جمعرات، 31 اگست، 2023
نہر زبیدہ کی تاریخ
جمعرات، 24 اگست، 2023
اے نادان ! یہ خواہشات سے بنا ہوا کشکول ہے‘ جسے صرف قبر کی مٹی بھر سکتی ہے۔۔۔
سونے کے حروف سے لکھے جانے لائق کلام
منگل، 22 اگست، 2023
عجیب و غریب واقعہ
پیر، 21 اگست، 2023
بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول آمبور میں 77 واں جلسہ یوم آزادی
اللہ کے انعام یافتہ بندے!!!
اللہ سے صلح کر لوإ
اتوار، 20 اگست، 2023
اَلدِّينُ النَّصِيحَةُ
حضرتِ سیّدنا تمیم داری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ نبیِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:اَلدِّينُ النَّصِيحَةُ یعنی دین خیر خواہی ہے، ہم نے عرض کی: کس کے لیے؟ ارشاد فرمایا:لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِاَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ یعنی اللہ کے لیے ، اس کی کتاب کے لیے ، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ اور عام مسلمانوں کے لیے۔(مسلم،ص51، حدیث:196)
مذکورہ حدیث نبی رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کی ان احادیث میں شمار کی جاتی ہے جن کو”جَوَامِعُ الْکَلِم“ کہا جاتا ہے ، یعنی وہ احادیث جن کے الفاظ بہت کم ہوتے ہیں لیکن علم وحکمت کے کثیر موتی ان میں موجود ہوتے ہیں ۔
حدیثِ مذکور کے راوی حضرتِ سیدنا تمیم داری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں آپ اور آپ کے بھائی سیدنا نعیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سن نو ہجری میں ایمان لے کر آئے ، بہت بڑے عابد و زاہد اور ساری رات اللہ جَلَّ شَانُہ کی عبادت میں گزارنے والے صحابی تھے، مسجد میں سب سے پہلے چراغ جلانے والے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہی تھے۔ (الاصابۃ ،ج1،ص487،رقم: 838)
حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے دین کو خیر خواہی کا نام دیا ہے جس کے لیے عربی زبان میں نصیحت کا لفظ استعمال ہوتا ہے ، نصیحت کسی بھی شئے کو تمام آلائش سے پاک کرکے اسے خالص کرنے کو کہتے ہیں ، اسی طرح کسی شئے کے عیب کو دور کرنے اور اسے درست کردینے کو بھی عربی میں نصیحت کہا جاتا ہے ۔ حدیث میں جن ہستیوں اوراشیاء کے لیے نصیحت کا حکم ہے، سب کے لیے نصیحت کا معنی الگ الگ ہیں ۔
اللہ تعالٰی کے لیے نصیحت کا معنی:اللہ تعالیٰ کو تمام خوبیوں کا جامع ماننا ، تمام عیوب سے پاک ماننا، اللہ تعالیٰ کو معبود برحق اور شریک سے پاک ماننا ، اس کی اطاعت کرنا، اس کی نافرمانی سے اجتناب کرنا ،اس کا شکر ادا کرنا، اخلاص کے ساتھ اس کی عبادت کرنا اور اس سےمحبت کرنا وغیرہ۔
کتابُ اللہ کے لیے نصیحت کا معنی :اس پر ایمان لانا یہ اعتقاد رکھنا کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ، کوئی اس کی مختصر ترین سورت کی مثل بھی نہیں لاسکتا ، اس کے احکام پر عمل کرنا ، اس کی تلاوت کرنا وغیرہ، یونہی اللہ تعالیٰ کی دیگر کتابوں پر بھی ایمان لانا کتابُ اللہ کے لیے نصیحت کے معنی میں شامل ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کے لیے نصیحت کا معنی:اُن کی رسالت کی تصدیق کرنا ، جو کچھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے لے کر آئے اس پر ایمان لانا، ان کی اطاعت کرنا، ان کی تعظیم وتوقیر کرنا ، ان کی سنت پر عمل کرنا اِس کی دعوت کو عام کرنا ، ان سے اور ان کے صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے محبت کرناوغیرہ،صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَ صحبہ و بارک وَ سَلَّمَ
