ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺁﮔﮯ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺭﻭﺡ ﮨﮯ ـ
ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﺱ ﻭﺟﻮﺩﯼ ﭘﮩﻠﻮ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺭﻭﺡ ﮐﺎ ﺍﺩﺭﺍﮎ ﮐﯿﺴﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ـ ﻭﻻﯾﺖ ﮐﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﺭﻭﺡ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ـ ﺟﺐ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺭﻭﺡ ﮐﺎ ﺍﺩﺭﺍﮎ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺐ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ـ ...