پیر، 31 جولائی، 2023

نصاب تعلیم سے زیادہ نظام تعلیم کی اصلاح ضروری

 نصابِ تعلیم سے زیادہ نظامِ تعلیم کی اصلاح ضروری!!


جب کبھی مدارس کی تعلیمی صورت حال پر گفتگو ہوتی ہے تو بیشتر لکھنے والے اور مباحثہ میں شرکت کرنے والے اپنا سارا زور موجودہ نصاب کی کمیاں گنانے پر صرف کر دیتے ہیں. ان کی بات سے ایک عام تاثر یہ قائم ہوتا ہے کہ یہ نصاب اپنی افادیت کھو چکا ہے، اس میں تبدیلی ناگزیر ہے. یہ تبدیلی کتنی ضروری ہے اور کس حد تک ضروری ہے اس سے قطع نظر یہ بات سمجھنا زیادہ اہم ہے کہ ہمارا مسئلہ محض نصاب کی تبدیلی سے حل نہیں ہونے والا. تعلیم کے گرتے ہوئے معیار کا تعلق نصاب سے کم اور دیگر امور سے زیادہ ہے. نصاب کوئی بھی ہو اگر استاذ ماہر، اپنے فن پر قابو یافتہ، مخلص، محنتی اور اپنی ذمہ داری کا احساس رکھنے والا ہو، نیز شاگرد محنت و مشقت کا عادی، مطالعہ کا خوگر، علم کا سچا طلب گار، اپنی ذمہ داریوں سے واقف، ذوق و شوق، جذبہ صادق، اخلاص و کردار کی دولت سے مالا مال ہو تو (اسی نصاب کے ساتھ) عمدہ اور مطلوبہ نتائج بآسانی حاصل ہو سکتے ہیں. ذیل میں حضرت علامہ سید یوسف بنوری رحمہ اللہ کی ایک تحریر سے منتخب کردہ  نکات ذکر کئے گئے ہیں، نصاب میں تبدیلی کا ڈھنڈورا پیٹنے سے پہلے ہمیں ان بنیادی نکات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، اس کے بغیر کوئی نصاب کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا. 


علامہ بنوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : 

 

نصاب کوئی بھی ہو، لیکن اساتذہ کے انتخاب میں زیادہ غور کی ضرورت ہے، اس کے لیے مندرجہ ذیل امور کا لحاظ ضروری ہے:   


 (1)----مفوضہ کتابوں کی تدریس میں اعلیٰ درجہ کی مہارت رکھتے ہوں، جس کا حاصل یہ ہے کہ استعداد بہت اعلیٰ ہو۔    

(2)--- مخلص ہوں اور دل سے چاہیں کہ طلبہ کو علم آجائے۔     

(3)---جن علوم کو پڑھاتے ہوں ان سے شغف وطبعی مناسبت ہو، غرض یہ کہ محض وقت گزارنا یا معاش کی ضرورت کو پورا کرنا مقصد نہ ہو۔ استعداد، اخلاص، شوق ومناسبت، یہ تین باتیں مدرسین کے لیے معیار انتخاب ہوں۔  


 ** طلبہ کی آسائش وراحت کا پورا خیال رکھا جائے، اگر مدرسہ میں سو طلبہ کے لیے وسعت اور راحت کا انتظام نہ ہو تو بیس رکھے جائیں، لیکن ان کی عملی نگرانی بہت سخت کی جائے۔ درسوں میں حاضری، رات کا مطالعہ، امتحانات میں نہایت سختی کی جائے، اور تسامح نہ کیا جائے، مثلاً اگر سہ ماہی میں فیل ہوگیا تو ششما ہی کے لیے تنبیہ کی جائے کہ اگر ششما ہی میں فیل ہو گیا تو سالانہ امتحان میں نہ لیا جائے گا، اس میں کوئی مراعات ہر گز نہ کی جائے کہ یہی مراعات سمِ قاتل ہے۔    


** اساتذہ کو کتابیں پڑھا نے کے لیے اتنی دی جائیں کہ آسانی سے ان کا مطالعہ کر سکیں اور ان کے متعلقات کو دیکھ سکیں اور ان کو صرف اس کتاب کے حواشی وشرح پر کفایت نہ کرنی چاہیے، بلکہ فن کی اعلیٰ کتابیں پیش نظر رکھنی چاہئیں۔     


** ہر درجہ کے مناسب طلبہ کو بھی مطالعہ کے لیے کتابیں دینی چاہئیں اور ان میں امتحان ضروری ہو، یعنی بغیر تدریس کے صرف مطالعہ سے وہ ان کتابوں پر عبور حاصل کرلیں اور امتحان دیں۔    


** طلبہ کی اخلاقی نگرانی بہت شدید ہونی چاہیے۔ اسلامی حلیہ اور دینی وضع میں کوئی مسامحت 

برداشت نہیں کی جاسکتی، بلکہ غبی محنتی کو بر داشت کیا جائے اور ذکی مستعد آزاد کو نہ رکھا جائے۔ مدرسہ میں قواعد وضوا بط ایسے ہوں کہ نماز کی پابندی اور لباس وپو شاک میں علمی وضع کی حفاظت ملحوظ ہو۔     


** مسابقت کے امتحانات مقرر ہوں، نیز ہر 

سہ ماہی، ششماہی امتحانات میں طلبہ کی اعلیٰ کامیابی پر وظیفہ دینا چاہیے۔     


** ہر سال امتحانات میں ایک پرچہ امتحان کا محض عام استعداد و قابلیت کا رکھنا چاہیے، جس کا کسی خاص کتاب سے تعلق نہ ہو، ہاں! اس درجہ کی اہلیت ضروری ہے۔     


** عربی بولنے کی قابلیت مقاصد میں شامل کرنی چاہیے، تین سال کے بعد تدریس کی زبان عربی ہونا چا ہیے۔      


** عربی ادب پر خاص معیار سے توجہ دینی ہوگی، تقریر وتحریر کی تر بیت دی جائے اور اس کے لیے بہت تفصیل طلب اور مہم تنبیہات کی حاجت ہے جو بعد میں عرض کروں گا۔     