مسلمانوں کے ائمہ کے لیے نصیحت کا معنی:اگر اس سے مراد حکام کو لیا جائے تو معنی ہوگا جو کچھ شریعت کے مطابق حکم کریں اس میں ان کی بات ماننا، ان کے خلاف بغاوت نہ کرنا ، ان کو حق کی تلقین کرنا وغیرہ۔اور علما ہوں تو اس کا معنی ہوگا کہ شرعی احکام میں ان کی اطاعت کرنا ان کی تعظیم وتکریم کرنا وغیرہ
اور عام مسلمانوں کے لیے نصیحت کا معنی : اُن کی دین ودنیا کے بھلائی کے کاموں میں رہنمائی کرنا ، اس کے لیے قول وفعل کے ذریعے ان کی مدد کرنا ، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت کرنا وغیرہ۔ (جامع العلوم والحکم، ص106، 107، الفتح المبین،ص 253تا257، المعین علی تفہم الاربعین، ص226تا228،)
حضرت بایزید بسطامی
بچے پاک فطرت پہ پیدا ہوتے ہیں
حضرت بہلول دانا رحمۃ اللہ علیہ
پیر، 14 اگست، 2023
ﺍﺭﺩﻭ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ
ہفتہ، 12 اگست، 2023
مولانا روم رحمتۂ الله علیه فرماتے هیں
مرد کی غیرت
بدھ، 9 اگست، 2023
خود احتسابی
اللہ کے نبی سے کھجور کے درخت کا سودا
منگل، 8 اگست، 2023
ڈپریشن کا علاج
پیر، 7 اگست، 2023
محاورہ اور ضرب المثل میں کیا فرق ہے ؟
ہفتہ، 5 اگست، 2023
جہیز خور مرد سسرال کا فرمانبردار
جمعہ، 4 اگست، 2023
قصہ عربی شیخ کے مرغے کا."عربی ادب سے ماخوذ "
جمعرات، 3 اگست، 2023
حلیم، دلیم، لحیم....۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حلیم، دلیم، لحیم....
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری بیٹی نے بتایا کہ کل کالج میں اس حوالے سے بحث ہوگئی ، ایک ہم جماعت کہنے لگی صحیح لفظ حلیم نہیں دلیم ہے، دوسری بولی حلیم نہ دلیم بلکہ یہ تو لحیم ہے۔ ہم صحیح لفظ پوچھنے ٹیچر کے پاس چلے گئے کہ درست کیا ہے؟ وہ بولیں، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حلیم کو کسی اور نام سے پکارنا چاہئے کیونکہ " حلیم" اللّٰه تعالیٰ کا صفاتی نام ہے۔
.
گھر پہنچ کر بیٹی نے کہا ابو،، اب آپ ہی بتا دیجیے صحیح لفظ کیا ہے،۔
ہم نے کہا جو لوگ اللّٰه تعالیٰ کے صفاتی نام سے مماثل ہونے کی باعث اس کو حلیم کہنے سے گریزاں ہیں امید ہے کہ وہ اپنے مقدمات کے لئے "وکیل" تو نہیں کرتے ہوں گے کہ انسان کو وکیل کیسے کہا جا سکتا ہے؟ یا پھر وہ وہ وکیلوں کے بارے میں اکبر الہٰ آبادی کے اس مشہور ترین شعر سے بھی اتفاق نہیں کرتے ہوں گے۔
.
پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا
لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے
.
وہ تو بیمار ہونے پر "حکیم" سے دوا بھی نہیں لیتے ہوں گے کہ انسان حکیم کیسے ہو سکتا ہے؟ نہ تو ان کے بچے مدرسوں میں "اوّل" آتے ہوں گے اور نہ ہی ان کے پاس "آخر" میں کچھ "باقی" رہ جاتا ہوگا۔ کیونکہ یہ تمام بھی اللّٰه تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں۔ مرنے کے بعد ان کا کوئی"ولی" بھی نہیں ہوتا ہوگا کیونکہ انسان ولی کے درجے پر کیسے پہنچ سکتا ہے؟ یہ متقیان یقیناً مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی افواج کو بھی "قابض" نہیں کہتے ہوں گے۔ ساڈی "باری" آن دیو' کا نعرہ بھی انہیں کفّار کی سازش لگتا ہوگا۔ انہی اصولوں کی بنیاد پر "لطیفہ" کہنا بھی بے ادبی کے زمرے میں آنے لگے گا اور "ملِک" صاحب کہنا تو پھر سیدھا سیدھا کفر ہی ٹھہرے گا۔
.