** ہر زمانہ کا ایک فن ہوتا ہے، اس زمانہ کا مخصوص فن تاریخ وادب ہے، اس پر توجہ زیادہ کرنی ہو گی۔     


** قرآن کریم کا ترجمہ ابتدا سے شروع کر نا چاہیے اورتین چار سال میں ختم کر نا چاہیے۔ بغیر کسی تفسیر کے محض ترجمہ ابتداءً زیر درس ہو نا چاہیے اور قابلیت بڑھا نے کے لیے مخصوص اجزا اور سورتوں کا انتخاب کرنا چاہیے اور لغوی وادبی تحقیق کے ساتھ پڑھا نا چا ہیے۔     


** طلبہ کے مطالعہ کے لیے ایک دارالمطالعہ مخصوص ہو، ان کے لیے مفید کتابیں اور عربی مجلات وجرائد رکھنے چاہئیں۔     


** ایک اہم بات جو سلسلۂ تعلیم میں ضروری ہے وہ یہ کہ ابتدائی کتابیں قابل اساتذہ کے پاس ہوں، مثلاً: ہر بڑے استاد کو ایک چھوٹی کتاب دی جائے،اس میں طرفین کا فائدہ ہوگا،طلبہ کو تجربہ کار استاذ سے استفادہ کا موقع ملے گا اور مدرس کا کام ہلکا ہوجائے گا، بجائے ایک بڑی کتاب کے چھوٹی کتاب ہوگی، جس میں اُسے زیادہ دماغ سوزی نہیں کرنی پڑے گی، اور جب مدرس مخلص ہو گا تو یہ سوال پیدا نہیں ہوسکتا کہ بڑی کتابیں پڑھانے والا چھوٹی کتابیں پڑھانا اپنی 

توہین سمجھے۔     

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------


 اپنی تحریر میں علامہ بنوری رحمہ اللہ نے دو ٹوک الفاظ میں یہ بات بھی ذکر کی ہے کہ معاشیات، سیاسیات، سماجیات وغیرہ کی تعلیم ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں، قرآن و حدیث کا صحیح فہم، شریعت کا سچا علم اور علمی پختگی ہمارا اصل مسئلہ ہے، جب یہ مرحلہ طے ہو جائے گا تو باقی چیزیں بھی حل ہو جائیں گی. افسوس یہ ہے کہ کہ کچھ لوگ پہلے مرحلے میں کامیابی سے گزرے بغیر دوسرے مرحلے میں داخل ہو جاتے ہیں اور اپنی علمی کوتاہی کی بنا پر مرعوبیت، احساس کمتری کے جذبات کا شکار ہو جاتے ہیں، پھر انہیں اس کے علاوہ کوئی بات نہیں سوجھتی کہ وہ سارا کیچڑ مدارس کے نصاب پر اچھال کر اپنے دامن کے داغ دھونے کی ناکام کوشش کرتے رہیں..


 علامہ بنوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 

" رہا معاشیات واقتصادیات وسیاسیات کا داخل نصاب ہونا تو یہ مرحلہ اتنا مشکل نہیں،امت کو اس کی اتنی ضرورت بھی نہیں، کیونکہ اس کے لیے بہت مل جاتے ہیں، مشکل تو ’’رسوخ فی العلم ‘‘ہے۔ ہمیں صحیح العلم، راسخ العلم، ذکی اور مخلص علما تیار کرنے ہیں۔ یہ چیزیں(معاشیات وغیرہ) مطالعہ کی ہیں، بآسانی بعد الفراغ حاصل کی جاسکتی ہیں."

اتوار، 30 جولائی، 2023

ہر محبت دکھ دیتی ہے

 ہر محبت دکھ دیتی ہے


شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کہتے ہیں

اے شخص تو کہتا ہے میں جس سے محبت کرتا ہوں اس سے جدا کردیا جاتا ہوں۔ کبھی بیماری سے کبھی عداوت سے، کبھی غلط فہمی سے کبھی موت سے، ہر قیمت پر مجھ سے جدا کردیا جاتا ہے۔


 اے نادان تُو تو وہ خوش قسمت ہے جس پر اللہ تعالٰی نے غیرت کھائی ہے۔ اللہ تجھے اپنے لیے چاہتا ہے اور تو غیر کا ہونا چاہتا ہے۔ ہوش کر ایسا ٹوٹا برتن بن جا جس میں ماسوائے اللہ کے کچھ نہ ٹھہرے


تو غیر کے پیچھے بھاگے گا اللہ تجھ سے اس کے ہاتھوں توڑے گا اور جب تو اللہ کا ہوجائے گا تو ساری مخلوق کو تیرے قدموں میں لا بٹھائے گا۔ تیرے رشتے، تیری محبتیں، تیری آسائشیں لوٹا دی جائیں گی۔


 تیری دولت واپس لوٹا دی جائے گی اور جن سے تو محبت رکھتا تھا اور رویا کرتا تھا اب تیرے لیے روئیں گے مگر اب تیرا دل ان سے بے نیاز ہوگا۔ جب تو ان چیزوں کو دور نہ کردے گا۔ یہ تجھے تکلیف دیں گی۔ ہر محبت دکھ دیتی ہے سوائے اللہ کی محبت کے۔

زبان مٹگٸیں تو یہ انمول خزانہ بھی معدوم ہوجاۓ گا

 زبانیں مٹ گئیں تو یہ انمول خزانہ بھی معدوم ہوجائے گا

زبانیں ہی ثقافت کی محافظ ہیں

اردو رسائل میں عموماً ان ادبی مباحث اور مسائل پر زیادہ ارتکاز ہوتا ہے جن سے عوام یا معاشرے کا زیادہ گہرا رشتہ نہیں ہوتا۔ اردو زبان کے تعلق سے جو بھی گفتگو ہوتی ہے ان سے حقیقی صورتِ حال کا ادراک نہیں ہوپاتا۔ زبان کی زمینی صورت حال کیا ہے اس سے آگہی کے لیے ضروری ہے کہ تحریکات و رجحانات کے بجائے ان بنیادی مسائل پر توجہ دی جائے جن کا زبان کے فروغ اور تحفظ سے تعلق ہے۔ عموماً اردو کے حقیقی مسائل سے اجتناب کیا جاتا ہے اور یہ جاننے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ کن کن علاقوں میں اردو کی حقیقی صورتِ حال کیا ہے؟ 

ماہنامہ ’اردو دنیا‘ میں سوال نامے کے ذریعے دراصل اردو زبان کے بنیادی مسائل سے واقفیت حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ یہ اندازہ ہوسکے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں تعلیم، تدریس اور دیگر سطحوں پر اردو زبان کی صورت حال کیا ہے اور وہاں کس طرح کی دشواریاں اور مشکلات پیش آرہی ہیں۔ جب تک اردو زبان کے بنیادی مسائل پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا جائے گا تب تک اردو زبان کے تحفظ اور بقا کے لیے مربوط لائحہ عمل تیار کرنا مشکل ہوگا۔

سوال زبانوں کی موت کی وجہ کیا  ہے؟

جواب بہت سی ایسی زبانیں جو معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں، کہانیوں، گیتوں اور تاریخی روایات سے بھرپور ثقافت کے خزانوں سے مالامال ہیں، لیکن ان کا اگلی نسل تک منتقل ہونا دشوار ہوچکا ہے، کیونکہ ان کے پاس تحریری صورت میں کچھ بھی نہیں۔ اگر یہ زبانیں مٹ گئیں تو یہ انمول خزانہ بھی معدوم ہوجائے گا۔زبانیں ہی ثقافت کی محافظ ہیں، زبانوں کے بولنے والے اپنے احساسات و جذبات کا اظہار ا ن ہی زبانوں کے ذریعے کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کسی خاص ثقافتی رنگ یا خیال کو کسی دوسری زبان میں اسی کیفیت کے ساتھ ترجمہ کرکے بیان نہیں کیا جاسکتا۔اسی لیے کسی بھی زبان کو اپنی شناخت کوباقی رکھنے کے لیے زمانے کی تبدیلوں کے ساتھ قدم سے قدم  ملا کر چلنا ہوگا۔

س زبانوں کو زندہ رکھنے کے لیے کون سا  نیا طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے؟

ج   انسان ابتدا ہی سے ترسیل و ابلاغ کا عادی رہا  ہے خیالات کی ترسیل اور جذبات کے اظہار کے لیے انسان نے زبان کی ایجاد کی اور زندہ زبان سے مراد  وہ  زبان ہے جسے لوگ ترسیلِ خیالات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ترسیل و ابلاغ کا  موثر ذریعہ سوشل میڈیا ہے۔ آج سوشل میڈیا سے ہر فرد جڑا ہوا ہے۔کسی بھی زبان کے لیے ضروری ہے کہ اس کی رسائی عام انسانوں تک ہوتب کہیں جا کر اس کی بقا اور ترقی کے راستے کھلتے ہیں۔ساتھ ہی زبان کی آبیاری کرنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی لازمی ہے۔

س زبان کا تہذیب و ثقافت سے کیا رشتہ ہے؟

ج  زبان ایک ایسا درخت ہے جس کے سائے میں تہذیب و ثقافت پروان چڑھتی ہے تہذیب و ثقافت کا عمدہ وسیلہ زبان ہے اور  ہرزبان کا ادب  جب تخلیق کیا گیا اس وقت کی تہذیب و ثقافت کی وہ  موثر عکاسی پیش کر تا ہے۔ ہندوستان وہ واحد ملک ہے جہاں جتنی زبانیں بولی جاتی ہیں شاید ہی کسی دوسرے ملک میں بولی جاتی ہوں گی۔ ملک ایک لیکن ریاستیں الگ الگ یہ علیحدہ ریاستیں اپنی  علیحدہ علیحدہ تہذیب و ثقافت کو اپنی علیحدہ زبانوں کے ذریعے پیش کرتی ہیں، لیکن اردو زبان کے حصے میں کوئی ریاست نہ آنے کے باوجود وہ پورے ہندوستان کے تہذیبی و ثقافتی ورثے کی علمبردار ہے۔

س کیا زبان کی موت سے انسانی ورثے کے تحفظ کا مسئلہ بھی جڑا ہے؟  

ج   یہ بات صد فی صد صحیح ہے کہ زبانیں اپنے آپ میں ایک خزانہ ہوتی ہیں اور اگر وہ ختم ہو جائے توانسانی بقا کے لیے کافی مسائل درپیش ہوں گے کیونکہ نئی نسلوں کو ادب، اخلاق، اقدار، زندگی کے نشیب و فراز وغیرہ کا علم حاصل کرنے کا زبان سے مؤثر کوئی دوسرا  وسیلہ نہیں۔

س کیا کسی زبان میں خواندگی، سائنسی،سماجی مواد کی کمی سے زبان پر منفی اثرات پڑتے ہیں؟

ج  سماج مختلف علوم و فنون اور زبانوں کا آئینہ دار ہوتا ہے۔کسی زبان میں خواندگی، سیاسی، سماجی مواد کی کمی سے اگرچہ زبان پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا ہے لیکن اگر شرح خواندگی، سائنسی،سماجی علوم میں اضافہ کیا جائے تو زبان اور سماج کو فروغ حاصل ہوگا۔

س موجودہ دور میں اردو زبان کو خطرہ کس طرح لاحق ہے؟ 

ج   جدید دور میں نئی نسل اردو زبان کو شدت سے  ترک کرکے دیگر زبانوں کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور مغربی تہذیب و ثقافت کے سیلاب کی وجہ سے دنیا کے بیشترممالک میں تبدیلیاں رونما ہوئیں جس کے نقصانات اور فوائد بھی ہیں اسی ٹیکنالوجی سے قدم سے قدم ملا کر چلنے،یا اردو زبان کو ذریعہ معاش بنا نے والے اردو کا دم بھرنے والے اپنی اولاد کو اردو کے بجائے انگریزی زبان و علوم کو سیکھنے کی ترغیب دیتے ہیں اس طرح کے اور بھی کئی نکات ہیں۔

س اردو کا مستقبل کیا ہے؟

ج  موجودہ دور کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے جس طرح مختلف دستی فنکاروں کو زوال آگیا۔ کتب خانوں کی اہمیت میں کمی، قاری کی تعداد میں کمی، یہ تمام چیزیں اردو زبان کو زوال کی طرف دھکیل رہی ہیں۔دوسری جانب جہاں سوشل میڈیا تشہیر کا بہترین ذریعہ ہے لیکن یہاں  جو اردو زبان لکھی جا رہی ہے اس میں اغلاط کی بھرمار دیکھی جا سکتی ہے جو اردو زبان کے زوال کا سبب بن سکتی ہے برخلاف اس کے سوشل میڈیا کا استعمال اردو زبان کے فروغ کے لیے کیا جائے تو ممکن ہے کہ اردو کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔

س زبان کی سطح پر جو بگاڑ  پیدا ہو رہا ہے اس کو روکنے کے لیے کیا ترکیبیں  استعمال کی جا سکتی ہے؟

ج ماحول عمومی طور پر اکتسابی عمل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ خاص طور پر ہندوستان جہاں اردو زبان کی ابتدا ہوئی۔ یہاں کے موجودہ ماحول پر ہندی اور انگریزی زبان کا دبدبہ نظر آتا ہے۔ موجودہ دور کے طالب علم میں  انگریزی، ہندی اور اردو الفاظ میں کسی بھی قسم کے فرق کا احساس نہیں ہے ہمار ے علاقے کی صورت حال یہ ہے کہ مراٹھی، ہندی انگریزی کا ماحول اردو کے مقابلے میں زیادہ دکھائی دیتا ہے ساتھ ہی ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے پروگرام اور موبائل پر مختلف اپلیکیشن وغیرہ پر آنے والے اشتہارات میں کثرت سے ہندی اور انگریزی کے استعمال سے نئے طالب علم اور اردو زبان کے طالب علم دونوں میں ایک طویل فاصلہ بناتا جا رہا ہے دوسری جانب اساتذہ بھی اس تبدیلی کو محسوس کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں زبان کے فروغ کے لیے  اردو کے سوشل میڈیا کے ذریعے صحیح املا اور تلفظ کی تشہیر  ہو، اسکول کالج اور یونیورسٹیوں کی سطح  پر اردو زبان کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں عمل میں لائی جائیں۔

سکیا اردو کی تنظیمیں، زبان سے زیادہ ادب پر توجہ دے رہی ہیں اور زبان سے متعلق کتابوں کی اشاعت تقریبا ًرک سی گئی ہے؟

ج  اردو زبان کی کتابوں کی اشاعت کے متعلق کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ان کی اشاعت رک سی گئی ہے اردو کے لکھنے والے اپنی زیادہ توجہ ادب پر مرکوز کرتے ہیں کیونکہ زبان سے متعلق جہاںپڑھنے پڑھانے کا رجحان کم ہو گیا ہے اگر زبان سے متعلق عنوانات  نصاب میں شامل رہنے کے باوجود اس کو تقربیاً جگہوں پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔

سکیا کلاسیکیت، جدیدیت وغیرہ پر گفتگو سے زبان کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے؟

ج یقینا کلاسیکیت ہی وہ شے ہے جو زبان کو زندہ رکھنے میں کافی مددگار ثابت ہوتی ہے کسی بھی تہذیب و ثقافت کو منعکس ہونے کے لیے کسی نہ کسی زبان کا وسیلہ درکار ہوتا ہے۔ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی  علمبردارزبانوں میں اردو زبان اپنا ایک مقام رکھتی ہے  یا یوں کہیے کہ مشرقی تہذیب و ثقافت کی علمبرداراردو زبان ہے۔جدیدیت پر گفتگو  بھی زبان کے لیے واقعی نفع بخش ثابت ہوگی کیونکہ جدیدیت کے ذریعے حال اور مستقبل میں رونما ہونے والے مسائل کا حل اور جدید وسائل سے استفادہ کر کے  زبان اپنی نئی منازل طے کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

سآپ کے علاقے میں کتنے اردو میڈیم اسکول ہیں اور  ان میں اساتذہ کی تعداد کتنی ہے؟

ج  ہمارے علاقے میں انگریزی میڈیم اسکولوں کی  بڑھتی تعداد کے باوجود اردو میڈیم اسکولوں میں طلبا کی تعداد پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ شہر میں تقریبا 25 اردو میڈیم اسکول ہیں، جن میں ضلع پریشد، سرکاری و نیم سرکاری بلدیہ (مونسپل کارپوریشن) اداروں کا شمار ہوتا ہے ان میں اساتذہ کی تعداد 250سے 300  کے درمیان ہے۔

سآپ کے علاقے  میں کتنی لائبریریاں  ہیں اور وہاں کون سے اخبارات اور رسائل آتے ہیں؟

ج  ویسے  تو شہر کے کالجوں میں قومی  و علاقائی  اخبارات اور رسائل پابندی سے طالب علموں کے مطالعے کے لیے آتے ہیں۔ لیکن عام شہریوں کے مطالعے کے ذوق کی آبیاری کے لیے بلدیہ (مونسپل کارپوریشن)کی شہر کے مختلف علاقوں میں چار لائبریریاں موجود ہیں، اور ریاست  مہاراشٹرا کا پہلا ’اردو گھر‘ شہر میں ہونے کی وجہ سے یہاں کی لائبریری میں بھی اردو کے  مختلف اخبارات پابندی سے آتے ہیں۔

سآپ کے علاقے میں کتنے اردو تنظیمی ادارے اور انجمنیں ہیں اور وہ کس نہج پر اردو کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں؟

ج  شہر میں مختلف تنظیمیں اردو کے فروغ کے لیے اپنی خدمات  انجام دے رہی ہیں  جن میں ’فروغ اردو فورم‘ بڑے فعال انداز میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں شہر کے ’اردو گھر‘کا افتتاح 2021 میں عمل میں آیامحبانِ کو  امید ہے کہ یہاں سے اردو زبان کے فروغ کے اقدامات انجام دیے  جائیں گے۔

سآپ مقامی سطح پر اردو کے فروغ کے لیے کیا کوشش کر رہے ہیں؟

ج  اردو زبان کے طالب علم کی حیثیت سے پچھلے چودہ برسوں سے شہر میں اردو درس  و تدریس کے کام سے وابستہ رہا ہوں۔ میں  ہمیشہ کوشاں رہتا ہوں کہ اپنے طالب علموں میں اردو ادب کے متعلق بیداری پیدا ہو۔ انھیں اردو زبان و ادب کی طرف مائل کر کے اردو کے فروغ میں میں اپنا حصہ درج کراوں۔

سآپ کے ذہن میں اردوکے فروغ کے لیے کیا تجاویز اورمشورے ہیں؟

ج  میں ایسا محسوس کرتا ہوں کہ جدید تہذیب یا مغربی تہذیب کے غلبے نے ساری دنیا میں ایک بے چینی کی کیفیت پیدا کر دی جس کی وجہ سے انسانیت آج بھی سکون و  راحت کی متلاشی نظر آتی ہے۔ یہ راحت و سکون انھیں مشرقی تہذیب میں ہی مل سکتا ہے۔ مشرقی تہذیب و ثقافت کی زندہ جاوید مثال اردو زبان و ادب ہمیں ہمارے ادبی ورثے کوآنے والی نسلوں تک عمدہ  طریقے سے پہچانا ہوگا جوجدید وسائل کے استعمال سے ممکن ہوسکتا ہے اور وہ آنے والی زندگیوں میں سکون و راحت کا باعث بنے گا۔ یہی کوشش اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے کافی معاون ثابت ہوگی۔علاقائی سطح پر اردو میں عمدہ خدمات انجام دینے والے شاعر، ادیب، صحافی وغیرہ کے لیے سرکاری اعزازات کا نظم رکھا جائے۔سوشل میڈیا  کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کے مضر اثرات کا خیال بھی رکھا جائے۔

ساردو رسم الخط کی بقا  کے لیے کیا کوششیں کی جا سکتی ہیں؟

ج  کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی ایجاد سے دنیا میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں رو نما ہوئیں۔ 1980 میں د نیا کی اکثر زبانوں کو کمپیوٹر میں استعمال کیا جانے لگا تھالیکن اردو زبان کے لیے بہت ساری دشواریاں پیدا ہوئیں اور یہ احساس پیدا ہوا کہ اردو زبان اس  تیز رفتارٹیکنالوجی کی زد میں آ کر ختم ہو جائے گی۔1981 میں ’احمد مرزا جمیل‘ نے ’جمیل نوری نستعلیق‘ فونٹ کی ایجاد کی۔ اس ایجاد نے اردو زبان کی ترقی میں پر لگا دیے اردو رسم الخط کے بارے میں عام تاثر یہ تھا کہ یہ جدید برقیاتی دور کا ساتھ نہیں دے سکتی لیکن ’جمیل نوری نستعلیق‘کی ایجاد نے اردو کی اس خامی کو دور کیا۔ اردو زبان کا معارف سافٹ ویئر ’ان پیج اردو‘ اسی نوری نستعلیق کا مرہون منت ہے۔لیکن آج تقریبا  40 برس گزر جانے کے بعد ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود اردو کے فروغ میں رسم الخط  اہم رول ادا کرتا ہے‘‘ MSWord  ’’میں ہم بہ آسانی اردو رسم الخط تحریر کر سکتے ہیں لیکن‘‘ Google’’اور دیگرپلیٹ فارم اور موبائل اپلکیشنو ں پر اردو رسم الخط آسانی سے استعمال کرنے کی سہولت فراہم کرنی ہوگی۔

س دوسری علاقائی زبانوں میں اردو کے فروغ کی کیا صورت ہو سکتی ہیں؟ 

ج  ہندوستان میں ہر علاقے کی اپنی اپنی زبان ہی اس کی پہچان ہے ان  علاقائی زبانوں کے بعد اگر کوئی زبان ہندوستان میں  رائج ہے تو وہ اردو ہی ہے  اردو کی ترویج و اشاعت کے لیے جدید دور کے تمام وسائل کو بروئے کار لانا ہوں گا مثلاً مشاعرے،بیت بازی، اخبارات کی اشاعت، اسکولی سطح پر طرحی مشاعرے ان مشاعروں میں علاقائی زبان کی طلبا و اساتذہ کی شرکت کو بڑھانا ہوگا  غیر اردو داں طبقے کے ساتھ اردو زبان میں گفتگو اردو زبان کے فروغ کے لیے سود مند ثابت ہوسکتی ہے۔

سکیا آپ کے اہل خانہ اردو زبان میں لکھنا پڑھنا اور بولنا جانتے ہیں؟

ج  میرے والدنے علاقائی زبان مراٹھی  میڈیم سے اپنی تعلیم مکمل کی لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ وہ اردو زبان لکھ، پڑھ، بول اور سمجھ سکتے ہیں۔ میری والدہ میرے، دوبھائی دو بہنیں اور اہلیہ نے بھی اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کی۔ میری دختر ’مائرہ فاطمہ‘  فرزند ’محمد ذہیب‘ کو  اردو میڈیم اسکول میں داخل کیاگیا۔

سآپ کے بعد کیا آپ کے گھر میں اردو زندہ رہے گی؟

ج  ان شاء اللہ! ضرور اورمیں اپنی اولاد کو اس عظیم زبان کی بقا  کے  لیے ہمیشہ کوشاں رہنے کی ترغیب دوں گا۔

سغیر اردو حلقے میں فروغ اردو کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے؟

ج  علاقائی زبانوں کے ساتھ اردو زبان کو موازناتی طور پر پیش کیا جائے۔ اردو پروگرام میں غیر اردو داں طبقے کو مدعو کر کے اس پروگرام کی نظامت کواردو و  علاقائی زبان میں انجام دیا جائے  غیر اردو داں طبقے کواردو زبان سکھانے  لیے مختلف قسم  کے پروگرام علاقائی سطح پر چلائے جائیں اور  علاقائی زبانوں کے اساتذہ کو اردو زبان سکھائی جائے۔

سآپ کے علاقے میں کتنے کالجز، یونیورسٹیز ہیں جن میں اردو کی تعلیم دی جاتی ہے اور اردو پڑھنے والوں کی تعداد کتنی ہے؟

ج  ہمارے شہر میں ایک یونیورسٹی ’سوامی راما نند تیرتھ مراٹھواڑاہ یونیورسٹی ناندیڑ‘  ہے لیکن افسوس کی بات یہ کہ مختلف کوششوں کے باوجودشعبہ اردو کا قیام عمل میں نہیں آسکا، لیکن اس سے منسلک ڈگری کالجوں میں طلبا و اساتذہ کی تعداد اطمینان بخش ہے۔ جونیئر کالجز کی تعداد 10 ہے لیکن کچھ مراٹھی میڈیم کالجوں میں اردو بھی پڑھائی جاتی ہے۔

سملکی سطح پر غیر سرکاری تنظیموں سے اردو کی ترویج و اشاعت کے سلسلے  میں کس طرح مدد لی جا سکتی ہے؟

ج  غیر سرکاری تنظیموں کو اردو زباں کے ورثے سے واقف کرایا جائے۔ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی اہمیت کا احساس دلایا جائے جو ملک میں  امن و سلامتی   کے لیے کافی  مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔

*بدلتے حالات، ہمارا رویہ اور بچوں کا لٹریچر، ہمیں کیا کرنا چاہئے؟*


اکیسویں صدی نے ملک، دنیا اور معاشرے بہت تیزی سے بدل دیا ہے۔ رہن سہن، کھانا پینا، نیز زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں چھوڑا جس میں منفی یا مثبت انقلاب برپا نہ ہوگیا ہو۔ آج کا بچہ آپ کے اور ہمارے دور اطفال اور اس بچپن سے بالکل مختلف ہےجو ہماری یادوں اور لا شعور میں بسا ہوا ہے۔بلاشبہ وقت ہمیشہ بدلتا رہا ہے اور بدلنا بھی چاہیے لیکن گزشتہ دو تین دہائیوں میں زمانہ اتنی تیزی سے بدلا ہے کہ بہت سی چیزیں نادانستہ طور ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہیں اور جب تک ہم اس پر غور و فکر  کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس اس وقت تک نا قابل تصور تبدیلیاں رو نما ہوچکی ہوتی ہیں۔ 

آج کی ایجادات اور نئے تکنیکی دور نے آرام کی نئی جہتیں قائم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ ہم اسے زندگی کے ہر شعبے میں دیکھ سکتے ہیں۔ شاید اس نے نادانستہ طور پر ہمیں روز مرہ کی بہت سی اقدار سے الگ تھلگ بلکہ بہت دور کر دیا ہے۔ ہمارے عہد کے وہ بچے بھی جنہیں ہم چھوٹے ہی سمجھتے ہیں ،مکمل طور پر بالغ ہیں، جو انٹرنیٹ اور الیکٹرانک دنیا کی اس لامتناہی راہداری میں بہت دور نکل چکےہیں، جہاں ان کے پاس موبائل فون، کمپیوٹر، ویڈیو گیمز اور انٹرنیٹ سے بھری ایک مختلف دنیا ہے۔ جس میں نہ صرف باہمی تعلقات، محبت، رہن سہن، خوراک اور فلسفۂ زندگی ہے بلکہ پوری ثقافت ہی موجودہے مگر بدلی ہوئی شکل میں۔ 

آج باہمی انحصار کا دور بھی مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، پہلے کا دور کم از کم ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ سماجی اور معاشی بندھن میں باندھ کر رکھتا تھا۔ معاشیات کا پرانا نظام بھلے ہی آج حاشیے پر چلا گیا ہو، لیکن وہ کافی حد تک درست تھا۔ اسی ناطےسے ہم سبباہم دیگر جڑے ہوئے تھے۔ جب وقت آتا تو ہم ایک دوسرے کی مددکے لیے کھڑے رہتے تھے۔ مگر آج ایسا نہیں ہے، آج ہر چیز کا فیصلہ دولت کو مرکز میں رکھ کر کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ تعلقات اور رشتوں کو بھی اسی پیمانے سے ناپا جاتا ہے۔ 

ہم  اپنے بچوں کے بچپن اور بزرگوں سے سماجی رشتے چھینے جانے کا ذمہ دار جسے بھی ٹھہرائیں مگر بچوں کے تعلق سے والدین کی غلطیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں اس صورت حال کے ذمے دار ایک طرف ہائی ٹیک موبائل اور انٹرنیٹ کمپیوٹر ہیں، اس سے کہیں زیادہ ان بچوں کے والدین اور سرپرست حضرات ہیں جنھوں نے دانستہ یا نادانستہ طور پر اپنے بچوں کو گھر پر وہ تمام سہولیات فراہم کررکھی ہیں جو ان کے دل ودماغ کو لمحہ لمحہ اور پل پل بدل رہی ہیں اور بچوں سے ان کی معصومیت اور بچپن چھین رہی ہیں۔ طُرفہ یہ بھی ہے کہ والدین کی نظر اس بات پر رہتی ہے کہ ان کے بچے ٹیکنالوجی کے فیلڈ میں بہت کچھ نیا سیکھ رہے ہیں اورآگے بڑھ رہے ہیں جبکہ دوسری طرف یہی ٹیکنالوجی ان کے پشتینی اور مذہبی اقداروروایات کو نگل رہی ہے، اس طرف ان کا توجہ مبذول نہیں ہے۔ 

والدین اپنے بچوں کے لیے اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ نہ صرفوہ نئے زمانے کی جدتوں،تقاضوں اور ضرورتوں سے پوری طرح باخبر ہوں، بلکہ ان میں مہارتیں بھیپیدا کرلیں۔ متول والدینکے شوق کا توعالم یہ ہے کہ وہ قسم قسم کی الیکٹرانک اشیاء سے گھر کو بھردیتے ہیں۔ اور بچوں کونت نئی اورمہنگی ترین ٹیکنالوجی کے اشیاء وآلات مہیا کراتے ہیں۔ 

اس تناظر میں یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہوگی کہ آج کے بچے ٹیکنالوجی کے غلام بن چکے ہیں۔ بیس پچیس سال پہلے ٹی وی پر صرف ایک چینل ہوا کرتا تھا۔ لیکن وقت کی تبدیلی نے ایسا موڑ لے لیا ہے کہ آج 300 سے زائد چینل بھی لوگوں کی پیاس کو ٹھنڈا نہیں کر رہے ہیں۔ ان چینلوں کو بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی دیکھ رہے ہیں۔ جہاں ہر قسم کا رطب و یابس مواد مہیا کیاجا رہا ہے، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ معاشرے اور خصوصاً بچوں پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔ اکثربچے اس دنیا میں اس قدر مگنہونے لگےہیں کہ وہ بڑوں کی بات تک نہیں مانتے، بزرگوں کی باتیں انھیں دقیانوسی اور فرسودہ معلوم ہوتی ہیں۔ 

آخرآج کے والدین اپنے بچوں میں اس رویے کو دیکھ کر بھی خاموش کیوں ہیں؟ بچوں کا پیارا بچپن آج کہاں گم ہو چکا ہے؟ دادا ، دادی یا گھر کے دوسرے بڑوں کی زبانی سنائی جانے والی پریوں، بھوتوں اور شہزادیوں کی دلچسپ اور سبق آموز کہانیوں کا ان کی زندگی میں کوئی کردار نہیں جبکہ موبائل فون، کمپیوٹر، ویڈیو گیمز اور کارٹون شوز کے ساتھ ان کی وابستگیاں دیوانے پن کی حد تک بڑھ گئی ہیں۔ 

سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ بچے قبل از وقت بڑے ہو رہے ہیں۔ یہ بچے دیکھنے میں چھوٹے لگ سکتے ہیں لیکن ذہن اور نقطہ نظر کے لحاظ سے وہ بہت تیز اور شاطر ہوتے جا رہے ہیں۔ آج کے بچے ،ٹی وی اور سنیما میں جو کچھ دیکھتے ہیں اسے اپنی حقیقی زندگی میں لانے کی کوشش کرتے ہیں، ٹیکنالوجی نے ان کے احساسات کو ختم کر دیا ہے۔ 

ٹیکنالوجی کے حصارمیں گھرے بچوں کی زندگی مکمل مشین بن چکی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ‘ٹین ایج ’میں ہی یہ بچے انتہائی سفاکانہ جرائم کا ارتکاب کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ ان کی جنسی خواہشات بلوغت کی عمر سے بہت پہلے ہی ان کے وجود اور اعصاب پر حاوی ہوجاتی ہیں۔ رفتہ رفتہ وہان خواہشات کے زیر اثر کئی اعمالکے عادی ہوجاتے ہیں اور ذہنی مریض بن جاتے ہیں۔ کیونکہ زیادہ تر فلمیں اور کارٹون یورپ اور امریکہسے ریلیز ہوتی ہیں، ان میں ایک خطرناک اور تباہ کن بات جو آہستہ آہستہ معصوم بچوں کے ذہنوں میں بٹھائی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ ہم جنسیت یا شادی سے قبل جنسی تعلق کوئی گناہ نہیں ہے اور اگر کسی میں یہ رجحان ہے تو یہ بھی بالکل درست ہے۔ 

سابقہ نسلوں کے اندر ذہنی وجسمانی اور تہذیث وثقافت کی تبدیلی چالیس پچاس سال میں نظر آتی تھی۔ بعد کے زمانے میں اس تبدیلی میں مطلوب وقت،کم اور مختصر ہوتے ہوتے محض پندرہ بیس سال رہ گیا۔ موجودہ زمانے میں تبدیلی کا یہ دورانیہ مزید سکڑ کر اور بھی کم ہوگیا ہے۔ جدید ترین ایجادات اور ٹیکنالوجی نے ذہن کو پوری طرح بدل کر رکھ دیا ہے۔ صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ آج نسلوں کی تبدیلی دو نسلوں میں نہیں بلکہ ایک چھت تلے رہنے والے افراد کے درمیان ہی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ فہم وفراست اور شعور کی تبدیلیوں نے سوچ اور کردارکو بدل دیا ہے۔ اگر ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالیں تو دیکھیں گے کہ بہت سے خاندان ایسے ہیں جن میں باپ کے خیالات اپنے بڑے بیٹےکی نظر میں ہی فرسودہ ہیں۔ اب اولاد کی نگاہ میں والدین موہن جوداڑو کی تہذیب کے پروردہ اورنئے زمانے کے تقاضوں اور چیلنجز سے ناواقف مخلوق لگنے لگتےہیں۔ 

یہ صحیح ہے کہ جس تیزی سے معاشرہ بدلا ہے ہماری زبان میں بچوں کا ادب بھی بڑی حد تک بدل گیا ہے۔ موجودہ لٹریچر میں بدلے ہوئے ادب کی جھلک نظر آتی ہے۔ لیکن بچوں کے لیے لکھے جانے والے لٹریچر میں مزید تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اگر کسی قوم کا رہن سہن، کھانے پینے کی عادات بدل سکتی ہیں یا بدل گئی ہیں تو اس قوم کے ادب کو بھی بدلنا چاہیے بلکہ بدلتے رہنا چاہیے ۔ تاہم یہ بات قدرے افسوس اور دکھ دینے والی ہے کہ ہمارے بچوں کے لیے لکھے گئے ادب کے ساتھ ایسا مکمل طور پر نہیں ہوا۔ 

اس کا ثبوت ہمیں 25 سے 30 سال پہلے لکھی جانے والی کئی ایسی تالیفات سے ملتا ہے جن کی تخلیق ،افکار اور اسلوب میں تازگی نہیں ہے یا زمانے کی رفتار اور مزاج کے ساتھ ہم آہنگی نہیں ہے۔ آخر آج کا بچہ وہ سب کیوں پڑھے گا جو اس کی دنیا سے تعلق نہیں رکھتا، اس کے اپنے زمانے سےہم آہنگ  نہیں۔ آج کے بچے ماضی کی طرح بچوں کے ادب کے ذریعے تبلیغ کرنا پسند نہیں کرتے،انہیں آج کی جدوجہد کاعلم ہے، وہ وہی ادب پسند کریں گے جو ان کی معاصر زندگی میں ان کے لیے سچا معاون اورکھرا رہنما ثابت ہوگا۔ 

آج کے بچے اپنی زندگی میں آنے والی مصیبتوں کا حساب دینا جانتے ہیں۔ وہ روزانہ ایسے تمام مسائل سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔ گھر، خاندان، معاشرہ، اسکول خود بخود اسے بہت سی چیزیں سکھا رہے ہیں۔ ایسے میں ان کو ایسا ادب دیا جائے جو ہوا کے نرم جھونکے کی طرح ہو، جوبچوں کے ساتھ ہمدردی بھی کر سکے اور ان کا ساتھی بھی بن سکے۔ انہیں تھوڑی دیر کے لیے آرام، تحریک اور تفریح دے سکے۔ ایسا ادب تخلیق ہونا چاہیے جو ان کے احساسات کو چھو سکے۔ ہم بھلے ہی معاشرے کو نہیں بدل سکتے لیکن اپنا رویہ تو بدل سکتے ہیں۔ 

معاشرے میں جو سب سے بڑی کمی آئی ہے یا نقص واقع ہوا ہے وہ حساسیت کی کمی ہے۔ اگر اس خلا کو خوب صورت، علمی اوربچوں کے صحت مند ادب کے ذریعے دور کیا جائے تو بہت سے مسائل آسانی سے حل کیے جاسکتے ہیں۔ صالح اور صحت مند ادب سے بچوں میں جو حساسیت پیدا ہوگی وہ انسانی زندگی کو متاثر کرنے والے خوشی اورغم کے واقعات کی علتوں اور جہتوں کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اسی سے وہ ہمدردی، غم گساری اور بھائی چارے کی اہمیت کو پہچان سکیں گے۔ 

صالح ادب نئی نسل کو اداسی، غصہ اور خوف جیسے پیچیدہ جذبات کو سمجھنے اور ان پر قابو پانے میں بھیخاصی مدد کر سکتا ہے۔ بچے صحت مند ادب کے ذریعہ سے اپنے آپ کو ظاہر کرنا سیکھ سکتے ہیں اور اپنے جذبات واحساسات کی گہرائی کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔ مزید برآں، ایسا ادب ان کے اندر ہمدردی،محبت اور نرمی کے گن پیدا کرنے میں ان کی مدد کر سکتا ہے۔ بچوں کے لیے لکھے گئے صالح ادب پر مبنی کتابوں میں کرداروں کو مشکل حالات کا سامنا کرتے اور ان پر قابو پاتے ہوئے دیکھ کر، بچے امید اور عزم کے احساس کے ساتھ اپنی زندگی اور حالات کے چیلنجز کا مقابلہ کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ 

ایسا ادب ہمارے نونہالوں کو ان کے جذبات کو سمجھنے اور بہتر پیرائے میں ان کا اظہار کرنے میں مدد کرنے کے علاوہ،انہیں سماجی مسائل اور مشکل موضوعات کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے۔ اسی طرح نوجوانوں کے مسائل اور ان کے ذوق وشوق کے پیش نظر لکھا گیا ادب اورپھر مناسب وسائل کی فراہمی، انہیں نسل پرستی، غنڈہ گردی اور جنسی ہراسانی جیسےمسائل پر قابو پانے میں ان کی مدد کرسکتی ہے اور وہ اپنے اردگرد کی دنیا کی پیچیدگیوں کو بہتر طور پر سمجھ سکنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔ 

آج بچوں کو جس قسم کی تعلیم دی جا رہی ہے اب اس میں تبدیلی ہونی چاہیے، نصاب تعلیم میں بھی اور طریقہ تدریس میں بھی۔ صحت مند لٹریچر کا مطلب ہے عملی چیزوں سے آراستہ ایک تادیبی مطالعہ، جس میں آج کے متجسس بچوں کے ہر ان سنے اور حل نہ ہونے والے سوالات کا نہایت تشفی بخش اورآسان سا جواب دیا جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم ایک اچھے معاشرے کا تصور کر سکتے ہیں جہاں ہمارے بچے زندگی کی قدروں اور اس کی حقیقی روح سے متعارف ہو سکیں گے۔