لفظ " مصوّر" کے لئے تو پھر فتویٰ لینے کے بھی ضرورت نہیں ہے۔ کسی صحابی، ولی اللہ یا بادشاہ کو "جلیل" القدر کہنا شرک ٹھہرے گا اور "شہید" کا استعمال انسانوں کے لئے متروک قرار پائے گا۔ کسی کو " عظیم" کہنے پر پابندی ہوگی اور "مقتدر" قوتیں کہنے پر تعزیر جاری کی جائے گی۔ کوئی انسان کسی کا " والی" " وارث" نہیں کہلائے گا کیوں کہ یہ دونوں بھی اسمائے الہٰی ہیں۔ "ظاہر" و " باطن" بھی انسانوں کے لئے ممنوع قرار پائیں گے۔ کوئی عمل یا کاروبار " نافع" ہوگا اور نہ کوئی مسجد یا کتاب "جامع" کہلائے گی۔ بیشتر اردو شاعری کو دریا بُرد کرنا پڑے گا کیونکہ ناہنجار شاعروں نے "رقیب" کی دل کھول کر برائیاں کی ہیں جو کہ اس نئے اسلامی نظام کے بالکل خلاف ہے۔ اسی ہی طرح نہ تو کوئی کام "موخر" کیا جا سکے گا اور نہ ہی کسی کی برائی کرتے ہوئے اسے "منتقم" مزاج کہنے کی اجازت ہو گی۔
.
یہاں پر ایک سنگین مسئلہ پر غور کرنے کی ضرورت پڑے گی کہ صدیوں سے علمائے اسلام حضرت عثمان کو " غنی" لکھ رہے ہیں۔ اب ان کی تمام کتابوں کو کس طرح سے درست کیا جاسکتا ہے۔ اور اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آقائے دو جہاں، نبی آخر الزّماں نے تمام عمر اپنے عزیز ترین صحابی، عم زاد اور داماد کو "علی" کے نام سے پکارا اور یہ عمل نہ تو ربِ کائنات کی بے ادبی کا باعث بنا اور نہ ہی موجبِ شرک ٹھہرا۔ اب یہاں اس نئے فہمِ اسلام کو کیسے نافذ کیا جائے گا؟
.
ہم نے کہا بیٹا عربی کا ایک اصول سمجھ لیا جائے تو اس قسم کی الجھن سے بچنا انتہائی آسان ہوجائے گا۔ پہلی بنیادی بات یاد رکھنے والی یہ ہے کہ ”حلیم“ کا مصدر لفظ "حِلم" ہے جس کا مطلب "برد باری، تحمل، نرم دلی، نرم خوئی" گویا حِلم ایک صفت ہے جس میں "ی" کا اضافہ کرکے اسم بنایا گیا "حلیم"۔ یعنی کوئی ایسی چیز جو انتہائی نرم ہو۔
یہ حلیم اسم نکرہ ہے یعنی وہ نام جو کسی بھی چیز کا ہوسکتا ہے۔ جیسے مدرسہ ، گاڑی یا سائیکل وغیرہ لیکن اسی کو اسم معرفہ میں تبدیل کرکے اللّٰه تعالیٰ کا صفاتی نام بھی کہا گیا ہے۔ لیکن عربی میں کسی اسم نکرہ کو اسم معرفہ میں تبدیل کرنے کے اس نام سے پہلے ”ال“ (الف اور لام) لگا دیتے ہیں اس سے اسم نکرہ اسم معرفہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اس کو تم یوں سمجھ لو جیسے تم انگریزی میں ہر ملک کو کنٹری کہتی ہو لیکن اگر مقصد کسی خاص ملک کی طرف اشارہ کرنا ہو تو اس کو کنٹری نہیں بلکہ دی کنٹری کہتی ہو۔ بالکل اسی طرح کسی بھی نرم چیز کو ”حلیم“ کہا جاسکتا ہے لیکن اللّٰه تعالیٰ کی نرم صفت کی باعث اس کو ”الحلیم“ کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے تمام اسمائے صفاتی میں تم کو یہ بات واضح نظر آئے گی کہ وہ ”ال“ سے شروع ہوتے ہیں تب ہی یہ صرف اس کی ذات کے لیے مخصوص ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اس پکوان کو ”حلیم“ کہا جاتا ہے ”الحلیم“ نہیں۔ اور حلیم کے معنی ہیں نرم ،ملائم۔ یہ صفت اس پکوان میں بھی پائی جاتی ہے کہ اس میں گوشت ہونے کے باوجود یہ انتہائی نرم و ملائم ہوتا ہے۔
.
ہم نے کہا یاد رکھو جس طرح میڈیا نے ہماری معلومات کا بیڑا غرق کیا ہے اسی طرح سوشل میڈیا نے ہمارے علم کا بھی بیڑا غرق کر دیا ہے اور اردو زبان کا تو دونوں نے مل کر خوب پلیتھن نکالا ہے۔ یہ حلیم ، دلیم اور لحیم کا جھگڑا سوشل میڈیا سے پہلے کبھی نہ اٹھا عشروں سے ہم سب حلیم ہی کھاتے آئے تھے۔ یاد رکھو:
اردو ہے جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے