پیر، 20 نومبر، 2023

آج شیرِ میسور، سلطان حیدر علی کے سب سے بڑے فرزند، ٹیپو سلطان کا یوم ولادت ہے

آج شیرِ میسور، سلطان حیدر علی کے سب سے بڑے فرزند، ہندوستان کے اصلاح و حریت پسند حکمران، بین المذاہب ہم آہنگی کی زندہ جاوید مثال، طغرق (فوجی راکٹ) کے موجد ٹیپو سلطان کا یوم ولادت ہے

  آج شیرِ میسور، سلطان حیدر علی کے سب سے بڑے فرزند، ہندوستان کے اصلاح و حریت پسند حکمران، بین المذاہب ہم آہنگی کی زندۂ جاوید مثال، طغرق (فوجی راکٹ) کے موجد ٹیپو سلطان کا یوم ولادت ہے، ٹیپو سلطان کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا، آپ بنگلور، ہندوستان میں 20 نومبر 1750ء میں حیدر علی کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سلطان حیدر علی نے جنوبی ہند میں 50 سال تک انگریزوں کو بزورِ طاقت روکے رکھا اور کئی بار انگریزافواج کو شکست فاش بھی دی۔ ٹیپو سلطان کا قول تھا: "شیر کی ایک دن کی زندگی ، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔"

آپ نے برطانوی سامراج کے خلاف ایک مضبوط مزاحمت فراہم کی اور برصغیر کے لوگوں کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرنے کیلیے سنجیدہ و عملی اقدامات کئے ۔سلطان نے انتہائی دوررس اثرات کی حامل فوجی اصلاحات نافذ کیں صنعت و تجارت کو فروغ دیا اور انتظامیہ کو ازسرنو منظم کیا سلطان کو اس بات سے اتفاق تھا کہ برصغیر کے لوگوں کا پہلا مسئلہ برطانوی اخراج ہے۔ نظام حیدرآباد دکن اور مرہٹوں نے ٹیپو کی طاقت کو اپنی بقا کیلیے خطرہ سمجھا اور انگریزوں سے اتحاد کرلیا۔ ٹیپو سلطان نے ترکی، ایران، افغانستان اور فرانس سے مدد حاصل کرنے کی کوششیں کیں مگر کا میاب نہ ہوسکے۔ میسور کی آخری جنگ کے دوران جب سرنگاپٹم کی شکست یقینی ہوچکی تھی ٹیپو نے محاصرہ کرنے والے انگریزوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کی اور قلعے کو بند کروادیا غدار ساتھیوں نے دشمن کی لیے قلعے کا دروازہ کھول دیا اور قلعے کے میدان میں زبردست جنگ چھڑ گئی۔بارُود کے ذخیرے میں آگ لگ جانے کے باعث مزاحمت کمزور ہوگئی اس موقع پر فرانسیسی افسر نے ٹیپو کو Chitaldrug بھاگ جانے اور اپنی جان بچانے کا مشورہ دیا مگر ٹیپو راضی نہ ہوئے اور 4 مئی 1799ء کو میداں جنگ میں دشمنوں سے لڑتے ہوئےشہید ہو گئے۔

ٹیپو سلطان کی زندگی ایک سچے مسلمان کی زندگی تھی مذہبی تعصب سے پاک تھے یہی وجہ تھی کہ غیر مسلم ان کی فوج اور ریاست میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ ٹیپو سلطان نے اپنی مملکت کو مملکت خداداد کا نام دیا ۔حکمران ہونے کے باوجود خود کو عام آدمی سمجھتے، باوضو رہنا اور تلاوت قرآن آپ کے معمولات میں سے تھے، ظاہری نمودونمائش سے اجتناب برتتے ۔ ہر شاہی فرمان کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کیا کرتے تھے۔ زمین پر کھدر بچھا کر سویا کرتے تھے۔ ٹیپو سلطان ہفت زبان حکمران کہے جاتے ہیں آپ کو عربی، فارسی، اردو، فرانسیسی، انگریزی سمیت کئی زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ آپ مطالعے کے بہت شوقین تھے اور زاتی کتب خانے کے مالک تھے جس میں کتابوں کی تعداد کم و بیش 2000 بیان کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ سائنسی علوم میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ آپ کو برصغیر میں راکٹ سازی کا موجد کہا جاتا ہے۔ ہر جنگ میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ رہنے والے ٹیپو سلطان اپنے زمانے کے تمام فنون سپہ گری سے واقف تھے۔ اپنی افواج کو پیادہ فوج کے بجائے سواروں اور توپ خانے کی شکل میں زیادہ منظّم کیا ۔ اسلحہ سازی، فوجی نظم و نسق اور فوجی اصلاحات میں تاریخ ساز کام کیا۔

میسور کی چوتھی جنگ جو سرنگاپٹم میں لڑی گئی جس میں سلطان نے کئی روز قلعہ بند ہوکر مقابلہ کیا مگر سلطان کی فوج کے دو غدّار میر صادق اور پورنیا نے اندورن خانہ انگریزوں سے ساز باز کرلی تھی۔ میر صادق نے انگریزوں کو سرنگاپٹم کے قلعے کا نقشہ فراہم کیا اور پورنیا اپنے دستوں کو تنخواہ دینے کے بہانے پیجھے لے گيا۔ شیر میسور کہلانے والے ٹیپو سلطان نے داد شجاعت دیتے ہوئے کئی انگریزوں کو جہنم واصل کیا اور سرنگاپٹم کے قلعے کے دروازے پر جامِ شہادت نوش فرمایا، شاعر مشرق علامہ اقبال کو ٹیپو سلطان شہید سے خصوصی محبت تھی 1929ء میں آپ نے شہید سلطان کے مزار پر حاضری دی اور تین گھنٹے بعد باہر نکلے تو شدّت جذبات سے آنکھیں سرخ تھیں۔ آپ نے فرمایا: "ٹیپو کی عظمت کو تاریخ کبھی فراموش نہ کر سکے گی وہ مذہب ملّت اور آزادی کے لیے آخری دم تک لڑتا رہا یہاں تک کے اس مقصد کی راہ میں شہید ہو گیا۔"
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 12 نومبر، 2023

آج اردو میں بچوں کے سب سے بڑے ادیب اور شاعر مولانا اسمٰعیل میرٹھی کا یوم ولادت ہے۔

آج اردو میں بچوں کے سب سے بڑے ادیب اور شاعر مولانا اسمٰعیل میرٹھی کا یوم ولادت ہے۔

+اوچ شریف (نوائے اوچ رپورٹ/یوم یک شنبہ، بتاریخ 12 نومبر 2023ء) آج اردو میں بچوں کے سب سے بڑے ادیب اور شاعر مولانا اسمٰعیل میرٹھی کا یوم ولادت ہے، مولانا اسمعیل میرٹھی 12 نومبر 1844 کو میرٹھ میں پیدا ہوئے، آپ کے والد کا نام شیخ پیر بخش تھا اور یہی آپ کے پہلے استاد بھی تھے، اس دور کے رواج کے مطابق مولانا نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ پہلے فارسی اور پھر دس برس کی عمر میں ناظرہ قرآن مجید کی تعلیم مکمل کی۔

1857 کی جنگِ آزادی کی تحریک کے وقت 14 سالہ اسمٰعیل نے محسوس کر لیا تھا کہ اس وقت اس مردہ قوم کو جگانے اور جگائے رکھے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اسی مقصد کے تحت اس نے دینی علوم کی تکمیل کے بعد جدید علوم سیکھنے پر توجہ دی، انگریزی میں مہارت حاصل کی، انجنیئرنگ کا کورس پاس کیا مگر ان علوم سے فراغت کے بعد اعلیٰ ملازمت حاصل کرنے کی بجائے تدریس کا معزز پیشہ اختیار کیا تاکہ اس راہ سے قوم کو اپنے کھوئے ہوئے مقام تک واپس لے جانے کی کوشش کریں۔

1857ء سے پہلے اردو شاعروں نے خیالات کے میدان میں گھوڑے دوڑانے کے علاوہ کم ہی کام کیا تھا، مگر اسمٰعیل میرٹھی نے اپنے ہم عصروں، حالی اور شبلی کی طرح اپنی شاعری کو بچوں اور بڑوں کی تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنایا۔ مولانا نے پچاس سے زیادہ نظمیں لکھی ہیں جو صرف بچوں کے لیے ہیں۔ان میں سے کچھ ایسی ہیں جن کا انہوں نے انگریزی شاعری سے ترجمہ کیا ہے مگر اس کے باوجود یہ نظمیں اپنی زبان اور بیان کے لحاظ سے انتہائی سادہ اور پر اثر ہیں۔اردو کے علاوہ مولانا نے فارسی ریڈرز بھی ترتیب دیں اور فارسی زبان کی گرائمر کی تعلیم کے لیے کتابیں لکھیں۔

مولانا کے دو ہندو دوستوں نے جو سرجن تھے، اردو میں اناٹومی اور فزیالوجی یعنی علمِ تشریح اور علم افعال الاعضا پر کتابیں لکھی تھیں۔ مولانا نے ان دوستوں کی درخواست ہر ان کتابوں پر نظرِ ثانی کی اور ان کی زبان کو ٹھیک کیا۔ اپنے روحانی استاد اور پیر کی حالات پر ایک کتاب 'تذکرہ غوثیہ' کے نام سے لکھی۔ دہلی کے مشہور عالم اور ادیب منشی ذ کاء اللہ نے بھی سرکاری اسکولوں کیلئے اردو ریڈروں کا ایک سلسلہ مرتب کیا تھا، ان کی ان کتابوں مں مولانا اسمٰعیل میرٹھی کی نظمیں شامل تھیں، مولانا نے جغرافیہ پر بھی ایک کتاب لکھی جو اسکولوں کے نصاب میں داخل رہی۔ مسلمانوں کے اس عظیم خدمت گزار مصلح نے 73 سال کی عمر میں یکم نومبر 1917ء کو وفات پائی۔

|انتخاب کلام|

ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں
نائو کاغذ کی سدا چلتی نہیں
٭٭٭
رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گائے بنائی
٭٭٭
نہر پر چل رہی ہے پن چکی
دھن کی پوری ہے کام کی پکی
٭٭٭
بندگی کا شعور ہے جب تک
بندہ پرور! وہ بندگی ہی نہیں
٭٭٭
نہیں معلوم کیا واجب ہے کیا فرض
مِرے مذہب میں ہے تیری رضا فرض
٭٭٭
کبھی بُھول کر کسی سے نہ کرو سلوک ایسا
کہ جو تم سے کوئی کرتا تمہیں ناگوار ہوتا
٭٭٭
خواہشوں نے ڈبو دیا دِل کو
ورنہ یہ بحرِ بیکراں ہوتا
٭٭٭
سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیں
مُجھے دل لگی کے ٹھکانے بہت ہیں
٭٭٭
اِن بد دِلوں نے عشق کو بدنام کر دیا
جو مرتکب شکایتِ جور و جفا کے ہیں
٭٭٭
مارا بھی اور مار کر زندہ بھی کر دیا
یہ شعبدے تو شوخیٔ نازو ادا کے ہیں
٭٭٭
اظہارِ حال کا بھی ذریعہ نہیں رہا
دل اتنا جل گیا ہے کہ آنکھوں میں نم نہیں
٭٭٭
خود فروشی حُسن کو جب سے ہوئی مدِ نظر
نرخِ دل بھی گھٹ گیا جانیں بھی ارزاں ہو گئیں
٭٭٭
آغازِ عشق عُمر کا انجام ہو گیا
ناکامیوں کے غم میں مرا کام ہو کیا
٭٭٭
جاگیرِ دَدر پر ہمیں سرکارِ عشق نے
تحریر کر دیا ہے وثیقہ دوام کا
٭٭٭
کسی کی برقِ تبسّم جو دل میں کوند گئی
تو چشمِ تر کا ہوا حال ابرِ تر کا سا
٭٭٭
جی چاہتا ہے آپ کے در پر پڑا رہوں
صاحب نہیں ہے اور کوئی اِس غلام کا
٭٭٭
طالب ہوں تجھ سے تیری مُحبت کے جام کا
تیرے سوا نہیں ہے کوئی تشنہ کام کا
٭٭٭
زلف دیکھی اس کی جن قوموں نے وہ کافر بنیں
رخ نظر آیا جنہیں وہ سب مسلماں ہو گئیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پیشکش: نوائے اوچ لٹریری سوسائٹی (رجسٹرڈ)
► © Nawaeuch نوائے اوچ ®

جمعہ، 10 نومبر، 2023

اگر ہندوستان تقسیم نہیں ہوتا تو؟



اگر ہندوستان تقسیم نہیں ہوتا تو؟

پرویز مشرف کے سیکولر، لبرل آمرانہ دورِ حکومت میں وہ اینکر پرسن اور سیاست دان جو ابوالکلام آزاد کی کتاب انڈیا ونز فریڈم (India Wins Freedom) کو ہاتھوں میں لہرا لہرا کر برصغیر پاک و ہند کی تقسیم اور پاکستان کی تخلیق کو ایک بہت بڑی سیاسی اور قومی غلطی قرار دیتے تھے۔ وہ کالم نگار اور دانشور جن کے قلم ابوالکلام آزاد کی پیش گوئیوں کو پیغمبرانہ حیثیت دیا کرتے تھے، وہ آج کس قدر خاموش ہیں۔ سب کی زبانیں گنگ ہیں اور سب کے قلم خاموش۔ ان سب نے دھیرے دھیرے ابوالکلام آزاد کے اس نظریے کو میٹھے زہر کی طرح عوام میں پھیلانا شروع کر دیا تھا کہ اگر موجودہ پاکستان، موجودہ بنگلہ دیش اور ہندوستان کے مسلمان ایک ساتھ متحدہ ہندوستان میں رہ رہے ہوتے تو یہ ایک اتنی بڑی اقلیت ہوتے کہ ان کو چھیڑنا یا ان کے خلاف کوئی قدم اُٹھانا کسی بھی حکومت کیلئے انتہائی مشکل ہوتا۔ گنگا جمنی تہذیب کے ان وکیلوں کے چند سال بعد ہی اس وقت ہوش ٹھکانے آ گئے جب ’’راشٹریہ سیوک سنگھ‘‘ اور ’’بجرنگ دَل‘‘ کی ستر سالہ جدوجہد جمہوری بی جے پی کی صورت میں کامیاب ہوئی اور پھر 2014ء میں نریندر مودی کی صورت اس کا اصل چہرہ برسرِاقتدار آیا اور جمہوریت کی اصل ’’روح‘‘ یعنی اکثریت کی حکومت یا اکثریت کی آمریت اپنے اصل روپ میں سامنے آئی۔ آج دُنیا بھارت کو انتخابی جمہوریت (Electoral Democracy) نہیں بلکہ انتخابی مطلق العنانیت (Electoral Autocracy) کہہ رہی ہے۔ یہ تبدیلی اب صرف بھارتی جمہوریت تک محدود نہیں رہی، بلکہ دُنیا کی ایسی بیشتر جمہوریتیں جہاں انتخابات کے ذریعے حکومتیں بنتی ہیں، وہاں اب ایسے حکمران برسرِاقتدار آ رہے ہیں جو اپنے ممالک میں ’’مطلق العنان شخصی بادشاہتیں‘‘ قائم کر رہے ہیں اور ان کی ان بادشاہتوں کو عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ یہ تشویش ایسے مغربی ممالک میں شدید ترین ہوتی جا رہی ہے جنہوں نے اس سرمایہ دارانہ سودی جمہوریت کا نظام فقط عالمی سرمایہ داری کی بادشاہت دُنیا پر قائم کرنے کیلئے وضع کیا تھا۔ مغرب کی اس تشویش کے پیمانے کو ناپنے کیلئے سویڈن کے ایک پروفیسر سٹیفن آئی لنڈ برگ (Staffan I. Lindberg) کی رہنمائی میں 2014ء میں ایک بہت بڑے انسٹیٹیوٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔پروفیسر سٹیفن گزشتہ کئی سالوں سے دُنیا بھر میں نافذ مختلف النوع جمہوری نظاموں کا مطالعہ کر رہا تھا۔ اسی لئے اس ادارے کا نام "The V-Dem Institute" یعنی "Varieties of Democracy" (جمہوری انواع و اقسام ) رکھا گیا۔ اپنے قیام سے لے کر آج تک تقریباً سات سالوں میں شائع ہونے والی اس انسٹیٹیوٹ کی رپورٹیں دُنیا بھر میں دن بدن جمہوریت کے زوال اور انتخابی بادشاہتوں یا انتخابی شخصی حکومتوں کے قیام کی داستان سناتی ہیں۔اس ادارے کی2021ء کی رپورٹ بتاتی ہے کہ آج سے نصف صدی قبل جن ممالک میں جمہوری نظام نے اپنی جڑیں مضبوط کر لی تھیں، اب وہاں بھی ’’آمریت‘‘ اپنے پنجے گاڑ رہی ہے۔ یہ جمہوری آمریت انتہائی خوفناک ہے کیونکہ یہ کوئی شخصی یا فوجی آمریت نہیں جسے بُرا بھلا کہا جا سکے، بلکہ یہ ووٹوں سے قائم شدہ ایسی آمریت ہے جس کا جمہوری نظام میں کوئی حل موجود نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت دُنیا کی 25 جمہوری اقوام اس طرح کی مطلق العنان شخصی جمہوری آمریتوں میں ڈھل چکی ہیں۔ یہ پچیس اقوام دُنیا کی ایک تہائی آبادی یعنی 2.6 ارب انسانوں پر مشتمل ہیں۔ ان میں دُنیا کے امیر ترین G-20 ممالک میں سے تین ملک بھارت، برازیل اور ترکی بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے ایک باب کا عنوان ہی جمہوری نظام کیلئے خوفناک مایوسی کا اظہار لئے ہوئے ہے۔ عنوان ہے، ’’لبرل جمہوریت کے زوال کا ایک اور سال ‘‘ (Another year of Decline of Liberal Democracy) ۔ لیکن بھارت میں جمہوری الیکشنوں سے جنم لینے والی بدترین آمریت پر رپورٹ نے پورا ایک باب باندھا ہے، جس کا عنوان ہے، ’’بھارت: برباد شدہ جمہوریت‘‘ (India:Democracy Broken Down) ۔ اس باب کے آغاز میں بھارت میں آمریت اور آمرانہ طرزِ حکومت کا موازنہ پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے کیا گیا ہے،جن میں سے بھارت سب سے زیادہ اقلیت کش اور آمرانہ طرزِ حکومت والا ملک ہے جو ان معاملات میں دن بدن بگڑتا چلا جا رہا ہے۔ بھارت اب ایک ایسا ملک بن چکا ہے جس میں ایک شخصی یعنی نریندر مودی کو مکمل قوت و اختیار حاصل ہے اور اس کا یہ اختیار جمہوری الیکشنوں کے ذریعے عوام کی اکثریت کی وجہ سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں آزادی اظہار پر سب سے زیادہ پابندی ہے۔رپورٹ کے مطابق دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت جو ایک ارب سینتیس کروڑ عوام پر مشتمل ہے،اب کسی طور بھی ایک جمہوری ملک کہلانے کے قابل نہیں رہی۔ اس ادارے نے بھارت کو آزاد ملکوں کی فہرست سے نکال کر جزوی (Partially) طور پر آزاد ملکوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ بھارت میں دہشت گردی، غداری اور میڈیا کے کنٹرول کے قوانین کا بدترین استعمال ہوا ہے۔ رپورٹ کچھ اعداد و شمار سے اپنے فیصلے پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے۔ یہ اعداد و شمار خوفناک ہیں۔ جب سے نریندر مودی برسرِ اقتدار آیا ہے، سات ہزار افراد پر غداری کا مقدمہ چل رہا ہے۔ بھارت کا ایک قانون ہے "UAPA"(Unlawful Activities Prevention Act) ’’غیر قانونی اقدامات کی روک تھام کا قانون‘‘۔ اس کے تحت گرفتار ہونے والوں کی تعداد میں 72 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اتنی ہی تعداد میں دہشت گردی کے قانون میں گرفتار ہونے والوں میں اضافہ ہوا ہے۔ گائے کشی کے سلسلے میں جتنے بھی لوگ گرفتار ہوئے، ان میں 86 فیصد مسلمان تھے اور ان میں زیادہ تر فسادات صرف گزشتہ چند سالوں میں ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال میں دلّی کے ہنگاموں میں 53 افراد قتل ہوئے جن میں سے 49 مسلمان تھے۔ دُنیا میں حکومتکی طرف سے انٹرنیٹ پر پابندی لگائے جانے کے جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں ان میں سے 70 فیصد بھارتی حکومت کی جانب سے ہوئے ہیں۔ اگر دُنیا بھر میں حکومتوں نے 150 دفعہ انٹرنیٹ پر پابندی لگائی تو ان میں سے 109 پابندیاں بھارت میں لگیں۔ یہ صرف چند اعداد و شمار ہیں جو بہت حد تک مغربی ممالک کے قائم کردہ اس ادارے نے بہت حد تک نرم کر کے پیش کئے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں کبھی بھی یہاں پر آباد اقلیتیں اس قدر خوفزدہ نہیں رہیں، جتنی آج اس جمہوری آمریت کے دَور میں غیر محفوظ ہیں۔ وہ لوگ جو آج سے صرف دس سال قبل ابوالکلام آزاد کی کتاب سے دلیل پیش کیا کرتے تھے کہ مسلمانوں نے تقسیم ہو کر اپنا نقصان کیا، آج ان کے سامنے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ مسلمان جس قدر پاکستان اور بنگلہ دیش میں محفوظ ہے، سرفراز ہے اور آزاد ہے، ایسا وہ بھارت کے شہری ہو کر تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اگر تمام مسلمان بھارت کے ساتھ رہ رہے ہوتے تو وہ شاید 25 فیصد بنتے مگر آج اسی طرح ذلیل و رُسوا ہوتے جیسے وہاں موجود 15 فیصد مسلمان ہو رہے ہیں۔ جس ملک میں کشمیری نوے فیصد مسلمان ہو کر خاک و خون میں غلطاں ہیں، وہاں 25 سے تیس فیصد مسلمان بھی اسی عبرتناک انجام کا شکار ہوتے۔

**

جمعرات، 9 نومبر، 2023

ایک مکمل اور سچی داستان



ایک مکمل اور سچی داستان
 
ایک خاتون کی کہانی جو ہر بات کا جواب قرآن مجید سے دیا کرتی تھی،
آپ نے عبداللہ ابنِ مبارک رحمہ اللہ کے بارے میں سنا ہوگا، یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد اور امام بخاری رحمہ کے استاد ہیں،
وہ بیان کرتے ہے کہ میں ایک دفعہ حج بیت اللہ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کے غرض سے گھر سے نکلا،
راستے میں ایک عمر رسیدہ خاتون ملی ایسا لگ رہا تھا کی وہ اپنے قافلہ سے بھٹک چکی تھی،

عبد اللہ: السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ.

خاتون:"سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ"
"رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا جائے گا"   يسٓ 58

عبد اللہ: يرحمك الله.... آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟

خاتون:" مَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ"
"اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا"  الأعراف 186.
( میں سمجھ گیا کہ وہ راستہ بھول گئی ہے)

عبد اللہ: آپ کہاں جانا چاہتی ہیں؟

خاتون: "سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى"
"پاک ہے وہ ذات جو رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا"  الاسراء 1.
(میں سمجھ گیا کہ وہ حج سے فارغ ہو کر بیت المقدس کی طرف جانا چاہ رہی ہے)

عبد اللہ: آپ یہاں پر کتنے دن سے ہیں؟

خاتون:" ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا" 
" متواتر تین رات" مریم 10.

عبد اللہ: آپ کے پاس کھانے پینے کا کیا بندوبست ہے؟

خاتون: " هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ" 
" وہی اللہ مجھے کھلاتا پلاتا ہے"
         الشعراء 79.

عبد اللہ: آپ وضوء کس چیز سے کرتی ہیں؟

خاتون: " فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا"
"اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو" النساء 43.

عبد اللہ: میرے پاس کھانا ہے۔ چاہے تو آپ کھا سکتی ہیں؟

خاتون: " ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ"
" پھر رات تک روزے کو پورا کرو"
           البقرۃ 187.
مراد یہ کہ میں روزہ سے ہوں،
 
عبد اللہ: (اماں) یہ تو رمضان کا مہینہ نہیں ہے؟
خاتون:" وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ"
"اور جو شخص خوشی سے نیکی کرے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ قدر دان اور سب کچھ جاننے والا ہے"  البقرۃ 158.

عبد اللہ: سفر میں روزہ توڑنا تو ہمارے لیے حلال ہے؟ 

خاتون:"وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ"
"اور یہ کہ تم روزہ رکھو تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو" البقرة 184.

جب مجھے احساس ہوا کہ ہر بات کا جواب صرف قرآن سے دیتی ہے، تو میں نے  وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی،

عبد اللہ: آپ میری طرح بات کیوں نہیں کرتیں؟
خاتون:"مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ"
" آدمی جب بھی کوئی بات اپنی زبان سے نکالتا ہے تو اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے ( جو اسے لکھ لیتا ہے )
                 ق 18.
عبد اللہ: آپ کس قبیلہ سے ہیں؟
خاتون:" وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا" 
"اور ایسی بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تجھے علم نہیں کیونکہ اس بات کے متعلق کان، آنکھ اور دل سب کی باز پرس ہوگی" الاسراء 36.

عبد اللہ: میں نے آپ سے غلط سوال کر دیا، مجھے معاف کر دیجئے؟

خاتون:" لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ" آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔ اللہ تمہیں معاف کردے،( یوسف92)

عبد اللہ: کیا میں آپ کو اپنی اونٹنی پر بیٹھاکر آپ کے قافلے تک چھوڑ دوں؟

خاتون:" وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ"
"تم جو نیکی کرو گے اس سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے" البقرۃ 197.
یعنی اگر تم یہ احسان کر دو گے تو اللہ رب العالمین تمہیں اس کا اجر دے گا،

 میں اپنی اونٹنی کو بیٹھایا، تو اس کی طرف دیکھ رہا تھا کہ ضعیف عورت ہے،  شاید سوار ہونے میں کوئی پریشانی ہوگی تو میں مدد کر دونگا،
خاتون:"قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِم"
" مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں"  النور 30.

میں نے اپنی آنکھیں پھیر لی اور کہا بیٹھ جائیے ؟

جب وہ خاتون بیٹھنے گی تو اوٹنی بدک 
گی اور ان کا کپڑا تھوڑا سا فٹ گیا،

خاتون:" وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ"
" اور تم پر جو بھی مصیبت  آتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے" 
           الشوری 30.

عبد اللہ: آپ کچھ دیر صبر کیجئے، میں اوٹنی کا پیر باندھ دیتا ہوں،

خاتون: " فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ" 
"ہم نے اس کا صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا"    الانبیاء 79.
 مراد: آپ بہت عقلمند انسان ہیں،

  عبد اللہ: جی تیار ہے آپ اب بیٹھ جائیے؟

خاتون جب سوار ہوئی تو کہنے لگی،
"سبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ۔۔وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ"
"پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے مخلوقات کو مسخر کردیا اور ہم اپنی قوت سے انہیں مسخر نہ کرسکے،
اور بلاشبہ ہم اپنے پروردگار کی طرف  لوٹنے والے ہیں" الزخرف 13۔14.

میں .

میں اوٹنی کے لگام کو پکڑ کر تیز تیز چلنے لگا، اور اونٹنی کو تیز رفتار چلانے کے لئے جو آواز (سیٹی) دی جاتی ہے میں دینے لگا،

خاتون: " وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ"
" اور اپنی چال میں اعتدال ملحوظ رکھو اور اپنی آواز پست کرو، لقمان 19.

تو میں اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کرتے  ہوئے عربی اشعار گنگنانے لگا،

خاتون:" فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ"
"جس قدر بھی آسانی سے قرآن پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو" مزمل 20.
( اشعار گنگنانے نے بہتر ہے کہ قرآن کی تلاوت کرو)

عبد اللہ: اللہ رب العزت نے آپ پر بہت رحم وکرم کا معاملہ کیا ہے،

خاتون:" وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ"
"اور نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں"   البقرۃ 269.
 ( یعنی آپ بہت عقلمند ہیں)
 جب میں تھوڑا دور چلا گیا تو میں نے سوال کیا،
عبد اللہ: کیا اس سفر میں آپ کا خاوند ہے؟

خاتون:" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ" 
اے ایمان والو ! تم لوگ ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر وہ تمہارے سامنے ظاہر کردی جائیں تو تمہیں (ذہنی طور پر) تکلیف ہوگی"
                المائدہ 101.
میں سمجھ گیا کہ اس کا خاوند اس دنیا میں نہیں ہے،

میں خاموشی اختیار کرتے ہوئے چلنے لگا اور کوئی بات چیت نہیں کی یہاں تک کہ اس کے قافلہ سے جا ملا،

عبد اللہ: اس قافلہ میں آپ کا کون ہے؟

خاتون: "الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا"
 "مال و اولاد تو دنیا کی زینت ہے"
              الکہف 46.   
تو مجھے معلوم ہو گیا کہ اس قافلہ میں انکے بچے ہیں تو میں نے پوچھا اسکی کیا پہچان ہے،

خاتون:" وَعَلَامَاتٍ ۚ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ"
"اور بھی بہت سی نشانیاں مقرر فرمائی اور ستاروں سے بھی لوگ راہ حاصل کرتے ہیں" النحل 16.

(مراد یہ کہ میرا بیٹا اس قافلہ کا قائد ہے)

عبد اللہ: آپ کے بچوں کا کیا نام ہیں؟

خاتون:" وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا" البقرۃ 125
     "وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا" البقرۃ 164.
     "يَا يَحْيَىٰ خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ" مریم 12.

 ( یعنی میرے بڑے بیٹے کا نام ابراہیم
دوسرے کا نام موسیٰ، اور تیسرے کا نام
یحیی ہے)

عبد اللہ: میں نے آواز دی۔ اے ابراھیم! اے موسٰی! اے یحیی !
تو وہ لوگ خیمے سے باہر نکلیے،
پھر جب میں خیمہ کے اندر بیٹھ گیا تو وہ اپنے بچوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگی،

خاتون:"فَابْعَثُوا أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمْ هَٰذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنظُرْ أَيُّهَا أَزْكَىٰ طَعَامًا فَلْيَأْتِكُم بِرِزْقٍ مِّنْهُ"
"اب یوں کرو کہ اپنا چاندی کا  سکہ دے کر کسی ایک کو شہر بھیجو کہ وہ دیکھے کہ صاف سھترا کھانا کہاں ملتا ہے"
مراد یہ کہ: مہمان آیا ہے اس کے لئے شہر سے بہترین کھانا خرید کر لاو،

ان میں سے ایک لڑکا شہر گیا اور کھانا خرید کر لایا پھر میرے سامنے پیش کیا،

خاتون:" كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ" 
"مزے سے کھاؤ، پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ دنوں میں کیا تھا"
              الحاقة24.

عبد اللہ ابن مبارک رحمہ اللہ نے ان کے بیٹوں سے کہا،
 تمہارا یہ کھانا میرے لئے اس وقت تک حرام ہے جب تک کہ میں اس امر( قرآنی آیات سے گفتگو)کے بارے میں نہ جان لوں،

بیٹوں نے کہا: یہ ہماری ماں ہے،
اور چالیس سال سے قرآن کی زبان میں ہی بات چیت کر رہی ہیں، اس خوف سے کہ کہی زبان سے کوئی ایسی بات نہ نکل جاۓ  جس کی وجہ سے اللہ رب العزت ناراض  ہو جائے، 

عبد اللہ:" ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ"
" یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے"
               الجمعة 4.
ترجمہ: از المتكلمة بالقرآن.

امید کرتا ہوں کہ یہ واقعہ آپ سب کو پسند آیا ہوگا،
اللہ رب العالمین ہمیں بھی لوگوں کے ساتھ اچھی گفتگو کرنے کی توفیق دے۔
اور کسی سے کوئی ایسی بات نہ کہیں جسکی پاداش میں کل قیامت کے دن ہمارا مواخذہ ہو اور ذلت ورسوائی کا سامنا کرناپڑے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ ہمیں قرآن سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے آمین ثم آمین یارب العالمین.
✨✨

عالمی یوم اردو

شاعر مشرق علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا یوم ولادت....9 نومبر یوم اردو

نام محمداقبال، تخلص اقبال۔ لقب ’’حکیم الامت‘‘، ’’ترجمان حقیقت‘‘، ’’مفکراسلام‘‘ اور ’’شاعر مشرق‘‘۔
 ۹؍نومبر ۱۸۷۷ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ایف اے مرے کالج، سیالکوٹ سے کیا۔ عربی، فارسی ادب اور اسلامیات کی تعلیم مولوی میر حسن سے حاصل کی۔۱۸۹۵ء میں لاہور آگئے۔ بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں لینے کے بعد گورنمنٹ کالج، لاہور میں فلسفے کے پروفیسر ہوگئے۔۱۹۰۵ء میں بیرسٹری کی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے۔ وہاں قانون کے ساتھ فلسفے کی تعلیم بھی جاری رکھی۔ہائیڈل برگ(میونخ) یونیورسٹی میں ’’ایران میں مابعد الطبیعیات کا ارتقا‘‘ پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند
 حاصل کی۔
 
۱۹۲۲ء میں ان کی اعلی قابلیت کے صلے میں ’’سر‘‘ کا خطاب ملا۔ ۱۹۲۷ء میں پنجاب کی مجلس مقننہ کے ممبر چنے گئے۔۱۹۳۰ء میں مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔اقبال نے شروع میں کچھ غزلیں ارشد گورگانی کو دکھائیں۔ داغ سے بذریعہ خط کتابت
 بھی تلمذ رہا۔ اقبال بیسویں صدی کے اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ان کے اردو مجموعہ کلام کے نام یہ ہیں: ’’بانگ دار‘‘، ’’بال جبریل‘‘، ’’ضرب کلیم‘‘،’’ارمغان حجاز‘‘(اردو اور فارسی کلام)۔ ’’کلیات اقبال‘‘ اردو بھی چھپ گئی
 ہے ۔ فارسی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’اسرار خودی‘‘، ’’رموز بے خودی‘‘، ’’پیام مشرق‘‘، ’’زبور عجم‘‘، ’’جاوید نامہ‘‘، ’’مسافر‘‘، ’’پس چہ باید کرد‘‘۔ ۲۱؍اپریل ۱۹۳۸ء کو دنیا سے رخصت ہوگئے۔
 
دنیائے اردو میں 9 نومبر موصوف کے یوم ولادت کی نسبت سے  عالمی یوم اردو کے نام سے منایا جاتا ہے

بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:270

علامہ اقبال کے یوم ولادت کے موقع پر موصوف کے کچھ منتخب اشعار احباب کی خدمت میں پیش ہیں......

آئین ِ جواں مرداں حق گوئی و بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
 
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں 
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی 
 
 اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل 
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے 

اسی خطا سے عتاب ملوک ہے مجھ پر

کہ جانتا ہوں مآل سکندری کیا ہے

اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیونکر 
مجھے معلوم کیا وہ رازداں تیرا ہے یا میرا 
 
اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی 
خطا کس کی ہے یا رب لا مکاں تیرا ہے یا میرا 
 
امید حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو 
یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادے بھولے بھالے ہیں 

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے 
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
 
 انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں 
یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں 

ایک سرمستی و حیرت ہے سراپا تاریک
ایک سرمستی و حیرت ہے تمام آگاہی
 
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی 
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی 

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا.......
 
 باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں 
کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر 

بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی 
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے.....!
 
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی 
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں
 
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق 
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی 
 
پاس تھا ناکامی صیاد کا اے ہم صفیر

ورنہ میں اور اڑ کے آتا ایک دانے کے لیے

 پرانے ہیں یہ ستارے فلک بھی فرسودہ
جہاں وہ چاہیئے مجھ کو کہ ہو ابھی نوخیز

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو 
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں

بدھ، 8 نومبر، 2023

اردو کےکلاسیکی شاعر اور برصغیر پاک و ہند کے آخری مغل فرماں روا بہادر شاہ ظفر

آج کلاسیکی اردو کے معروف شاعر اور برصغیر پاک و ہند کے آخری مغل فرماں روا بہادر شاہ ظفر کا یوم وفات ہے۔
+اوچ شریف (نوائے اوچ رپورٹ/ یوم سہ شنبہ، بتاریخ 7 نومبر 2023ء) آج اردو اور پنجابی کے معروف شاعر اور برصغیر پاک و ہند کے آخری مغل فرماں روا بہادر شاہ ظفر کا یوم وفات ہے، محمد سراج الدین بہادر شاہ ظفر 24 اکتوبر 1775ء کو دہلی میں اکبر شاہ ثانی کے ہاں لال بائی کے بطن سے پیدا ہوئے۔ 1845ء میں پہلا دیوان مطبع سلطانی سے شائع ہوا، 11 جنوری 1849ء کو شہزادہ مرزا دارا بخت فوت ہوئے۔ 1850ء میں دوسرا دیوان مطبع سلطانی سے شائع ہوا، 10 جولائی 1856ء کو مرزا فخرو فوت ہوئے، 9 مارچ 1858ء کو بہادر شاہ ظفر کے خلاف مقدمے کا فیصلہ سنا گیا۔

17 اکتوبر 1858ء کو ملکہ زینت محل شہزادہ جواں بخت اور دوسرے افراد کے ساتھ دلی سے رنگون کے لیے روانہ ہوئے، 9 دسمبر 1858ء کو رنگون پہنچے، 3 نومبر 1962ء کو حلق کی بیماری میں مبتلا ہوئے،7 نومبر 1862ء بروز جمعہ صبح 5 بجے رنگون میں وفات پائی، اسی دن شام 4 بجے تدفین کر دی گئی۔

بہادر شاہ ظفر دیوان اول تک شاہ نصیر کے شاگرد رہے جب وہ حیدر آباد دکن چلے گئے تو پھر کچھ دن میر کاظم حسین بے قرار کے شاگرد رہے۔ جب وہ جان انفنسٹن کے میر منشی مقرر ہو کر دلی کو چھوڑ گئے کچھ عرصہ عزت اللہ عشق کی بھی شاگردی میں رہے اس کے بعد ذوق دہلوی (جب ذوق غلام رسول شوق کے شاگرد تھے) سے مشورۂ سخن کرتے رہے اور پھر یہ سلسلہ ذوق کی وفات تک 47 برس قائم رہا۔ ذوق دہلوی کی وفات کے بعد آپ مرزا غالب کے شاگرد ہو گئے، تاہم 1857ء کے غدر نے استادی شاگردی کا یہ سلسلہ بھی ختم کرا دیا۔

|تصانیف|

دیوانِ ظفر ،لاہور،ملک دین محمد اینڈ سنز،فروری 1939ء، 80 ص (شاعری)
دیوان سوم
دیوان دوم
دیوان اول

|منتخب کلام|

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی

لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار
بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی

تیری آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادو
کہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی

عکس ِ رخسار نے کس لیے ہے تجھے چمکایا
تاب تجھ میں مہِ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی

کیا سبب تُو جو بگڑتا ہے ظفر سے ہر بار
خُو تری حور ِ شمائل کبھی ایسی تو نہ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یا مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتا
یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا

اپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تُو نے
کیوں خرد مند بنایا، نہ بنایا ہوتا

خاکساری کے لئے گرچہ بنایا تھا مجھے
کاش خاکِ درِ جانانہ بنایا ہوتا

تشنہء عشق کا گر ظرف دیا تھا مجھ کو
عمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا

دلِ صد چاک بنایا تو بلا سے لیکن
زلفِ مشکیں کا تیرے شانہ بنایا ہوتا

تھا جلانا ہی اگر دوریء ساقی سے مجھے
تو چراغِ در میخانہ بنایا ہوتا

شعلہء حسن چمن میں نہ دکھایا اس نے
ورنہ بلبل کو بھی پروانہ بنایا ہوتا

روز معمورہء دنیا میں خرابی ہے ظفر
ایسی بستی کو تو ویرانہ بنایا ہوتا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جمعرات، 2 نومبر، 2023

سرمائی تعطیلات کو کارآمد بنائیں

 سرمائی تعطیلات کو کارآمد بنائیں 

*اَلسّلام علیکم!*

ریاست مہاراشٹر میں تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کیلئے سرمائی / دیوالی تعطیلات کا اعلان کردیا گیا ہے جو کہ 9 نومبر تا 25 نومبر 2023 تک جاری رہیں گی۔ تعطیلات کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ طلبہ اور اساتذہ دونوں اپنی ذہنی اور جسمانی تھکان کو ختم کر سکیں اور نئے جوش و خروش کے ساتھ دوبارہ اس عمل میں شراکت کریں جو اُن کے کیریئر اور مستقبل کو تابناک بنانے کا وسیلہ ہے۔

اُستاد اور شاگرد تعلیم یا علم کے پروگرام کے دو لازمی عناصر ہیں۔ ایک مثالی معلّم طلبہ کو اسکول میں پڑھانے کے بعد سرما کی چھٹیوں کیلئے بھی کام دیتا ہے۔ سرمائی چھٹیوں کا کام بچوں کی ضروریات اور دلچسپیوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ براہ راست کتب سے سوالات کے انتخاب کی بجائے معلّم یا معلّمہ خود تخلیقی نوعیت کے سوالات بنا کر طلبہ کو ان کے جوابات تیار کرنے کی ترغیب دیں۔ جماعت کے طلبہ سے مشاورت کر کے چھٹیوں کا کام تفویض کیا جائے اور چھٹیوں کا کام تحریری اور زبانی یادداشت دونوں طرح کا ہونا چاہئے۔ چھٹیوں کا کام اتنا زیادہ نہ ہو کہ طلبہ کی تفریح، آرام و سکون، ذاتی اور گھریلو مصروفیات کا وقت بھی چھین لیا جائے۔ چھٹیوں کا کام سزا کے طور پر نہ دیاجائے۔

سرمائی تعطیلات میں والدین بچوں کی تعلیمی کمزوریوں کو کم سے کم کرنے کے لیے موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے بہتر منصوبہ بندی کیلئے والدین اساتذہ سے مل کر بچوں کی کمزوریوں کو جاننے کی کوشش ضرور کریں۔ کسی بھی مضمون یا صلاحیت میں کمزوری کے پیش نظر چیک لسٹ بنائی جا سکتی ہے کہ بچے کی چھٹیوں سے قبل صورتحال کیا ہے اور بعد میں رفتہ رفتہ کیا پوزیشن ہوگی۔ کمزوری کے پیش نظر سرگرمیاں ترتیب دی جائیں اور انہیں لاگو کرنے کیلئے نظام الاوقات مرتب کیا جائے۔

اساتذہ اور والدین دونوں کی ذمّہ داری ہے کہ وہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعطیلات کے دورانیے کو طلباء کیلئے مفید بنائیں۔ چھٹیوں میں طلبہ کی نگرانی نہ کی جائے تو ان کا منفی قسم کی تفریحی سرگرمیوں میں مصروف ہو جانے کا اندیشہ بھی رہتا ہے۔ تعطیلات کے دوران طلبہ کو ایسا ماحول فراہم کیا جانا چاہئے کہ وہ میقات اوّل کی پڑھائی کے بعد تازہ دم ہو سکیں تاکہ دوبارہ  نئے جوش کے ساتھ اس عمل میں اپنی شراکت کو یقینی بنائیں۔ اس موقع پر والدین اور سرپرستوں کو بھی اعتدال پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور اپنے بچوں کو ان کی عمر اور دلچسپیوں کے لحاظ سے ان سرگرمیوں میں مصروف رہنے کی راہ ہموار کرنا چاہئے جو ان کی شخصیت کو مثبت طور پر پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہو۔ بظاہر اس سادہ لیکن در حقیقت پیچیدہ موضوع کی طرف سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسی متوازن راہ بنائی جاسکے جس پر چل کر طلبہ کی فطری نشوونما اور ان کی شخصیت کی ہمہ گیر ترقی ممکن ہو سکے کہ یہی تعلیم کا بنیادی مقصد بھی ہے۔

ایک بات کا خاص طور پر خیال رہے کہ نبی کریم ﷺ کو وہ عمل زیادہ محبوب ہے جو ثابت قدمی سے مسلسل کیا جائے۔ لہٰذا چھٹیوں کیلئے جو نظام الاوقات اور تربیتی امور طے کرلیں، انھیں باقاعدگی سے انجام دیں اور چھٹیوں کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رکھیں، تب ہی مؤثر اور نتیجہ خیز تربیت ہوسکے گی۔ اپنی تمام تر کوششوں کے ساتھ الله تعالیٰ سے مدد، استعانت اور دعاؤں کا خصوصی اہتمام بھی ضرور کیجئے۔

چھٹیاں اور ہمارا طرز عمل

چھٹیاں اور ہمارا طرز عمل

*السّلام عليكم!*

اسکول کی چھٹیوں کا سب بچوں کو ہی انتظار رہتا ہےاور وہ ایسا لگتا ہے کہ آزادی کا انتظار کررہے ہوتے ہیں، بچے خوش ہوتے ہیں کہ چلو روز روز اسکول جانے، اسکول ورک، ہوم ورک اور استاد کی ڈانٹ سے جان چھوٹی، اسلئے خوب مزے کریں گے اور جیسے چاہیں گے ویسا کریں گے۔ چھٹیاں کہنے کو تو صرف بچوں کی ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی ان چھٹیوں کا لطف اٹھا لیتے ہیں۔ چھٹیاں ہونے پر گھر کے بڑوں کو بھی جیسے چھٹی مل جاتی ہے۔ بچوں کو صبح اٹھ کر اسکول کے لیے تیار کرنا، انہیں ٹفن بنا کر دینا اور انہیں اسکول چھوڑ نے جانا، ان سب چیزوں سے گھر کے بڑوں کو بھی چھٹی مل جاتی ہے اور کچھ دن کیلئے وہ آرام کی زندگی جی لیتے ہیں۔

 یوں چھٹیاں شروع ہوتے ہی بچوں کی آزادی اور بےفکری کے دن شروع ہوجاتے ہیں۔ دوسری طرف  مائیں پریشان ہوجاتی ہیں کہ بچے دن بھر کیا کریں گے۔ زیادہ تر بچے اپنی چھٹیاں کھیل کود کر گزار دیتے ہیں، یوں ان کی چھٹیاں بےمصرف گزر جاتی ہیں۔ یقیناً بچے جب دن بھر گھر میں رہیں گے تو شرارتیں بھی کریں گے اور نت نئی فرمائشیں کرکے آپ کو پریشان بھی کریں گے۔ چھٹیوں کے دوران عموماً بچوں میں ایک خاص تبدیلی آجاتی ہے۔ ان کا رویہ کبھی کبھی جارحانہ سا ہوجاتا ہے اور ان کو دیکھ دیکھ کر ماں کا رویہ بھی جارحانہ ہوتا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو آپ کا رویہ ٹھیک نہیں۔ ہونا یہ چاہئے کہ بچوں کی ان چھٹیوں سے پہلے ان کیلئے کچھ پروگرام ترتیب دینا چاہئے اور چھٹیوں کا آغاز ہوتے ہی ان پروگراموں کو عملی جامہ پہنانا چاہئے۔ 

ترقی یافتہ ملکوں اور قوموں کے افراد اپنی تعطیلات اور فراغت کے اوقات اپنے ذاتی ملکوں اور خداداد صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، اپنے افکار میں وسعت پیدا کرنے اور اپنی عقول کو جدید علوم و معارف اور آداب سے صیقل کرنے میں صرف کرتے ہیں۔ ہم سے ہر شخص جانتا ہے کہ فراغت و بیکاری ایک واقعی مسئلہ ہے جس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ البتہ ہم صحیح پلاننگ اور مفید منصوبہ بندی کر سکتے ہیں اور اس کے ذریعے ہم اکتاہٹ سے خلاصی پا سکتے ہیں، چھپی ہوئی رغبتوں اور صلاحیتوں کو اجاگر کر سکتے ہیں اور ذاتی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتے ہیں اور اچھی عادات و اطوار کو تقویت پہنچا سکتے ہیں۔

بدھ، 25 اکتوبر، 2023

مختصرسوانحی خاکہ

مختصرسوانحی خاکہ

حضرت مولانا گلزاراحمدصاحب باقوی
رحمۃ  اللہ علیہ  رحمۃً واسعۃً
سابق امام وخطیب چھوٹی مسجد،آمبور وسابق صدرجماعۃ العلماء ضلع ویلوروترنامل

ولادت: ۲۸؍اگست ؁۱۹۴۳ء مطابق ۲۶؍شعبان المعظم  ؁۱۳۶۲ھ
وفات: ۱۶؍ اکتوبر ؁۲۰۲۳ء مطابق ۱؍ربیع الثانی ؁۱۴۴۵ھ

             از
 حافظ محمد سلمان عفی عنہ
ابن ِحضرت مولانا گلزاراحمد صاحب باقویؒ

۷؍ربیع الثانی۱۴۴۵ ھ مطابق ۲۳؍اکتوبر؍۲۰۲۳ء بروزِپیر
الحمدللّٰہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سیدالأنبیاء والمرسلین ومن تبعھم بأحسان الی یوم الدین أمابعد!
مؤرخہ یکم ربیع الثانی ؁۱۴۴۵ھ مطابق ۱۶؍ اکتوبر؁۲۰۲۳ء بوقتِ عشاء تقریباً ۸ :بجے میرے والدِ محترم حضرت اقدس مولانا گلزاراحمدصاحب باقویؒ مختصرعلالت کے بعددارالفناء سے دارالبقاء کی طرف ہمیشہ کےلیے کوچ کرکےاپنی اولاد،اعزاء واقارب،بہت سے شاگردوں اورمعتقدین کوداغِ مفارقت دےگئے ۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ، اِنَّ لِلّٰہِ مَا اَخَذَ ولِلّٰہِ مَا اَعْطٰی، وَکُلٌّ عِنْدَہٗ بِاَجَلٍ مُّسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ.

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بہت مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

*خاندان اورولادت:*

حضرت مولانا گلزاراحمدصاحب باقویؒ شہرِ آمبورکےایک مشہورخاندان میں28 ؍اگست 1943ءکو پیدا ہوئے،آپ کےوالدِمحترم ایاپِلّےعبدالرؤف صاحبؒ ہیں،جو شہرِآمبور کی مایہ ناز شخصیت بانگی عبدالقادرصاحبؒ کے نواسے ہیں۔
 حضرتؒ کی والدہ بھی شہر کےایک معزز گھرانہ ناٹامکار خاندان سے تعلق رکھتی ہیں،حضرت والاؒ کے نانا صاحب کا نام ناٹامکارعبدالستار صاحبؒ ہے۔
جس وقت حضرت والاؒکی عمر۲؍یا ۳؍سال کی تھی،حضرت کی والدہ محترمہ کاانتقال ہوگیا،حضرت کے بچپن کا زمانہ اپنی نانی محترمہ کے سایۂ عاطفت میں گذرا۔

*آغازِتعلیم :

حضرت والاؒ نے قرآن کریم کاآغازہمارےاس شہر کی جامع مسجد کے  مکتب  میں ہوا،اس وقت جامع مسجد،آمبورکےامام وخطیب حضرت حافظ عبدالرؤف صاحبؒ تھے،حضرت حافظ صاحبؒ ہی کی نگرانی میں یہ مکتب چل رہا تھا،جو پورے علاقے کے استاذالاساتذہ تھے،الغرض حضرتؒ کی  ابتدائی تعلیم یعنی ناظرہ قرآن کریم کاآغاز اسی مکتب سے ہوا۔
1950ءمیں حضرت والا کا داخلہ شہرکےمعروف پرائمری اسکول مدرسۂ دینیات میں ہوا،جہاں ابتدائی جماعت سے پانچویں جماعت تک کی تعلیم مکمل کی۔

*تکمیلِ حفظ:*

1956ء میں اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعدحضرت والاؒ کا رجحان علمِ دین حاصل کرنے کی طرف ہوگیا،جو بچپن میں مکتب کے زمانہ ہی سےحضرت کی خواہش تھی۔
 الحمدللہ  1956ءمیں جنوبی ہند کی معروف دینی درسگاہ جامعہ الباقیات الصالحات ویلورمیں شعبۂ حفظ میں داخلہ لیکر حفظِ کلام اللہ شریف شعبہ حفظ کے استاذحضرت شیخ عرب صاحب ؒکےپاس آغاز کیا،جو اُس وقت کے جامعہ الباقیات الصالحات کے شعبۂ حفظ کےمشہور استاذ تھے۔

*حضرت شیخ عرب صاحب ؒ*

شیخ عرب صاحبؒ اُس دور کے جامعہ الباقیات الصالحات کے مشہور بزرگ استاذ تھے،حضرتؒ کاتعلق دراصل عرب سے ہے،جن کے استاذ مکی حجازی صاحب ؒ ہیں جو حضرت حکیم الامت   حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے بھی استاذ ہیں ۔
 کئی بڑے بڑے علماء شیخ عرب صاحبؒ   کےشاگرد ہیں ،جیسے: استاذالاساتذہ قاری عبدالرؤوف صاحب ؒ،سابق امیرِشریعت علامہ ابوالسعود صاحب ؒوغیرہ۔

*تکمیلِ عالمیت:*

 1962ء میں شعبۂ حفظ سے فراغت کے بعد جامعہ ہی میں شعبۂ عالمیت میں داخلہ لے کرعالمیت کا آغاز کیا ،1962ء سے 1971ء تک شعبہ عالمیت کی تعلیم میں مشغول رہے اور 1971ء میں فراغت حاصل کی تواس لحاظ سےپورے ۱۵؍سال کا عرصہ جامعہ الباقیات الصالحات میں گذارا،ان ۱۵؍سالوں کے درمیان ۳؍یا ۴؍سال کچھ وجوہات کی بناء پرتعلیم موقوف رہی۔ 

*اساتذۂ کرام :

شعبۂ عالمیت میں حضرت والا کے اساتذۂ کرام میں سابق ناظمِ جامعہ حضرت مولانا عبدالجبار صاحب رحمۃ اللہ علیہ،مولانا زین العابدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ،حضرت مولاناابوالسعود صاحب رحمۃ اللہ علیہ،مفتی شیخ عبدالوہاب صاحب رحمۃ اللہ علیہ،حضرت مولانا فدوی باقوی رحمۃ اللہ علیہ اور چاندحضرت رحمۃ اللہ علیہ سرِفہرست ہیں۔ 
دورۂ حدیث کے اساتذۂ کرام میں سے ایک مشہوراستاذشیخ حسن ملیباری ؒ تھے ،جو شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمد مدنیؒ کے شاگردِ رشید ہیں ۔

*ہم درس  علمائے کرام:*

جامعہ الباقیات الصالحات کے تعلیمی دورمیں حضرت والاؒکے ساتھیوں میں حضرت مولانا ولی اللہ صاحب رشادی رحمۃ اللہ علیہ،قاری امداداللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ،حضرت مولانا جمیل صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ،مولاناگلزاراحمد صاحب وشارمی اورمشہور شاعر اور کئی کتابوں کے مصنف  حضرت مولاناراہی فدائی صاحب معروف ومشہور ہیں۔

*حضرت والاؒ کی دینی خدمات:*

1971ءمیں جامعہ الباقیات الصالحات ویلورسے فراغت کے بعد حضرت والا صوبہ ٹمل ناڈوکی مشہور دینی درسگاہ مظاہر العلوم سیلم؛جو کہ مشہور بزرگ حضرت مولانا شفیق خان صاحبؒ خلیفۂ شیخ الحدیث کا قائم کیا ہوامدرسہ ہے،اس میں شعبۂ حفظ کے استاذ کی حیثیت سے اپنی خدمات کا آغاز کیا جو1971ء سے 1974ءپانچ سال تک جاری رہا،اس دوران   حضرت کے پاس جن حضرات نے قرآن کریم کاحفظ  مکمل کیا ،ان میں مندرجہ ذیل حضرات  سرِفہرست  ہیں؛ حضرت مولانا مفتی ابوالکلام صاحب دامت برکاتہم (مظاہرالعلوم،سیلم)، مولانا عبدالحمید صاحب باقوی دامت برکاتہم(ناظم جامعہ الباقیات الصالحات،ویلور)  اوردیگر حضرات۔

*امامت کاآغاز:*

1974ءمیں حضرت والاشہرِویلور کےقریب کاٹپڑی کی ایک مسجدمیں امام وخطیب مقرر ہوئے 1974ء سے 1976ء تین سال امامت کے فرائض انجام دیتے رہے۔

1976ءمیں حضرت والاؒ کوشہرِآمبورکے احباب اوررشتہ داروں کی طرف سےآمبور ہی میں دینی خدمت کے لئے باربار اصرارکیا گیا،اس وجہ سے حضرتؒ کاٹپڑی مسجد کی امامت  سےاستعفیٰ دےکرآمبورآگے۔

*آمبور میں خدمت کاآغاز:*

 1976ء کاٹپڑی کی امامت کے بعد الحمدللّٰہ  شہرِآمبور کےمشہور و معروف چھوٹی مسجد میں آپ کاتقرر امام وخطیب کی حیثیت سے ہوا، الحمدللّٰہ پورے 47 ؍سال خدمات انجام دئیے،جوصرف اللہ تعالیٰ کا فضل،اس کا احسان اوراس كی توفیق ہی ہے۔

1977ء سے 1980ءچارسال حضرت والاؒدینیات اسکول جوچھوٹی مسجد کی بالکل برابرمیں ہی ہے،استاذ کی حیثیت سے خدمت انجام دئیے۔ 
چھوٹی مسجدکے اس طویل خدمت میں حضرت والاؒ ہرروز بعدِنمازفجرقرآن کریم کی جامع تفسیرفرماتے رہےاور الحمد للّٰہ  چارمرتبہ  مکمل   قرآن کریم کی تفسیر کئےتھے۔

*تراویح:*

1962ءمیں شعبہ حفظ سے فراغت کے بعدسے ہی شہرِآمبور میں حضرت والا تراویح پڑھاتے رہے۔

1962 ءمیں شہرِآمبور کے نیلی کھیت مسجد میں تراویح میں حضرت والا نے قرآنِ پاک سنایا۔

1963ء  سے 1979ء تک پورے 18؍سال شہرِآمبور کے مسجدِگانگرتکیہ میں تراویح میں قرآن ِ پاک مکمل کی ۔

1980ء سے 1994ء تک پورے ۱۵؍سال شہر آمبور کی مشہورومعروف مسجد بنام ”چھوٹی مسجد“میں تراویح سناتے رہے۔

1995ءسے الحمدللّٰہ 2023ء تک پورے ۲۸؍سال چھوٹی مسجدمیں ہی تراویح میں سماعت کے فرائض انجام دیتے رہے۔

اس لحاظ سے حضرت والاؒ پورے۳۳؍سال تراویح اور ۲۸؍سال سماعتِ کلام اللہ شریف میں گذاردئیے اور دونوں کامجموعہ ۶۱؍سال کا عرصہ ہوا،
یہ محض ربِ کریم کی توفیق اوراس کی عطا ہی سے ہے،جو اتنے طویل عرصہ قرآن کی تلاوت اورسماعت کی سعادت حاصل ہوئی۔فللّٰہ الحمد والمنۃ

*عیدین کی امامت* 

الحمدللّٰہ  والدِمحترم 1996ءعیدالفطرسے 2023 ء عیدالفطر  تک(کل ۲۷؍سال) عیدگاہ میں عیدین کی امامت سرانجام دئیے۔

*نکاح:*

1976ءمیں حضرت والاؒ کاشہرِآمبور کےایک تاجرواؤرعبداللطیف صاحب کی دختر سے عقدِ مسنون  ہوا،جن سےحضرت والاؒ کو تین بیٹے ہوئے؛محمد ثوبان،راقمِ سطورمحمدسلمان اورمحمد عفان۔

*دوست واحباب:*

حضرت والاؒکےنہایت ہی قریبی اورمخلص ساتھیوں میں حضرت مولانا ولی اللہ صاحب رشادی وقاسمی رحمۃ اللہ علیہ ہیں،حضرت والاؒ؛مولانا ولی اللہ صاحبؒ سے بہت زیادہ قریب تھے،مولانا ولی اللہ صاحبؒ جماعت العلماء ویلور کے سکریٹری تھے اورکئی اداروں کے سرپرست اورممبرتھے،مولانا ولی اللہ صاحبؒ اورحضرت والاؒ سفروں میں اورکئی جلسوں میں ہمیشہ ساتھ ساتھ رہتے،حضرت مولانا ولی اللہ صاحبؒ ضلع ویلور جماعت العلماء کے روحِ رواں تھے،آپ ہی کی کوشش سے آپ کے کئی ساتھی جماعت العلماء کے ممبر بنے،اس میں حضرت والا سرفہرست ہیں،آگے چل کرحضرت والاؒجماعت العلماء ویلورکےصدربھی ہوئے، الحمدللّٰہ  آخری وقت تک ضلع ویلور اورضلع ترنامل کے آپ ہی صدررہے،حضرت مولانا ولی اللہ صاحبؒ کے انتقال کے بعدحضرت والاؒ مولانا کی جدائی کا باربار اظہارکرتے تھے۔

*اکابر سے تعلقات*

حضرت والاؒ سابق امیرِشریعت کرناٹک حضرت مفتی اشرف علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے،امیرِشریعت بھی حضرت والاؒسے بہت ہی اکرام اوراحترام کا معاملہ کرتےتھے،جب کبھی بھی امیرِشریعت مدراس سے بنگلور کا سفر کرتے،حضرت والاؒ کو اس کا علم ہوتا توحضرت والاؒ امیرِشریعتؒ کودعوت دیتے تو امیر شریعت بلا تکلف آمبورحضرت والاؒ کے گھرتشریف لاتے اورحضرت والاؒ مہمان نوازی کرتے تھے،حضرت والاؒ جب بھی بنگلور جاتے تو دارالعلوم سبیل الرشادپہنچ کر امیرِشریعتؒ سے استفادہ کرتے تھے۔ 

1971ءسے حضرت مولانا شفیق خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ شیخ الحدیث سے حضرت والاؒ کا بڑاتعلق رہا جب حضرت والا مظاہر العلوم سیلم میں مدرس رہے،سیلم سے آمبور آنے کے بعد بھی یہ تعلق حضرت شفیق خان صاحب رحمۃ اللہ  علیہ کے انتقال تک برابر قائم رہا، جب بھی حضرت رحمۃ اللہ علیہ آمبور آتےتوحضرت والاؒ کی ہی دعوت پر آتے جب کبھی حضرت والا سیلم  کوجاتےتومظاہرالعلوم سیلم میں ہی قیام کرتے،حضرت مولانا شفیق خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے سب ہی بیٹوں سے حضرت والا کا تعلق آج تک قائم ہے،حضرت شفیق خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کےفرزندحضرت مولانامفتی ابوالکلام صاحب مدظلہ حضرت والاؒکے شاگردوں میں سے ہیں۔

حضرت والاؒ کا شہرِآمبور کےسبھی علماءِکرام سے نہایت ہی قریبی تعلق رہا ہے،بچپن کے دور میں حافظ عبد الرؤف صاحبؒ اورکوٹلوکارمولانا سےحضرت والاؒ کا گہراتعلق رہا۔

چھوٹی مسجد کے خدمت کے زمانے میں حضرت مولانا مفتی جعفر علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ،حافظ عثمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ،حافظ غیاث الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ اورسابق قاضی شہرِآمبورمرحوم خطیب صدیق احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بہت قریبی تعلق رہا ہے۔
موجودہ دور میں قاضی شہرحافظ خطیب  شہاب الدین صاحب دامت برکاتہم،استاذِمحترم حضرت  اقدس مولانامفتی محمد صلاح الدین صاحب قاسمی دامت برکاتہم، قاری امتیازاحمدصاحب رشادی مدظلہ،مولانا اللہ بخش صاحبؒ اورشہرِآمبور کےتقریباًسبھی علماءِکرام سےحضرت والا ؒکاقریبی تعلق رہا۔

*حضرت والاؒ کی خصوصیات:*

حضرت والاؒ کی بڑی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت ہر چھوٹے بڑے سے ہمیشہ خوش مزاجی سے ملتے تھے اورسب سے بے تکلفی سے رہتے تھے۔
حضرت والاؒ مسلک علماءِ باقیات الصالحات پرہمیشہ قائم رہےاورعلماء دیوبند میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سیدحسین احمدمدنیؒ،حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ اورحکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمد طیب صاحبؒ کے عاشقوں میں سےتھے،ہمیشہ اِ‌ن اکابرین کی تصنیفات سے استفادہ کرتےتھے۔
اِس وقت شہرمیں الحمدللّٰہ اکثر علماءِکرام دارلعلوم دیوبند کے فضلاء ہیں،حضرت والاؒ سب کااحترام کرتےتھے،جبکہ حضرت کے فرزندوں کےعمرکےہوتے،یہ  علماء حضرات بھی  حضرت والا ؒکا نہایت ہی احترام وادب کرتےتھےاورحضرت والا خصوصی استفادہ کرتے تھے۔

*ایامِ علالت:*

حضرت والا ؒ  بقرِ عید سے دو دن پہلے سخت  بیمارہوکر صاحبِ فراش ہوگئے  ،اس کے باوجود جو حضرات بھی ملاقات کے لئے آتے سب سے اچھی طرح بات چیت کرتے تھے ۔
آخری ۱۰؍ دنوں سے بہت سخت بیمار ہوگئے اور نہایت کمزورہوگئے،یہ آیت  مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيهَا نُعِيْدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرىٰ(اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیداکیاتھا،اسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی  میں ایک مرتبہ پھرتمہیں نکال لائیں گے)پڑھتے تھے،اور اپنی مادرِ علمی (جامعہ  الباقیات الصالحا ت ،ویلور) کی  زیارت کی  بڑی تمناکرتے تھےاور باربار اس کا ذکر بھی کرتے رہے۔

*وفات وتدفین:*

بالآخر حضرت والاؒ یکم ربیع الثانی  ؁۱۴۴۵ھ مطابق ۱۶؍ اکتوبر؁۲۰۲۳ء بوقتِ عشاء۰۰:۸ جوارِ رحمت میں منتقل ہوگئے اوراگلےدن  بعدِ نمازِ ظہربڑی مسجد میں نمازِ جنازہ اداکی گئی اور چھوٹی مسجدکے قبرستان میں سپردِ خاک کیاگیا،ایک تاریخی مجمع   شریک تھا،شہر کے علاوہ ضلع کے دیگر شہر اور قصبوں سے بھی  علماء ،حفاظ ،عمائدین واکابرین کی بہت بڑی تعداد جنازہ میں شرکت کے لئے حاضرتھی ۔اللہ تعالیٰ سب کو بے انتہاء جزائے خیر عطافرمائے ۔آمین۔
اللہ تعالیٰ  حضرت والاؒ کی بال بال مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائےاوران کی خدماتِ جلیلہ کو قبول فرمائےاورپسماندگان کوصبر ِجمیل اوراجرِجزیل عطا فرمائے،آمین۔
 اللَّهمَّ اغفرْ لَهُ وارحمهُ ،وعافِهِ واعفُ عنهُ ، وأكْرِم نُزَلَهُ ، ووسِّع مُدْخَلَهُ ، واغسلْهُ بالماءِ والثَّلجِ والبَردِ ، ونقِّهِ منَ الخطايا كما نقَّيتَ الثَّوبَ الأبيضَ منَ الدَّنسِ ، وأبدِلهُ دارًا خَيرًا مِن دارِهِ ، وأهلًا خَيرًا مِن أهلِهِ ، وزَوجًا خَيرًا مِن زَوجِهِ ، وأدخِلهُ الجنَّةَ ونجِّهِ منَ النَّارِبِرَحْمَتِک یَااَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ،وَالْحَمْدُ لِّٰلہِ رَبِّ الٌعَالَمِیْنَ.

بدھ، 11 اکتوبر، 2023

علامہ کی رباعی

جب علامہ محمد اقبال 21 اپریل 1938ء کو انتقال فرما گئے تو عرصہ بعد شاہی مسجد کے احاطے میں ان کے مزار کی تعمیر شروع ہوئی۔ ہر ہفتے اور اتوار کو ایک بوڑھا شخص لاٹھی تھامے مسجد کی سیڑھیوں پر آبیٹھتا اور شام تک موجود رہتا۔ وہ زیر تعمیر مزار پہ نظریں گاڑے ٹک ٹک دیکھتا رہتا۔ کبھی یکایک أہ و زاری شروع کر دیتا۔ کبھی طواف کے انداز میں مزار کے چکر کاٹنے لگتا۔ اس کا نام محمد رمضان عطائی تھا۔ محمد رمضان عطائی ڈیرہ غازی خان کا باشندہ  تھا اور جن کو علامہ اقبال نے اپنی رباعی عطا کی تھی، یہ رباعی اپنے مفہوم، جذبے اور آہنگ کی بنا پر علامہ کی لازوال رباعی قرار پائی تاہم یہ رباعی اپنی فنی اور فکری خصوصیات کے علاوہ ایک نہایت دلچسپ کہانی لیے ہوئے ہے ۔
    محمد رمضان کو علامہ سے غیبی عقیدت تھی اور ان کی شدید خواہش تھی کہ علامہ کا دیدار نصیب ہو، چنانچہ جب محمد رمضان بسلسلہ امتحان دینے لاہور گئے تو علامہ اقبال کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ علامہ کے دوست چوہدری فضل داد نے  کہا ’’یہ بوڑھا طوطا ایم اے فارسی کا امتحان دینے آیا ہے‘‘ علامہ بولے ’’ عاشق کبھی بوڑھا نہیں ہوتا‘‘ محمد رمضان مزید پڑھنے کو کہا۔
محمد رمضان کی علامہ سےآخری ملاقات اقبال کے انتقال سے کوئی چار ماہ قبل دسمبر 1937 میں ہوئی۔ انہوں نے علامہ اقبال سے کہا ’’سنا ہے جناب کو دربار نبویؐ سے بلاوا آیا ہے۔‘‘
علامہ اقبال آبدیدہ ہو گئے ، آواز بھرا گئی ، بولے ’’ہاں ! بے شک لیکن جانا نہ جانا یکساں ہے، آنکھوں میں موتیا اتر آیا ہے، یار کے دیدار کا لطف دیدہ طلبگار کے بغیر کہاں۔‘‘
عطائی نے کہا ’’جانا ہو تو دربار نبویؐ میں وہ رباعی ضرور پیش فرمائیے گا جو اب میری ہے‘‘
 علامہ اقبال زار و قطار رونے لگے، سنبھلے تو کہا ’’عطائی ! اس رباعی کو بہت پڑھا کرو ممکن ہے خداوند کریم مجھے اس کے طفیل بخش دے‘‘
     مولانا محمد ابراہیم ناگی کبھی کبھی کہا کرتے ’’ظالم عطائی! کان کنی تو میں نے کی اور گوہر تو اڑا لے گیا ... بخدا اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ حضرت غریب نواز (علامہ اقبال) اتنی فیاضی کریں گے تو میں اپنی تمام جائیداد دے کر یہ رباعی حاصل کر لیتا اور مرتے وقت اپنی پیشانی پر لکھوا جاتا‘‘

محمد رمضان عطائی کون؟
    محمد رمضان ترین عطائی کو شعر شاعری سے شغف تھا اور خود بھی شاعری کرتے تھے، محمد رمضان سینئر انگلش ٹیچر تھے اور 1968ء میں اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ انہوں نے اپنی وصیت میں لکھا 
    ’’میرے مرنے پر اگر کوئی وارث موجود ہو تو رباعی مذکور میرے ماتھے پہ لکھ دینا۔‘‘ 
     مجھے معلوم نہیں کہ پس مرگ ان کے کسی وارث نے اس عاشق رسول کی پیشانی پہ وہ رباعی لکھی یا نہیں لیکن ڈیرہ غازی خان کے قدیم قبرستان ’’ملا قائد شاہ‘‘ میں کوئی بیالیس برس پرانی ایک قبر کے سرہانے نصب لوح مزار پر کندہ ہے۔ اقبال یہ رباعی اقبال کی کسی کتاب میں نہیں لکھی گئی ماسوائے ڈیرہ غازی خان میں اوراس قبر پر۔ ڈیرہ غازی خان کے ترین قبیلے سے تعلق رکھنے والے اللہ داد خان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔ اس کا نام محمد رمضان رکھا گیا۔ رمضان ہونہار طالب علم نکلا۔ بی۔ اے کے بعد بی ۔ ٹی کا امتحان پاس کیا اور بطور انگلش ٹیچر سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ طبیعت میں فقیرانہ استغنا بھی تھا اور صوفیانہ بے نیازی بھی ۔  علامہ اقبال کے عشاق میں سے تھے۔ انکے کئی اشعار پہ تضمین کہی جو علامہ نے بہت پسند کی۔ 
انہی دنوں ان کے قریبی شناسا مولانا محمد ابراہیم ناگی بھی ڈیرہ غازی خان کے سب جج تھے۔ مولانا ابراہیم کو علامہ اقبال سے ملاقاتوں کا اعزاز بھی حاصل تھا۔
       ایک دن مولانا ابراہیم لاہور گئے علامہ سے ملاقات ہوئی۔ واپس آئے تو سر شام معمول کی محفل جمی۔ علامہ سے ملاقات کا ذکر چلا تو عطائی کا جنوں سلگنے لگا۔ مولانا نے جیب سے کاغذ کا ایک پرزہ نکال کر عطائی کو دکھایا۔ یہ علامہ کی اپنی تحریر تھی۔ مولانا کہنے لگے۔ لو عطائی ! علامہ صاحب کی تازہ رباعی سنو۔ پھر وہ ایک عجب پر کیف انداز میں پڑھنے لگے۔

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو  بینی ناگزیر
از نگاہ  مصطفےٰ  پنہاں بگیر
     مولانا کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے لیکن محمد رمضان سن کر بے ہوش ہو گئے۔
        حج سے واپسی پر عطائی کےدل میں ایک عجب آرزو کی کونپل پھوٹی۔ ”کاش یہ رباعی میری ہوتی یا مجھے مل جاتی“ یہ خیال آتے ہی علامہ اقبال کے نام ایک خط لکھا“ آپ سر ہیں فقیر بے سر۔ آپ اقبال ہیں، فقیر مجسم ادبار۔ لیکن طبع کسی صورت کم نہیں پائی“
انہوں نے علامہ کے اشعار کی تضمین اور اپنے فارسی اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا۔
 "فقیر کی تمنا ہے کہ فقیر کا تمام دیوان لے لیں اور یہ رباعی مجھے عطا فرما دیں۔“
    کچھ ہی دن گزرے تھے کہ انہیں علامہ کی طرف سے ایک مختصر سا خط موصول ہوا۔ لکھا تھا:
    "جناب محمد رمضان صاحب عطائی۔ سینئر انگلش ماسٹر۔ گورنمنٹ ہائی اسکول ڈیرہ غازی خان
لاہور : 19/ فروری 1937۔
      جنابِ من میں ایک مدت سے صاحب فراش ہوں خط و کتابت سے معذور ہوں باقی، شعر کسی کی ملکیت نہیں آپ بلا تکلف وہ رباعی، جو آپ کو پسند آگئی ہے اپنے نام سے مشہور کریں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
فقط : محمد اقبال ۔ لاہور"
علامہ نے یہ رباعی اپنی نئی کتاب ”ارمغان حجاز“ کے لئے منتخب کر رکھی تھی۔ عطائی کی نذر کر دینے کے بعد انہوں نے اسے کتاب سے خارج کر دی۔

منگل، 3 اکتوبر، 2023

الناس علی دین ملوکھم

حجاج بن یوسف کے زمانے میں لوگ صبح کو بیدار ھوتے اور ایک دوسرے سے ملاقات ھوتی تو یہ پوچھتے۔۔؛
"گزشتہ رات کون کون قتل کیا گیا۔۔۔؟
 کس کس کو کوڑے لگے۔۔۔؟"

ولید بن عبدالملک مال، جائیداد اور عمارتوں کا شوقین تھا۔ اس کے زمانے میں لوگ صبح ایک دوسرے سے مکانات کی تعمیر، نہروں کی کھدائی اور درختوں کی افزائش کےبارے میں پوچھتے تھے۔۔۔۔۔

سلیمان بن عبدالملک کھانے، پینے اور گانے بجانے کا شوقین تھا۔اس کے دور میں لوگ اچھے کھانے، رقص وسرود اور ناچنے والیوں کا پوچھتے تھے۔۔۔۔

جب حضرت عمر بن عبدالعزیز (رحمہ اللہ) کا دور آیا تو لوگوں کے درمیان گفتگو کچھ اس قسم کی ھوتی تھی،،
"تم نے قرآن کتنا یاد کیا؟؟؟
ھر رات کتنا ورد کرتے ھو؟؟؟
  رات کو کتنے نوافل پڑھے؟؟؟"

اس بات کی تصدیق ھوئی کہ عوام اپنےحکمرانوں کےنقش قدم پر چلتے ھیں۔۔۔

(الناس علی دین ملوکھم)

اگرحکمران کرپشن، اقربا پروری، ظلم، عدل وانصاف کا خون، ،جہالت اور دین کی قدروں کو پامال کریں گے تو رعایا بھی گمراہ ھو گی۔۔۔۔۔

لہذا بےدین حکمرانوں سے اقتدار، صالح، اہل اور دیندار لوگوں کوسونپنےکی پرامن جدوجہد صرف سیاست نہیں بلکہ تقاضائے دین ھے.

پیر، 2 اکتوبر، 2023

کچھ ایسی مفت اور حیرت انگیز دوائیں ہیں

کچھ ایسی مفت اور حیرت انگیز دوائیں ہیں
جن کے استعمال سے بیماریاں سے بچا جا سکتا ہے- جیسے:
1. ورزش بھی ایک دوا ہے۔
2. صبح کی سیر  ایک دوا ہے۔
3. روزہ  ایک دوا ہے۔
4. گھر والوں کے ساتھ کھانا بھی ایک دوا ہے۔
5۔ ہنسی  ایک دوا ہے۔
6۔ گہری نیند  ایک دوا ہے۔
7۔ پیاروں کے ساتھ وقت گزارنا  ایک دوا ہے۔
8 خوش رہنا  ایک دوا ہے۔
9. خاموشی بھی بعض صورتوں میں دوا ہے۔
10۔ لوگوں کی مدد کرنا بھی ایک دوا ہے 
11- آپکے اچھے اور مخلص دوست دوائیوں کا اسٹور ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر نماز سو دواؤں کی ایک دعا ہے
آزما کر دیکھ لیں۔۔۔۔

منگل، 26 ستمبر، 2023

کیا ساڑھے پانچ ہزار سال پہلے فنا ہونے والی ایک قوم کو ایٹمی تابکاری کے ذریعے عذاب دیا گیا تھا ؟؟؟

کیا ساڑھے پانچ ہزار سال  پہلے فنا ہونے والی ایک قوم کو ایٹمی تابکاری  کے ذریعے عذاب دیا گیا تھا ؟؟؟

••┈┈•••○○❁⭕❁○○•••┈┈••

تقریبا ساڑھے پانچ ہزر سال پہلے کی بات ھے ۔ ایک بہت ہی زبردست قوم ہوا کرتی تھی ۔ وہ لوگ سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ترقیوں کی معراج  پر تھی ۔ وہ لوگ پہاڑوں کو اس خوبصورت طریقے سے تراش کر مضبوط ترین محلات  اور تعمیرات کیا کرتے تھے کہ آج کی سائنس ان کی عقل دانش پر اش اش کر اٹھے ۔ وہ لوگ اس قدر زہین اور ماہرین تعمیرات تھے کہ اللہ کے مقابلے (نعوذ  باللہ)  میں جنت بنا دیا کرتے تھے ۔ وہ انتہائی طاقتور قدآور اور جینیئس  تھے ۔ اپنی انہی خصوصیات کی وجہ سے وہ اس دور کی سپر پاور کہلاتے تھے۔
اپنی ترقی تعمیرات اور خصوصیات کی وجہ سے سرکش ہوتے چلے گئے ۔ وہ خدائے  وحدہ لاشریک کے وجود سے منکر ہوگئے تھے ۔ انبیاء ان کو ہدایت کی بات  سمجھاتے تو وہ ان کا مذاق اڑاتے اذیتیں پہنچاتے ، اپنی بستیوں سے تشدد کرکے  نکال دیا کرتے ۔
وہ خطہ بہت سر سبز وشاداب تھا۔ لیکن جب ان پر عذاب  نازل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا تو ان کے ہاں بقرشین روک دی گئیں لیکن وہ  پھر بھی باز نہ آئے ۔ ان کے ہاں بارشوں اور بادلوں نے اپنے رب کے حکم سے بالکل رخ پھیر لیا جس کی وجہ سے وہاں قحط سالی والی صورتحال پیدا ھوچلی تھی۔ پھر ایک روز انتہائی عجیب و غریب واقعہ رونما ہوا۔
انہوں ایک روز  آسمان پر اٹھنے والے ایک دھوئیں کے بادل کو دیکھا جو تیزی سے ان کی طرف  بڑھ رہا تھا اس بادل کو دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے اور سمجھے کہ ان کی قحط سالی ختم ہوگئی ہے یہ بادل خوب برسے گا اور ایک بار پھر ان کے ہاں ہر طرف ہریالی اور سبزے کا دور دورہ ہو جائے گا۔ لیکن یہ بادل قہر برسانے والا تھا۔ یہ وہ بادل نہیں تھا بلکہ اس بادل نے سوائے ان کے مضبوط مکانات محلات کے کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا۔
قرآن پٌاک میں اس واقعہ کا ذکر کچھ اس طرح ملتا ھے ۔
پھر جب انہوں نے اسے دیکھا کہ وہ ایک ابر ہے جو ان کے میدانوں کی طرف بڑھا چلا آ رہا ہے، کہنے لگے کہ یہ تو ابر ہے جو ہم پر برسے گا، (نہیں) بلکہ یہ  وہی ہے جسے تم جلدی چاہتے تھے یعنی آندھی جس میں دردناک عذاب ہے۔ وہ اپنے  رب کے حکم سے ہر ایک چیز کو برباد کر دے گی پس وہ صبح کو ایسے ہو گئے کہ  سوائے ان کے گھروں کے کچھ نظر نہ آتا تھا، ہم اسی طرح مجرم لوگوں کو سزا  دیا کرتے ہیں۔ 
24/25 سورہ احقاف

وہ ایک ایسی تند و تیز اور تابکاری اثرات والی ھوا تھی جس نے ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی اس خطہ زمین کو آباد  نہیں ھونے دیا تھا۔ وہاں پر کسی نباتات اور ہریالی کو نہ تو چھوڑا تھا اور نہ ہی کسی کو سلامت رھنے دیا تھا۔ وہ ہوا جہاں جہاں سے گزرتی انسانوں کے جسموں سے گوشت کو اتار کر اسے صرف ہڈیوں کا پنجر رھنے دیتی (ایٹمی حملے کی  طرح انسانوں کے جسموں کا گوشت پگھل کر بھاپ میں تبدیل ہوگیا۔ ) وہ ھوا ایسی بانجھ کر دینے والی تھی جیسے تابکاری کسی جگہ کی زمین کے اندر تک اثر  کرکے اس کو بانجھ کر دیتی ھے کسی چیز کو پیدا نہیں ھونے دیتی ۔
اللہ تعالی قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے ۔
جب ھم نے ان پر بانجھ ھوا بھیجی ۔ وہ جس چیز پر سے گزرتی اسے بوسیدہ ہڈیوں کی طرح کئے بغیر نہ چھوڑتی ۔ الذاریات 41/42

اس تابکاری نما ھوا نے ان کے جسموں کو گوشت کے بغیر بوسیدہ ہڈیوں جیسا بنا دیا۔ سب کچھ مٹ گیا۔ نہ نخلستان رھے نہ خوشنما باغات نہ سبزہ ۔  ھر طرف اڑتی ریت اور انسانی ڈھانچے رہ گئے۔ یہ پورا خطہ خالی ہوگیا۔ آج بھی یہاں دور دور تک صرف ریت اڑتی نظر آتی ھے۔ آج کے زمانے میں اس خطے کو ربع خالی کے نام سے ہی پکارا جاتا ھے ۔
چار ہزار سال گزر گئے ۔۔
ایک روز اسی علاقے سے دنیا کے بہترین انسانوں کا ایک لشکر گزرا جس کی قیادت  کائنات کے سب سے بہترین انسان کر رھے تھے۔ لشکر ایک طویل مسافت طے کرکے آرھا تھا۔ اھل لشکر نے اس خطے میں کچھ کھنڈرات دیکھے تو وھاں کچھ دیر رک کر  آرام کرنے اور کھانے پینے کا ارادہ کیا۔ وہیں ایک کنواں بھی موجود تھا۔ اھل لشکر نے  کنوئیں سے پانی لیا وھاں کچھ خشک لکڑیاں اکٹھی کی اور ان کو جلا  کر روٹی اور سالن تیار کرنے لگے۔

جب دو جہاں کے سردارﷺ اور لشکر کے قائد کو اس بارے معلوم ھوا تو آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ کنوئیں  سے نکالا ھوا پانی ، پکائی ھوئی روٹیاں اور تیارشدہ سالن کو ضائع کردو اور اس میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ اور نہ ہی پیو ۔۔ جتنی جلدی ھوسکے یہاں سے آگے نکل جاؤ ورنہ تم سب پر بھی بلا آ سکتی ھے ۔ یہاں پر ایک قوم کو عذاب دیا گیا تھا۔   یہاں کی کسی چیز کو مت استعمال کرنا۔
یہ کھانا جو ایک بڑے لشکر کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ بہت بڑی مقدار میں تھا۔ لیکن آپ ﷺ کے حکم پر سارے کا سارا ضائع کر دیا گیا۔
یہ آپ ﷺ کا علم جو اللہ نے عطا کیا تھا کہ آپ ﷺ نے اس جگہ پر نہ نظر آنے والی وبا یا بلا کا پتہ لگا لیا تھا جو انسانوں کے لئے مہلک تھی ۔
قران پاک میں اس ھوا کے لئے لفظ ریح العقیم استعمال کیا گیا ھے۔  ریح کا مطلب ھوا اور عقیم بانجھ عورت مرد یا زمین کو کہا جاتا ھے ۔
علماء ا کرام اس لفظ بانجھ ھوا کے معنی عرصہ دراز تک تلاش کرتے رھے لیکن  ایسی بانجھ ھوا کے بارے میں نہ جان سکے جو اتنی ہلاکت خیز تھی کہ جسم سے  گوشت پگھلا کر ھڈیوں کو بوسیدہ کر دے اور اس جگہ پر موجود ھر چیز کوایسا  بانجھ کردے کہ وہاں ھزاروں سال بعد بھی کوئی چیز کچھ نہ پیدا کر سکے ۔  موجودہ دور میں جب ایٹمی تجربات اور ان کی نابکاری کے بارے جاننے کے بعد  خیال اس طرف جاتا ھے  اور قران پاک کی ان آیات کے مفہوم واضح ھونے لگے ۔  ایک ایسا بادل جو نہایت برق رفتاری سے  بڑھتا ھے۔۔ اور پھر آناً فاناً  تباہی مچا دیتا ھے۔۔  کسی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیتا۔ پھر اس کے بعد  ایک ایسی بانجھ ھوا جو سب کچھ ختم کرکے ہزاروں سال تک وہاں کچھ پیدا نہیں  ھونے دیتی ۔۔
اللہ پاک ھم سب کو ہدایت عطا فرمائے اور اپنے حبیب ﷺ  کے صدقے کسی بھی ایسی پکڑ سے محفوظ رکھے آمین ثم آمین یا رب العالمین عزوجل
واللہ عالم ۔

اتوار، 24 ستمبر، 2023

مثالی استاد کے اوصاف سیرت طیبہ کی روشنی میں

مثالی استاد کے اوصاف سیرت طیبہ کی روشنی میں 

کسی بھی سماج میں استاد کا مقام نہایت اہمیت کا حا مل ہو تا ہے۔ استاد دانشمند انہ ٍروایات کی منتقلی اور تہذیب کے چرا غوں کو روشن کر تا ہے۔تعلیم کی جدید کاری و تعمیر میں سب سے اہم کر دار استاد کا ہو تا ہے۔استاد کی تعلیمی لیاقت،ذاتی اوصاف اور اس کو تر بیت فراہم کر نے والے ادارے معاشر ے میں پسندیدہ اقدار کے منتقلی میں ایک طاقتور ذریعے کا کام انجام دیتے ہیں۔اساتذہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی پو شیدہ صلاحیتوں کا جائزہ لیتے ہوئے ان کو بہتر طریقہ سے پروان چڑھائیں۔ زندگی سے مختلف پیشے جڑے ہوتے ہیں جن سے مختلف پیشہ وار افراد تعلق رکھتے ہیں ڈاکٹر ی کا پیشہ عوامی صحت سے تعلق رکھتا ہے،جبکہ انجینئر کا تعلق تعمیری پہلو سے ہو تا ہے جہاں ایک انجینئر سڑکوں،پل،ڈیم اور گھروں کی تعمیر کی ذریعہ سماج کی تعمیر ی ضروریات پر توجہ مرکوز کر تے ہوئے عوامی راحت اور سہولتوں کی فراہمی میں پیش پیش رہتا ہے وہیں ڈاکٹر عوامی زندگی کی طوالت کو یقینی بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ پیشے بیشک سماج کے لئے نہایت ہی کارآمد ہیں لیکن ان کی رسائی انسانی زندگی کے چند شعبوں تک ہی محدود رہتی ہے۔ جب کہ پیشہ تدریس انسان کی جسمانی،معاشرتی،ذہنی اخلاقی،روحانی اور جمالیاتی فروغ میں اہم کردار انجام د یتاہے جس کی وجہ سے پیشہ تدریس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا تا ہے۔ ایک استاد پیشہ تدریس میں ایک قائدانہ کردار کا حامل ہو تاہے اسی لئے اس سے چند توقعات بھی وابستہ کی جا تی ہیں کہ وہ تعلیمی اغراض و مقاصد پر کامل دسترس کا حا مل و عامل ہو تاکہ ہر حال میں پیشہ کا تقدس بر قرار ر کھا جا سکے۔
 پیشہ تدریس کا انتخاب کر لینے اور اس کی تر بیت کے حصول سے ایک قابل استاد کی تیاری ممکن نہیں ہے۔ چند پسندیدہ شخصی اوصاف اور پیشہ وارانہ مہارت کے امتزاج سے ایک موثر اور کا میاب استاد کو تیار کیا جا سکتاہے۔ استاد اپنا بیشتر وقت طلبہ کی قر بت میں گزارتا ہے جس کے نتیجے میں استاد کے رویوں،حر کات و سکنات،پسند و نا پسند اور بر تاؤ کا طلبہ پر گہر ا اثر پڑتاہے۔ اپنے دوستانہ بر تاؤ صبر اور خاموشی مزاجی کے ذریعے استاد کمرۂ جماعت میں ایک اچھی جذباتی فضاء کو ہموار کر تا ہے۔ادنی واعلی لیاقت کے حا مل طلبہ کے ساتھ مساویانہ تعلیمی منصوبہ بندی اور عمل پیرائی کے ذریعے سے ایک اچھے استاد کا  پتہ چلتاہے۔انسانیت کے چراغوں کو روشن و منور کر نے کے لئے ضروری ہے کہ استاد طلبہ کے فطری محرکات،خواہشات اور رویوں کو شائستہ بنانے کے ساتھ انھیں صحیح سمت پر گامزن کریں۔طلبہ میں یقین و خود اعتمادی کو فروغ دینا کے علاوہ ایک استاد کا فرض اولین ہوتا ہے کہ وہ طلبہ میں تخلیقی صلاحیتوں کو نکھار ے اور ان کو تر قی کی راہوں کو متعین کر یں۔
اساتذہ کے مطلوبہ اوصاف میں علمیت،حس مزاح، باہمی اشتراک،جذبہ خدمت،پیشہ سے دیانت، شخصی جاذبیت، کھلاذہن، توجیہ و استدالال،قوت ارادی،استقلال،غیر جانبداری،مہذب انداز اور عزت نفس جیسے اوصاف کا پایا جانا نہایت اہم تصور کیا جا تاہے کیونکہ طلبہ پر گہرا اور دیر پا اثر ایک کا میا ب استاد کی شخصیت کا ہی ہوتا ہے۔اساتذہ کا شمار قوم کے سب سے زیادہ ذہین اور باشعور طبقے میں ہوتا ہے اساتذہ کے فرائض منصبی میں تعمیر قوم،کردار سازی، تزکیہ نفس،قیادت کی تیاری،قیادت کو اعلی نظریات سے متصٖف کرنا حق و باطل،جائز و نا جائز اور حلال و حرام کا شعور بیدار کر نا بھی شامل ہیں۔زندہ قومیں اپنا نظام تعلیم اپنے عقائد،افکار اور اپنی تہذیب و کلچر کی روشنی میں تر تیب دیتی ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ و علیہ و سلم کوبنی نوع انسان کے لئے رہبر،ہادی،رہنما اور معلم اعظم بنا کر بھیجا گیا۔دنیا میں آپ کی بعثت کا مقصد علم و حکمت کی تعلیم کی اشاعت تھا۔آپ کو علم و حکمت کی تعلیم خود رب ذوالجلال نے دی اور تمام انسانیت کے لئے معلم بنایا۔آپ کی حیات مبارکہ زندگی کے ہر شعبے میں مقتدا اور رہنماہے۔سیرت طیبہ کے مطالعہ سے ایسے پسندیدہ اوصاف کا ہم کو پتہ چلتاہے جس کے ذریعے ایک کامیاب،مثالی اور متناسب استادکی تیاری ممکن ہے جوسیر ت طیبہ کی روشنی میں طلبہ کی علمی تشنگی کو دور کر نے کے سامان فرا ہم کر سکتاہے۔ بیشتر ما ہرین تعلیم جن کے نظریات جدید تعلیمی فلسفہ و اصول نفسیات اور در س و تدریس کے اساس مانے جا تے ہیں سیر ت رسول کے مطالعے سے یہ خوش گوار انکشاف ہو تا ہے کہ یہ سب کے سب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نظریہ تعلیم و تعلم کے خوشہ چیں ہیں۔
اکتساب کے عمل میں استاد کا نرم و شیریں لہجہ اور مشفق رویہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔نبی کر یم صلی اللہ علیہ و سلم جب بھی تکلم فر ماتے آپ کا لہجہ نہایت ہی شیر یں اور ملائم ہو تا اور آپ کی تعلیم سامعین کی دلوں پر راست اثر کر تی تھی۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کرام کو بھی نرم اور شفیق بننے کی تلقین فر مائی۔آپ نے فر مایا کہ تعلیم کو آسان کر و اور لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالو۔آج کا سائنسی طریقہ تعلیم بھی اسی بصیرت افروز نکتہ کی طر ف توجہ دلاتا ہے کہ ایک معلم آسان سے مشکل کی طر ف پیش قدمی کرے۔سیر ت طیبہ ایک کامیاب استاد کے لئے لازمی قراد دیتی ہے کہ وہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کرتدریسی کا م کو انجام دیں تاکہ طلبہ کو پوری بات باآسانی سمجھ میں آسکے اور اس کو سبق کے استحضار میں سہولت ہو۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کسی بات کی اہمیت کوظاہر کر نے کے لئے بات کو دو یا تین بار دہرایا کر تے تھے۔ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فر ماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب بھی گفتگو فر ماتے تو درمیان میں وقفہ فر ماتے اور بات کو کھول کھول کر بیان کرتے تاکہ وہ  بات سننے والے کے ذہن میں اتر جائے۔
ایک مثالی استاد کی گفتگو فصاحت و بلاغت سے لبریز ہو نی چاہیے موضوع کی مکمل تفہیم کے لئے الفاظ کاانتخاب، مختصرجملوں کے علاوہ جملوں کی خاص تر کیب طالب علم کو کسی بھی الجھن اور مغالطے سے محفوظ رکھتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو تمام عرب " افصح العرب"کہتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ سلم کی گفتگو کی تاثیر کا قائل تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو جوامع الکلم سے نوازا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم بڑے سے بڑے موضوع کو نہایت مختصر آسان جملوں میں مکمل کردیتے تھے جیسے سمندر کو کوزے میں بند کیا جا تاہے۔موثر اور کامیاب تدریس کے لئے ایک استاد کو چاہیے کہ سرکار کے اسوہ سے فیض حاصل کرے۔اپنی لسانی صلاحیتوں کی بناء پر ادق سے ادق مضامین کو سہل اور دلچسپ بناکر طلبہ کو پیش کر یں۔اکثر اساتذہ مناسب اور بہتر لسانی صلاحیتوں سے عاری ہو نے کی وجہ سے مو ثر تدریس کی انجام دہی میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ایک کامیاب اور مثالی استاد کے لئے لازمی ہے کہ وہ زبان کی فنی باریکیوں اور اس کی بنیادی مبادیات سے واقف ہوں تاکہ وہ طلبہ کو فوری اکتساب کے عمل کی جا نب راغب کر سکے۔
سبق کی کامیاب منصوبہ بندی اور تدریس کے لئے ضروری ہے کہ معلم طلبہ کی ذہنی صلاحیت و استعداد کا خیال رکھے۔کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم مخاطب کی ذہنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق اس کو نصیحت فر ماتے تھے۔ایک صحابی کا واقعہ اس ضمن میں بیان کر نا مناسب معلوم ہو تاہے تاکہ نفس مضمون کو وضاحت حا صل ہو سکے۔ایک صحابی نے فر مایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میں بہت زیادہ گناہوں میں گرفتار ہوں اور میر اان سے پیچھا چھوڑانا بھی مشکل نظرآتا ہے۔ اگر آپ کہیں تو میں صرف ایک برائی کو چھوڑ سکتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پہلے ان سے سچ بولنے کا وعدہ لیا اور ان کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے فرمایا کہ ٹھیک ہے تم صرف جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔صحابی رسول نے جب جھوٹ سے اعراض کر لیاتو باقی خرابیاں از خود ختم ہوگئیں۔ ایک معلم کو چاہیے کہ وہ درس و تدریس کے دوران طلبہ کی ذہنی استعداد اور صلاحیتوں کو پیش نظر رکھیں اور تدریسی عمل کو حکمت و دانائی سے متصف کرے۔
ایک کامیاب استاد اپنی تدریس کو مثالوں کے ذریعہ دلکش اور دلچسپ بنا تا ہے۔سرکار صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کو اکثر مثالوں کے ذریعہ تعلیم دیتے تھے۔ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ میر ی بیوی کو سیاہ بچہ تولد ہو ا ہے جبکہ ہم ماں اور باپ دونوں بھی سفید ہیں پھر بھی یہ لڑکا سیاہ ہے۔آپ ﷺنے مو قع کی نازکت کا جا ئزہ لیتے ہوئے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟اس نے کہاہا ں ہیں۔آپ ﷺنے سوال کیا کہ کیا ان میں کوئی سیاہی ما ئل اونٹ بھی ہیں۔اس نے کہا کہ ہا ں ہے آپﷺنے پھر سوال کیا کہ وہ سیاہی ما ئل اونٹ سرخ اونٹوں میں کہا ں سے آگیا۔اس نے کہا ہوسکتاہے کہ اس کی نسل میں کوئی اس رنگ کا رہا ہو۔آپﷺ نے فر مایا کہ یہ بچہ بھی تمہارے اصل نسب کے اثر سے ہی سیاہ ہوا ہے۔کا ر نبوت سے وابستہ افراد یعنی کے اسا تذہ کو چاہیے کہ وہ طلباء کے سوالات کا تحمل سے سامناکر یں اور بہت ہی صبرو تحمل اور دانش مندی سے طلبہ کے سوالات کے جوابات دیں ان کو مذاق اور اپنے عتاب کا نشانہ نہ بنائیں۔
دینا کی سب سے معظم و بر گزیدہ شخصیت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حا ضر ہو کر زنا کی اجازت طلب کر تا ہے۔قربان جائیے معلم انسانیت پر کہ آپ کی پیشانی پر کوئی شکن تک نہیں ابھری اور آپ نے بڑے صبر و تحمل سے فرمایا کہ کیاتم اجازت دے سکتے ہو کہ کو ئی شخص تمہاری  ما ں،بہن،بیوی یا بیٹی سے زنا کر ے اس نے کہا کہ ہر گز میں اجازت نہیں دے سکتا۔آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس کسی خاتون سے وہ منہ کا لا کر ے گا وہ بھی کسی کی ماں،بہن،بیوی یا بیٹی ہے اسی لئے تم اپنے آپ کو اس ؎گناہ سے روک لو۔گنا ہ کی رغبت رکھنے والا شخص  آ پ کی تعلیم کے نتیجے میں زنا جیسے خبیث گنا ہ سے نفرت کر نے لگتاہے۔دعویداران علوم نبوت کو چاہیے کہ وہ سرکار ﷺ کی اس سنت کو اپنی تدریسی اور تعلیمی کاز میں بروئے کار لائیں اور طلبہ کے اوٹ پٹانگ اور معصوم سوالات پر مشتعل نہ ہوں اور ان کو تشدد اور تمسخر کا نشانہ نہ بنائیں اور اعلی ظرفی کا مظاہرہ کریں اور طلبہ کی صحیح رہبری کر یں اور ان کی دل آزاری سے اجتناب کر یں۔دل آزاری سے پر ہیز لازمی ہے کیونکہ دل آزاری کے باعث طلبہ ڈھیٹ ا ور گستاخ بن جا تے ہیں۔آپ ﷺ کو جب کوئی بات یا فعل ناگوار گذر تی توآپ ﷺ ناگوار بات کہنے والے شخص کا نا م لیے بغیر فرما تے کہ لوگوں کو کیا ہوگیاہے کہ وہ ایسا کام کر تے ہیں اور فرماتے کہ وہ بہت ہی اچھا آدمی ہے اگر یہ کام چھوڑدے۔آپ ﷺ کے اس عمل سے اساتذہ کو در س ملتا ہے کہ وہ نا گوار حالات و واقعات پر بالراست تنقید سے پر ہیز کر یں اور سنت نبوی کی روشنی میں بالواسطہ نصیحت کر یں۔
ایک کامیاب معلم طلبہ میں نہ صرف حصول علم کا شوق پیدا کرتاہے بلکہ درس سے پہلے طلبہ کو حصول علم کے لئے آمادہ بھی کر تاہے۔درس کے درمیان مختصر وقفہ بھی دیں تاکہ طلبہ بوریت و اکتاہٹ کا شکار نہ ہوں آپ ﷺ صحابہ کو ایک دن کے نا غے سے واعظ و نصیحت فرماتے تھے تاکہ وہ اکتاہٹ ا ور بوریت سے محفوظ رہیں۔سیر ت طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہو تا ہے کہ آپ ﷺ تر غیب و دلچسپی کے لئے تعلیم سے قبل مختلف سوالات کے ذریعہ مناسب ماحول اور فضاء پید ا کرتے تھے مثلا مفلس کون ہے؟ یا پہلوان کون ہو تاہے؟ یا وہ کون سا درخت ہے جو بہت ہی مبارک ہے؟وغیرہ۔
 ا ن تعلیمات کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ معلم اپنے درس سے قبل تعلیمی ما حول و فضاء کو ہموار کر نے کے ساتھ طلبہ میں محرکہ پیدا کرے اور ان کو تر غیب دیں پھر در س و تدریس کا آغاز کر یں۔بیشتر ماہرین تعلیم اس نظریہ کے قائل ہیں کہ بغیر ترغیب و محرکہ پید ا کئے موثر تدریس ناممکن ہے۔استاد چھوٹے چھوٹے سوالات کے ذریعہ بڑی بڑی حقیقتوں کو طلبہ سے روشناس کرسکتاہے۔اساتذہ کے لئے لازمی ہے کہ وہ فکر و تدبر سے لیس ہوں اور طلبہ میں بھی اس کو فروغ دیں وہ علم لا حاصل ہے جو فکر وتدبر کوپروان نہ چڑھا سکے۔آپ ﷺ قدرت کی کاری گری پر غور و فکر کر نے اور اس کی حکمت پر تدبر کرنے کی تلقین کر تے تھے۔آپ ﷺ نے فرمایا 
 "ایک گھڑی کا تفکر ساری رات کی عبادت سے بہتر ہے۔"
" ایک عالم کو ایک عابد پر وہی فضیلت حا صل ہے جو چودھویں کے چاند کو دیگر ستاروں پر۔"
"ایک فقہی شیطان کے لئے ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔"
آپ ﷺ کے  مذکورہ احادیث کی روشنی میں اساتذہ طلبہ میں غور و فکر کو پروان چڑھائیں کیونکہ فکر و تدبر ہی و ہ عمل ہے جس کے ذریعہ کا ئنات کے اسرار کو فاش کیا جا سکتاہے۔ایک کامیاب معلم کے لئے ضروری ہے کہ اس کے علم و عمل میں موافقت ہو۔ یہ ایک ابدی حقیقت ہے کہ علم عمل کے بغیر بیکار ہے اعمال صالحہ کے بغیر ایمان موثر نہیں ہو تا ہے اسی لئے ایک استاد کو چاہیے کہ وہ طلبہ کے سامنے اپنا عملی نمونہ پیش کر یں اور جو بھی پند و نصیحت کر ے اس پر پہلے خود عمل کرے تاکہ نصیحت تاثیر سے خالی نہ ہو۔علم و عمل اور قول و فعل کا تضاد انسان کے لئے بڑی تباہی کا باعث ہو تا ہے آج دنیا اسی کی وجہ سے تخریب اور تباہی کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے۔انسان نے جدید علوم کے سہارے آسمانوں میں پرندوں کی طرح اڑنا اور ر سمندروں میں مچھلیوں کی طرح تیر نا تو سیکھ لیا ہے لیکن ایک انسان کی طرح مروت اور اخلاقی زندگی گزارنے سے عاجز ہے۔درس و تدریس سے وابستہ افراد کے لئے ضروری ہے کہ وہ علوم نافع کی طلبہ کو تر غیب دیں کیونکہ فرمان نبوی ﷺ ہے وہ علم جس سے نفع حاصل نہ کیا جائے وہ غیر مدفون خزانے کی مانند ہے۔علم نافع سے مراد وہ علم ہے جو انسان کو اللہ کی خوشنودی کا خوگر کر دے اور شریعت کا تابع بنانے کے ساتھ رضائے الہی کے مطابق اس کو انسانیت کی خدمت کے لئے وقف کردے۔غیر نافع علم سے مراد وہ علم ہے جو انسان کو صرف مادی خواہشات کا پرستار بنادے،دین سے بیزار کردے اور خود غرضی کا عادی کر دے۔قرآن نے آپ ﷺ کو بحثیت معلم انسانیت پیش کرتے ہوئے آپ ﷺ کی بعثت کے چار فرائض بیان کئے ہیں جن میں تزکیہ نفس بھی شامل ہے۔آپ ﷺ نے بے عمل عالم کو ایسے چراغ سے تشبیہ دی ہے جو لوگوں کو روشنی تو دیتاہے لیکن خود اندھیرے میں رہتاہے۔آپ ﷺ نے فرمایا روز قیامت لوگوں سے حشر کے میدان میں جو پانچ سوالات پوچھے جائیں گے ان میں علم پر عمل سے متعلق سوال بھی ہو گا کہ انسان نے اپنے علم پر کس حد تک عمل کیااور اس سے لوگوں کو کیا فائدہ پہنچایا۔سیرت طیبہ اساتذہ سے مطالبہ کر تی ہے کہ وہ عملی نمونہ کی اعلی مثال پیش کر یں۔عفو درگزر سے کام لیں۔طلبہ میں اولعزمی اور حوصلہ مند ی کو پر وان چڑھائیں۔عجز و انکساری سے کام لیں اور اس کی تعلیم دیں۔درس و تدریس کو مخصوص نہ کر یں بلکہ اس کے فیوض کو عام کرے۔طلباء میں ڈر خوف گھٹن کی کیفیت کا سد باب کریں۔طلبہ کے سوالات کے اطمینان بخش جواب دیں۔سیرت طیبہ کے ان معلمانہ اوصاف حمیدہ سے اساتذہ متصف ہو کر نہ صرف اپنے فن میں کمال پیدا کر سکتے ہیں بلکہ مجروح انسانیت کے غموں کا مداؤ ا بھی کر سکتے ہیں۔


اتوار، 17 ستمبر، 2023

چند الفاظ کا صحیح تلفظ

💫۔

اردو میں استعمال ہونے والے ایسے الفاظ جو پانچ حرفی ہوں اور ان کا پہلا اور چوتھا حرف "الف" ہو مثلاً اجناس، اقسام، اکرام وغیرہ، ان الفاظ کے تلفظ میں عموماً غلطی اور ابہام پایا جاتا ہے کہ آیا ان الفاظ کو الف کے زبر کے ساتھ "اَقسام" یا زیر کے ساتھ "اِقسام" پڑھا جائے۔ اکثر یہ الفاظ غلط تلفظ سے بولے جاتے ہیں۔

ایک نکتہ ذہن نشین کر لینے سے ایسے الفاظ کے تلفظ میں درستی حاصل کی جا سکتی ہے۔

وہ نکتہ یہ ہے کہ جو الفاظ کسی واحد کی جمع ہیں وہ الف کے زبر سے پڑھے جائیں گے مثلاً جنس کی جمع اَجناس، قسم کی جمع اَقسام، فلک کی جمع اَفلاک، اَعمال، اَخلاق، اَفعال، اَدوار، ازواج، اَقلام، اَملاک، اَلواح، اَبواب، اَحکام وغیرہ بہت سے الفاظ

باقی الفاظ یعنی جو کسی واحد کی جمع نہ ہوں، وہ عموماً مصدر ہوتے ہیں اور الف کے زیر کے ساتھ درست ہیں۔ مثلاً
اِکرام (عزت دینا) اِجلاس (بیٹھنا، بٹھانا) اِظہار، اِسلام، اِعلان، اِخفاء، اِسہال، اِملاء، (اساتذہ سے بھی اکثر "اَملا لکھو" سننے میں آتا ہے)، اِقبال وغیرہ 

در حقیقت یہ ایک ہی وزن پر دو قسم کے الفاظ ہیں۔ ہم ان کو آپس میں گڈ مڈ کر دیتے ہیں جس سے بچنا چاہیے۔

بعض الفاظ ایسے ہو سکتے ہیں جو دونوں طرح درست ہوں، ایسی صورت میں بھی یہی اصول لاگو ہو گا مثلاً اَقدام اور اِقدام۔ اگر قدم کی جمع ہو تو اَقدام بولا جائے گا۔ اگر "آگے بڑھنا" یا "قدم اٹھانا" کے معنی میں ہو تو اِقدام بولا جائے گا۔              اردو کے کچھ الفاظ ایسے بھی ہیں کہ اگر زیر زبر ہوں تو بھی بغیر جملوں کے پہچان ناممکن ہو جاتی ہے مثلاً
میل۔ گندگی
میل۔ ملن زیادہ پنجابی میں مستعمل ہے
بیر۔ ایک پھل
بیر۔ عناد ناپسندیدگی
بیل۔ گاۓ کا مذکر
بیل ۔ وہ نباتات جو رسیوں یا دوسرے درختوں پر چڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہوں
یہا تمام الفاظ زبر سے شروع ہوتے ہیں مگر اداٸیگی اور معانی مختلف ہیں۔

منگل، 12 ستمبر، 2023

خوف خدا میں رونے کے فضاٸل

خوف خدا میں رونے کے فضاٸل

خوف کے لغوی معنی خطرہ ، ڈر ،ہیبت ، فکر ، خدشہ ،اصطلاح میں  خوف اسے کہتے ہیں کہ بندہ اپنے آپ کو امرِ مکروہ سے بچائے اور بجا آوریِ احکامِ حق میں عبودیت کے ساتھ سرگرم رہے۔خوف کی دو اقسام ہیں:(1)لوگوں کا خوف(2)اللہ پاک کا خوف۔اللہ پاک کے خوف کی تعریف یہ ہے کہ انسان تمام منہیات سے بچ کر خالص اللہ والے کاموں میں لگ جائے۔اللہ پاک کے خوف سے رونے کے بے شمار فضائل ہیں۔جب ان پر (خدائے) رحمن کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے وہ سجدہ کرتے ہوئے اور (زار و قطار) روتے ہوئے گر پڑتے ہیں۔سورۃ السجدہ۔خوفِ خدا اورعشقِ مصطَفٰے میں رونا ایک عظیم الشّان نیکیہے۔انبیائے کرام علیہم السلام بھی اللہ پاک کے خوف میں راتوں کو قیام کرتے اور آنسو بہاتے جیسا کہ ایک روایت کے مطابق حضرت یحیی علیہ السلام جب نَماز کے لئے کھڑے ہوتے تو ( خوفِ خدا سے ) اِس قدر روتے کہ درخت اور مٹی کے ڈھیلے بھی ساتھ رونے لگتے حتی کہ آپ کے والِدِ مُحترم حضرت زکر یا علیہ السلام بھی دیکھ کر رونے لگتے یہاں تک کہ بے ہوش ہوجاتے ۔ مسلسل بہنے والے آنسوؤں کے سبب حضرت یحیی علیہ السلام کے رُخسارِ مبارَک ( یعنی با بَرَکت گالوں ) پر زَخم ہوگئے تھے۔خوفِ خدا کے فضائل میں کئی احادیث مبارکہ ہیں ۔جیسا کہ فرمانِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے :جس مومن کی آنکھوں سے اللہ پاک کے خوف سے آنسو نکلتے ہیں اگرچہ مکھی کے سرکے برابر ہوں ،پھر وہ آنسو اُس کے چہرے کے ظاہِر ی حصّے کو پہنچیں تو اللہ پاک اُسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔( 2 ) فرمانِ مصطفے ٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے:وہ شخص جہنم میں داخِل نہیں ہوگا جو اللہ پاک کے ڈر سے رویا ہو۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے،حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اللہ پاک کے خوف سے رونے والا انسان دوزخ میں داخل نہیں ہو گا یہاں کہ دودھ،تھن میں واپس نہ چلا جائے اور اللہ پاک کی راہ میں پہنچنے والی گرد و غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہو سکتے۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما روایت کرتے ہیں،میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:دو آنکھوں کو آگ نہیں چھوئے گی:(ایک) وہ آنکھ جو اللہ پاک کے خوف سے روئی اور (دوسری) وہ آنکھ جس نے اللہ پاک کی راہ میں پہرہ دے کر رات گزاری۔ اللہ پاکہمیں بھی اپنے خوف اور عشقِ رسول میں رونا نصیب فرمائے ۔

بدھ، 6 ستمبر، 2023

برصغیر میں عروج و زوال کی داستان

🌹برصغیر میں عروج و زوال کی داستان🌹
ہندوستان(برصغیر) ایک وسیع ملک تھا۔ اتنا بڑا کہ اسے چھوٹا براعظم کہا جاتا ۔ اس کا ساحل پانچ ہزارمیل تھا ۔ خشکی کی سر حد کو ئی چھ ہزار میل ہوں گی۔ شمال میں ہمالیہ پندرہ سو میل تک پھیلا ہوا تھا۔بند ھیاچل نے ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ہندوستان اپنی زرخیزی کی وجہ سے غیر قوموں کو اپنی طرف مائل کرتا رہا۔ صدیوں تک جنوبی قوموں کا تمدن شمالی ہندوستان کو متاثر کرتا رہا ۔ حملہ آور قوموں کی نسلیں آج بھی بندھیا چل کے اس پار شمالی ہندوستان کی نسبت بہت کم دکھائی دیتی ہیں۔ مختلف قوموں کے 
یہاں آنے سے ہندوستان میں مختلف تمدنوں کا ایک مجموعہ تیار ہو گیا۔ ہر تمدن ہندوستان کو متاثر کرنے کے بعد خودکسی دوسرے تمدن سے متاثر ہوتا رہا۔ نوحجری عہد میں ہندوستان میں دو قومیں بستی تھیں جس کی یاد گار آج تک نیل گری کی پہاڑیوں میں باقی ہے۔ اس کے بعد کول اور بھیل اقوام نے ہندوستان کو اپنا گھر بنایا۔ صدیوں بعددراوڑوں نے ان قوموں کو جنوب کی طرف دھکیل دیا۔   کول دراوڑ کے قد چھوٹے رنگ کالے پیلے اور ناک چپٹی تھی ۔دراوڑ ابتدا میں شمالی ہندوستان میں آباد ہوئے لیکن آریاؤں نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو دراوڑ  کولوں اور بھیلوں سے کر چکے تھے۔ آریاؤں نے دراوڑوں کو شمالی ہندوستان سے نکال دیا۔ وہ جنوبی ہندوستان میں چلے گئے۔ آج جنوبی ہندوستان میں دراوڑوں کی اکثریت ہے ۔ان کی زبانیں ہندی آریائی زبانوں سے مختلف ہیں۔ شمالی ہندوستان میں دراوڑ شہری تمدن کے مدارج تک پہنچ چکے تھے۔ ان کا تمدن سومیری تمدن سے ملتا جلتا تھا۔ ہڑپہ اور موہنجو داڑو کی کھدائیوں نے ان کے تمدن کی عظمت کو ہمارے سامنے دکھا دیا ہے۔ ان شہروں کا تمدن صدیوں کی آغوش میں پلاہو گا۔ مصر ، عراق اور ایران کی تہذیبوں کے پہلو بہ پہلو دراوڑی تہذیب بھی اپنی قدامت اور عظمت کی داستان کھنڈرات کی شکل میں دکھائی دیتی ہے۔ موہنجوداڑواور ہڑپہ آریاؤں کے آنے سے صدیوں پہلے شہرت حاصل کر چکے تھے ۔ سندھ اور پنجاب کا تمدن مصر اور عراق کے ہم عصر تمدن سے کسی طرح پیچھے نہیں تھا۔ ان شہروں کے لوگ سوتی کپڑا بننا جانتے تھے۔ گھروں میں غسل خانے تھے۔ شہریوں کے مکان بہت بلند اور صاف ہوتے تھے۔ ان کا مذہب مصریوں اور سومیریوں سے ملتا جلتا تھا۔ 
  آریا تقریبا  1500 قبل از مسیح یعنی حضرت عیس علیہ السلام سے 1500 سال پہلے  شمالی ہند کی راہ سے  ہندوستان میں داخل ہوے۔ سوم رس پینے والے جو ایک قسم کی شراب تھی جس کے پینے سے آنکھیں چمکدار ہو جاتی تھیں۔   آریا وسط اایشیا  سے ہندوستان میں پیدل ننگے پاوں چل کر آئے ۔ گورا رنگ ساتواں ناک دراز قد جو وسط ایشیا سے ہندوستان کی زرخیزی دیکھ کر وارد ہوے۔  گھوڑے کا گوشت کھانے والے اور گھوڑی کا دودھ پینے والے آریا جفا کش دلیر اور بہادر  تھے۔
  قدیم ہند( بر صغیر)کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ برصغیر کے قدیم باشندے چھوٹے قد کے اور سیاہی مائل رنگت کے تھے۔ وسطی ایشیا سے آریا اور راجپوت قبائل ان پر حملہ آور ہوئے اور ان کے مقابلے میں فتح سے ہمکنار ہوئے۔
          اس کے بعد انہوں نے تمام مقامی باشندوں کو مذہبی جبر و تشدد کے ذریعے اپنے مذہب کو اپنانے پر مجبو رکیا اور اس کے ساتھ ہی ذات پات کا نظام رائج کیا۔
  آریاؤں کی آمد کے ساتھ ساتھ یا ان سے پہلے شمالی مشرقی ہندوستان برما بنگال  آسام کے درّوں سے منگولی قومیں بھی ہندوستان میں دا۔خل ہوتی رہیں۔ آریا شمال مغربی ہندوستان کی راہ سے داخل ہوئے۔ شمالی ہندوستان میں وہ صدیوں تک دراوڑوں سے لڑنے کے بعد پنجاب پر قابض ہوئے۔ پنجاب سے وہ گنگا کی وادی میں پہنچے۔ جہاں آریاؤں کی سیاست اور تہذیب اپنے عروج پر پہنچی۔ مگدھ میں ایک عظیم الشان آریہ سلطنت کی بنیاد پڑی۔ مگدھ کی سلطنت کے زمانہ میں گوتم بدھ کا ظہور ہوا۔  گوتم بدھ ہمالیائی ریاست کپل وستو میں پیدا ہوے ۔بدھ نے اپنے زمانہ کی تمام مجلسی برائیوں کے خلاف بغاوت کی۔ اس کا مذہب عوام کی زبان میں عوام کے لئے تھا۔ 
گوتم بدھ کی تعلیمات میں سے ایک بات میٹرک 1965 کی تاریخ میں لکھی ایک بات یاد ہے۔
🌹دنیا دکھوں کا گھر ہے ۔ دکھ خواہشات سے پیدا ہوتے ہیں🌹
ایران کے بادشاہ سارا  نے سندھ اور پنجاب کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ سکندر نے بھی 336 قبل از مسیح میں ہندوستان کا رخ کیا۔ پورس نے اس کا مقابلہ کیا۔  سکندر دل چھوڑ کر یونانی فوجیں جہلم اور بیاس کے کناروں سے واپس ہوئیں۔ پاٹلی پترافتح کرنے کی ہوس لے کر سکندر کو واپس جانا پڑا۔ یونانی تہذیب نے شمالی ہندوستان کو متاثر کیا۔ سکندر کے جانے کے بعد پنجاب سے چند رگپت موریا اُٹھا۔ اس کے وزیر چانکیہ کی ’’ارتھ شاستر‘‘ نظم ونسق حکومت پر غالباً پہلی کتاب ہے۔ موریا خاندان کے شہنشاہ اشوک کا عہد حکومت رفاہ عامہ کے کاموں سے بھرا پڑا ہے۔ موریا سلطنت کی تباہی کے بعد پانچ سوسال تک ہندوستان میں کوئی مرکزی حکومت دکھائی نہیں دیتی۔ اس زمانہ میں ساکا او یوچی قوموں نے ہندوستان پردھاوا بولا۔ساکا قوم کا سب سے مشہور بادشاہ کنشک تھا۔ اسی زمانہ میں بدھ مت اور برہمن مت میں کشمکش ہوئی۔ پُران بھی اسی زمانہ کی یادگار ہے۔چوتھی صدی عیسوی میں گپت سلطنت قائم ہوئی۔ اب پاٹلی پترا کی جگہ اجین کو ہندوستان کی مرکزیت حاصل ہوئی۔ یہ زمانہ برہمن مت کے انتہائی عروج کا زمانہ ہے۔ بکر ما جیت اسی خاندان کا ایک حکمران تھا۔ گپت خاندان کے عہد حکومت میں ہندوستانی علوم وفنون اور صنعت وحرفت نے خوب ترقی کی ۔ ہندوستان اور روم میں تجارتی تعلقات قائم ہوئے۔ جنوبی ہندوستان کے لوگوں نے جاوا اور سماٹرا میں اپنی نوآبادیاں قائم کیں۔ گپت خاندان کے زوال کے بعد ہندوستان پھر بیرونی حملہ آوروں کا شکار ہوا۔ اب کےسفید ہن قوم نے شمالی ہندوستان کو تخت وتاراج کیا ٹیکسلا کو تبای برباد کیا آج بھی کھنڈرات موجود ہیں ۔ جاٹ اور گوجر اسی قوم کے مشہور قبائل تھے۔ مہر گل ہن قوم کا مشہور بادشاہ تھا۔ وہ ہاتھیوں کوپہاڑوں سے گرا کر ان کے مرنے کا تماشا کرتا اور خوش ہوتا۔ ساتویں صدی میں ہرش وردھن نے ہندوستان کو متحد کرنے کی کوشش کی۔ اس کے نظم ونسق کو ہیون سانگ ہم تک پہنچاتا ہے۔ ہرش وردھن اگر چہ بدھ مت کا پیرو کار  تھا لیکن اس کے عہد میں شمالی ہندوستان میں برہمن مت نے زور پکڑ لیا تھا۔ لگ بھگ 600 عیسوی ہرش وردھن کی موت کے بعد ہندوستان کی مرکزیت ختم ہو گئی۔۔ اسلام اس وقت عرب کے صحراؤں میں پھل پھول رہا تھا۔ 
712 عیسوی میں محمد بن قاسم  دیبل کے راستے غالبا کراچی کی طرف سے سندھ میں داخل ہوا ۔ راجہ داہر کو شکست دی اور ملتان تک پہنچا ۔ لیکن کوئی اسلامی ریاست  نہیں بنائی لیکن سندھ کے لوگوں پر کافی اثر چھوڑا۔ سندھ کے لوگوں نے محمد بن قاسم کی مورتیاں بنا لیں۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی اکثریت ان افراد پر مشتمل ہے جنہوں نے ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام کو اختیار کیا۔ 
اسکے بعد افغان اور غزنی سے محمود غزنوی نے ہندوستان پر سترہ حملے کئے۔ 
اسکے بعد محمد غوری نے لاہور کے راجہ جے پال کو شکست دے کر نئی سلطنت کی بنیاد ڈالی اور اپنے ایک غلام قطب الدین ایبک کو اس کا سربراہ بنایا۔ یہ پہلی اسلامی ریاست تھی جو خاندان غلاماں کے نام سے مشہور ہوئی ۔ التمش۔ رضیہ سلطانہ اور غیاث الدین بلبن ۔مشہور  باد شاہ تھے۔ 
التمش اور رضیہ سلطانہ کو خلجیوں نے فتح کیا۔ علاؤالدین خلیجی مشہور بادشاہ  تھا۔ خلجیوں کو خاندان تغلق نے فتح کیا  جونا خان محمد بن تغلق اور فیروز شاہ تغلق مشہور بادشاہ تھے۔
۔ جونا خان محمد بن تغلق کے زمانے میں مشہور سیاح ابن بطوطہ ہندوستان آیا۔ اور بہت معلومات اپنے سفر نامے میں لکھیں۔ فیروز تغلق اور غیاث الدین تغلو مشہور بادشاہ تھے 
محمود شاہ تغلق کمزور بادشاہ تھا۔  امیر تیمور کے حملے نے  تغلق خاندان کے وقت کو خاک میں ملا دیا  دہلی کو تیمور لنگ نے تہس نہس کیا۔ اور دہلی میں خون کی ندیاں بہادیں۔ کھوپڑیوں کے مینار بنائے۔ امیر تیمور نے کوئی مستقل حکومت نہیں بنائی لوٹ مار کر کے چلا گیا۔ اور خضر خان نے خاندان سادات کی بنیاد ڈالی۔ سید خاندان کی کمزوری دیکھ کر بہلول لودھی نے دلی پر قبضہ کیا اور لودھی خاندان کی بنیاد ڈالی۔ سکندر لودھی اس خاندان کا مشہور بادشاہ تھا۔ سکندر لودھی نے آگرہ شہر آباد کیا اور آگرہ کو دارلحکومت بنایا ۔  سکندر لودھی کے بعد ایک کمزور حکمران ابراہیم لودھی بادشاہ بنا۔ جس کو بابر نے  پانی پت کے میدان میں شکست دے کر مغلیہ سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ 
بابر وسط ایشیا کی ریاست فرغانہ کے امیر عمر شیخ میرزا کا بیٹا تھا۔ والد کی وفات کے وقت بابر کی عمر بارہ سال تھی۔ بھائیوں اور چچا کی مخالفت کی وجہ سے فرغانہ کو چھوڑ کر در بدر پھرتا رہا۔ پتھریلے پہاڑوں پر  ننگے پاوں چلتے ہوے اس کے پاوں اتنے سخت ہو گئے کہ کانٹا چبھتے کا احساس بھی نہیں ہوتا تھا۔ اس نے بارہ ہزار فوج اکٹھی کی اور کابل پر قبضہ کیا ۔ ہندوستان کی زرخیزی  اور دولت دیکھ کر اس نے بارہ ہزار فوج سے ہندوستان پر حملہ کر دیا ۔1526 عیسوی میں پانی پت کے میدان میں ابراہیم لودھی کی ایک لاکھ فوج کو شکست دی اور مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی۔ رانا سانگا کو شکست دی اور اپنی سلطنت کو مظبوط کیا۔ بابر اتنا جفاکش تھا کہ دو آدمیوں کو اٹھا کر قلعے کی دیوار پر دوڑ لگاتا تھا۔  

بابر بڑا مردم شناس تھا۔  ایک دفعہ بابر نے تمام حکومتی امرا؞ کو دعوت دی ۔  دعوت میں شیرشاہ سوری بھی امرا؞ میں شامل تھا ۔ شیرشاہ سوری نے بابر کے سامنے پڑا گوشت کا ٹکڑا اپنا خنجر نکال کر کاٹ کر کھانے لگا۔  دعوت ختم ہونے پر بابر نے اپنے ولی عہد ہمایوں کو تنبیہ کی کہ اس شخص شیرشاہ سوری سے بچ کر رہنا۔ 
پھر ہمایوں کو شیر شاہ سوری نے شکست دی۔ ہمایوں ایران بھاگ گیا۔  جب شیر شاہ کے جانشین کمزور ہوے تو ایرانی بادشاہ کی مدد سے دوبارہ  سوری حکمران پر حملہ  کیا اور اسکو شکست دے کر بادشاہ بنا۔ لیکن پانچ سال کے بعد فوت ہوا۔ 
ہمایوں کے بیٹے اکبر کی عمر بارہ سال تھی۔ اس کے استاد بیرم خان نے جلال الدین اکبر کے نام سے اکبر کو تخت پر بٹھایا اور خود اس کا سرپرست بن گیا۔
اکبر نے پچاس سال حکومت کی دیں الہی کے نام سے ایک نیا دین جاری کیا۔ ہندو عورتوں سے شادی کی جہانگیر ایک ہندو عورت کے بطن سے پیدا ہوا۔ 
اکبر کے بعد جہانگیر تخت پر بیٹھا ۔ تزک جہانگیری میں زنجیر عدل کا ذکر ملتا ہے۔  اسکے بعد شاہ جہاں بادشاہ بنا ۔ شاہ جہاں کو عمارتیں بنانے کا شوق تھا اس کو  انجینیر بادشاہ بھی کہتے ہیں ۔ تاج محل۔ شالیمار باغ اور ٹھٹھہ کی مسجد شاہ جہاں قابل ذکر ہیں۔  شاہ جہان بیمار ہوا تو اس نے بڑے بیٹے داعا شکوہ کو ولی عہد بنایا۔ اورنگزیب عالمگیر دکن میں مرہٹوں سے لڑ رہا ٹھا ۔ اس کو پتہ چلا تو تخت نشیمی کی جنگ چھڑی۔ جس میں اورنگ زیب فتح یاب ہوا۔ شاہجہاں کو قید کرکے بھائیوں کو شکست دی اور تخت پر بیٹھ گیا ۔ اس نے بھی پچاس سال حکومت کی ۔ لاہور کی بادشاہی مسجد اورنگزیب عالمگیر نے بنائی۔ اس کی وفات کے بیڈ جانشین کمزور ہوتے گئے تیمور اور مغل خون میں ملاوٹ کی وجہ سے سست ہو گئے۔ جس نی محمد شاہ رنگیلا جیسے بادشاہ پیدا کیے۔ نادر شاہ نے بھی دلی پر حملہ کیا خوب دولت لوٹی ۔ مشہور کوہ نور ہیرا اور تخت طاؤس بھی ساتھ لے گیا۔ 

ہنوستان  جس کی دولت کے افسانے سکندر کے زمانے سے یورپ جا رہے تھے۔
واسکوڈے گاما ایک عرب ملاح کی مدد سے راس امید  جنوبی افریقہ کا چکر کاٹتا ہوا ہندوستان (برصغیر)کے ساحلی مقام کالی کٹ پر پہنچا۔ ہندوستان کے لوگوںنے اپنی روایتی مہمان نوازی کے پیش نظر اس نوو ار د کا استقبال کیا۔کالی کٹ کے راجہ زیمورن کو کیا خبر تھی کہ بدو کے افسانوی اُشتر کی طرح پرتگیز بھی اسے خیمہ سے باہر نکالنے کی فکر میں ہیں۔ پرتگیزوں نے کالی کٹ میں ایک فیکٹری قائم کی۔ تین سال بعد کالی کٹ کے سینہ پر ایک پرتگیزی قلعہ نظر آیا۔ تھوڑی مدت بعد پرتگیزی عَلم گواکی دیواروں پر لہرایا۔ کالی کٹ کے لزبنی مہمانوں نے زیمورن کے شاہی محلات کو نذر آتش کرنے سے گریز نہ کیا۔ میز بان کی خدمت میں مہمان کا ہدیہ تشکر! پرتگیزی آخر اس ملک کے ساحل پر پہنچ گئے۔
1492 عیسوی میں کولنبس ہندوستان ڈھونڈتا ہوا امریکہ جا نکلا اور نیا بر اعظم امریکہ دریافت ہوا۔ 
اسٹریلیا بھی ایک جہاز ڈان جیمز کک نے دنیا کے گرد چکر پورا کرتے ہوے ڈھونڈ نکالا۔ 
انگریز بھی تجارت کی غرض سے ہندوستان آئے ۔  مغل بادشاہ جہانگیر کو کچھ تحفے تحائف دیے اور تجارت کی اجازت مانگی۔ اجازت ملنے کے کچھ عرصے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کلکتہ میں قائم کی ۔ اور بڑھتے بڑھتے اسی ایسٹ انڈیا کمپنی نے مغلیہ سلطنت  کو کھوکھلی کرنا شروع کر دیا۔ بالآخر 1858 کی جنگ آزادی میں مغلیہ سلطنت کے آخری چشم و چراغ بہادر شاہ ظفر کو جلا وطن کر کے رنگوں بھیج دیا۔ اور وہاں ہی وہ فوت ہو گیا۔ اور انگریز پورے ہندوستان کے مالک بن گئے۔   14اگست 1947 کو آزادی ملی۔ 🌹
🌹تاریخ میں بہت سے حملہ آور آتے رہے اور کچھ لاتے رہے۔ اور کچھ لے کر جاتے رہے ۔ 
آج سے تین ہزار سال پہلے جو لوگ موجود تھے اب ان کی نسلوں میں بہت ملاوٹ ہو گئی ہے۔ جو بھی آیا اپنا نشان چھوڑ گیا۔ خالص کوئی نہیں ۔ اسی طرح راجپوت بھی خالص نہیں رہے ۔ سارے حملہ آور اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ 
مغل بھی خالص نہیں رہے۔ بابر چنگیز اور تیمور کا مکسچر تھا۔ اسکے بعد اکبر اعظم  نے ہندووں سے شادی کی تو جہانگیر تو مکسچر تھا۔ آگے والے اسے بھی زیادہ مکسچر تھے۔ انگریزوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ اور اینگلو انڈین کے نام سے نئی قوم وجود میں آئی۔ 
آج کے بر صغیر میں دیکھیں تو شمال مغرب کے لوگ گورے چٹے اور ساتواں ناک والے ہیں۔ شائد ہی کوئی پٹھان کالے رنگ کا ہو جو کراس نسل ہے۔  جوں جوں آپ جنوب کی طرف جائیں تو لوگ سانولی رنگت کے نظر آئیں گے ۔ گورے چٹے بھی ہیں۔ اور جنوبی ہندوستان میں کالے اور چپٹی ناک والے زیادہ ںظر آئیں گے۔ شائد ہی کوئی گوڑا اور گندمی ہو ۔ جو کراس نسل سے ہو گا۔ بنگال میں زیادہ تر لوگ کالے چپٹی ناک والے ہونگے۔ لیکن کچھ خوبصورت اور گندمی رنگت والے بھی نظر آئیں گے۔ فلمسٹار شبنم اس کی ایک مثال ہے۔ 
کراچی میں بھی کچھ لوگ حبشی نسل کے گھنگریالے بالوں والے ملیں گے جن کو مکرانی کہتے ہیں۔ یوں بر صغیر میں تمام حملہ آوروں اور باہر سے آنے والوں نے اپنا اثر ڈالا۔  
حملہ آور دورہ خیبر کے ذریعے آتے رہے۔ آریا آئے۔ سکندر آیا منگول آئے۔ افغان۔ لودھی سوری۔ مغل جس راستے سے گزرتے گئے اپنا بیج بوتے گئے۔ کون خالص ہے؟۔ جو آدمی جرمنی سے شادی کرے اور بچے پیدا کرے۔ کیا وہ خالص ہے  ؟
اگر کوئی ناروے یا انگلینڈ سے  شادی  کرے ۔ بچے پیدا کرے۔ کیا وہ خالص  ہیں۔؟۔ نہیں مکس ہیں۔ بچے یہاں ایڈجسٹ نہیں ہو  سکتے ۔ہم  سب کراس ہو کر نئی نئی نسلیں نکل رہی ہیں۔ اصلی کوئی نہیں 

صدیاں گزر گئیں ۔ اسلام تو چودہ سو سال پہلے آیا تھا۔ 
لیکن 3000 سال پہلے آریا آئے اور سکندر بھی اسلام سے پہلے آیا  بلکہ حضرت عیس علیہ السلام سے پہلے  بھی کافی حملہ آور  آئے۔ اس وقت نکاح کا کوئی concept نہیں  تھا۔ سب  رل مل  گئے۔ گڈ مڈ ہو گیا۔ کیا خیال ہے۔ 😪 
کراس ہو کر کیا سے  کیا چیز بن رہی ہے ۔ خچر۔ گائے دیسی سے ولائیتی ۔
🌹لال سیب ۔ پیلے سیب۔ کالے سیب ۔۔سفید سیب۔ 
اب شملہ ۔مرچ کو ہی دیکھ لیں۔ سرخ۔ پیلی سبز۔  نیلی۔ جامنوں۔ اسی طرح کراس ہو کر نئی نسلیں  نکل  رہی ہیں۔ امریکہ میں دیکھیں کالے اور گورے  کراس ہو رہے ہیں ہمارے برصغیر شروع سے حملوں کی زد میں رہا۔ سب مکسچر ہیں مغل بابر تو دو قوموں سے تعلق تھا۔ چنگیز اور تیمور اسے آگے چل کر اکبر نے ہندووں سے شادی کی جہانگیر ہندو عورت سے تھا۔ اور آگے جا کر مغل خالص نہیں رہے ۔ اور بادشاہ سست ہو گئے 
محمد شاہ رنگیلا ۔ بہادر شاہ ظفر بابر کی طرح نہیں تھے ۔ ارتقاء اور کیا ہوتا ہے یہی عمل ارتقاء ہے۔ ❤
😪ہمارے آباؤ اجداد  کوئی سعودی عرب سے نہیں آئیے تھے۔ اسلام تو آیا 610 عیسوی میں۔ اور ہمارے پاس دو تین سو سال بعد آیا اسے پہلے لوگ یا بدھ ازم یا ہندو ازم مانتے تھے۔ ابھی بھی ٹیکسلا ۔سوات۔ افغانستان میں مہاتما بدھ کی مورتیاں اور کھنڈرات موجود ہیں۔ ہم ہندوں سے مسلمان ہوے ہیں 🤔
مغل بادشاہ تاج محل قلعے بنواتے۔ اور دال رو ٹی پکتی ۔ اسی روٹی پر گزارا ہوتا۔ فوج میں جو سپاہی لڑتے وہ بھی روٹی دال کی خاطر۔ تنخواہ کا کوئی concept نہیں تھا۔ اور نہ ہی اتوار کی چھٹی۔ 
یہ انگریز دور میں ملزمین کو ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہ ملتی تھی اور ہفتے میں ملازمین کو ایک اتوار کی چھٹی ہوتی۔ 
یہ سب میرے والد صاحب بتاتے تھے۔ کہ پہلے انگریزوں کے دور میں بھی کما کر کھاتے ہیں اور آزادی کے بعد بھی کما کر کھاتے ہیں ۔ اور بزرگوں سے بھی یہی سنا۔

پیر، 4 ستمبر، 2023

معلمی کار پیمبری

معلمی کار پیمبری


استاد علم کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ قوموں کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا رول اہمیت کا حامل ہوتاہے۔تعمیر انسانیت اور علمی ارتقاء میں استاد کے کردار سے کبھی کسی نے انکار نہیں کیا ہے ۔ ابتدائے افرینش سے نظام تعلیم میں استاد کو مرکزی مقام حا صل ہے۔اساتذہ کو نئی نسل کی تعمیر و ترقی،معاشرے کی فلاح و بہبود ،جذبہ انسانیت کی نشوونما اور افرادکی تربیت سازی کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔استاد اپنے شاگردوں کی تربیت میں اس طرح مگن رہتا ہے جیسے ایک باغبان ہر گھڑی اپنے پیڑپودوں کی نگہداشت میں مصروف رہتا ہے۔ تدریس وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ لیکن یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ دنیائے علم نے استاد کی حقیقی قدر و منزلت کو کبھی اس طرح اجاگر نہیں کیا جس طرح اسلام نے انسانوں کو استاد کے بلند مقام و مرتبے سے آگاہ کیا ہے۔ اسلام نے استاد کو بے حد عزت و احترام عطاکیا ۔اللہ رب العزت نے قرآن میں نبی اکرم ﷺ کی شان بحیثیت معلم بیان کی ہے۔خود رسالت مآب ﷺ نے ’’انمابعثت معلما‘‘(مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے ) فرما کر اساتذہ کو رہتی دنیاتک عزت و توقیر کے اعلی منصب پر فائز کردیا ہے ۔ اسلام میں استاد کا مقام و مرتبہ بہت ہی اعلی و ارفع ہے۔ استاد کو معلم و مربی ہونے کی وجہ سے اسلام نے روحانی باپ کا درجہ عطا کیا ہے۔آپﷺ نے فرمایا’’انماانا لکم بمنزلۃ الوالد،اعلمکم‘‘(میں تمہارے لئے بمنزلہ والد ہوں،تمہیں تعلیم دیتا ہوں)۔ امیر المومنین حضرت عمرؓ سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود آپؓ کے دل میں کوئی حسرت باقی ہے ۔آپؓ نے فرمایا’’کاش میں ایک معلم ہوتا۔‘‘ استاد کی ذات بنی نوع انسان کے لئے بیشک عظیم اور محسن ہے۔باب العلم خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کا قول استاد کی عظمت کی غمازی کرتا ہے۔’’جس نے مجھے ایک حرف بھی بتا یا میں اس کا غلام ہوں۔ وہ چاہے تو مجھے بیچے ،آزاد کرے یا غلام بنائے رکھے۔‘‘شاعر مشرق مفکر اسلام علامہ اقبال ؒ معلم کی عظمت یو ں بیان کرتے ہیں۔’’استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بناناانہیں کے سپرد ہے۔سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے معلموں کی کارگزاری ہے۔معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی ،تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سرچشمہ اس کی محنت ہے۔‘‘ معاشرے میں جہاں ایک ماں کی آغوش کو بچے کی پہلی درس گاہ قرار دینے کے ساتھ ایک مثالی ماں کو ایک ہزار اساتذہ پر فوقیت دی گئی ہے وہیں ایک استاد کو اپنی ذات میں ساری کائنات کو بچے کے لئے ایک درس گاہ بنانے کی طاقت رکھنے کی وجہ سے روحانی والد کا درجہ دیا گیا ہے۔باپ بچے کو جہاں اپنی انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتا ہے وہیں استاد بچے کو زندگی میں ہمیشہ آگے بڑھنے کی تلقین کرتا ہے۔سکندر اعظم سے کسی نے پوچھا کہ وہ کیوں اپنے استاد کی اس درجہ تعظیم کرتا ہے۔سکندر اعظم نے کہا کہ اس کے والدین اسے آسمانوں سے زمین پر لے آئے ہیں جب کہ استاد اس کو زمین سے آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔بطلیموس استا دکی شان یوں بیان کرتاہے ’’استاد سے ایک گھنٹہ گفتگو دس برس کے مطالعے سے مفید ہے۔‘‘
تدریس کا دگر شعبہ جات زندگی سے تعلق؛ زندگی کے تمام پیشے پیشہ تدریس کی کوکھ سے ہی جنم لیتے ہیں۔زندگی کا کوئی بھی شعبہ خواہ عدلیہ ،فوج،سیاست ،بیوروکریسی ،صحت ،ثقافت،تعلیم ہو یا صحافت یہ تمام ایک استاد کی صلاحیتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر مذکورہ شعبہ جات میں عدل ،توازن اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے تو یہ صالح اساتذہ کی تعلیمات کا پرتو ہے اور اگر اساتذہ کی تعلیمات میں کہیں کوئی نقص اور کوئی عنصر خلاف شرافت و انسانیت آجائے تب وہ معاشرہ رشوت خوری ،بدامنی اور نیراج کی منہ بولتی تصویر بن جاتا ہے۔ استاد کو ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں کلیدی کردار کی انجام دہی کی وجہ سے ہی معمار قوم کا خطاب عطا کیا گیا ہے۔ استاد معاشرے کی عمدہ اقدار کا امین و نگہبان ہونے کے ساتھ ساتھ ان اقدار کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کا ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ اساتذہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں اگر ذرہ برابر بھی چوک جائیں تب معاشرہ کی بنیادیں اکھڑ جاتی ہیں اور معاشرہ حیوانیت نفس پرستی اور مفاد پرستی کی تصویر بن کر جہنم کا نمونہ پیش کرتا ہے۔تعلیم انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کر تی ہے اور انسان کو معاشرے کا ایک فعال اور اہم جزو بننے میں مدد فراہم کرتی ہے۔استاد کو افراد سازی کے فرائض کی ادائیگی کے سبب معاشرے میں اسے اس کا جائزہ مقام فراہم کیا جانا ضروری ہے۔معاشرتی خدمات کی ادائیگی کے سبب معاشرہ نہ صرف استادکو اعلیٰ اور نمایا ں مقام فراہم کرے بلکہ اس کے ادب اور احترام کو بھی ہر دم ملحوظ خاطر رکھے۔ہر معاشرے اور مذہب میں استاد کو ملنے والی اہمیت اساتذہ سے خود کو ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کرنے کا تقاضہ کرتی ہے۔امام اعظم ابوحنیفہؒ سے ان کی عزیز شاگرد حضرت امام یوسف ؒ نے پوچھا کہ ’’ استاد کیسا ہوتا ہے؟‘‘۔ آپ ؒ نے فرمایا ’’استاد جب بچوں کو پڑھا رہا ہوتو غور سے دیکھو ،اگر ایسے پڑھا رہا ہو جیسے اپنے بچوں کو پڑھاتا ہے تو استاد ہے اگر لوگوں کے بچے سمجھ کر پڑھا رہا ہے تو استاد نہیں ہے۔‘‘امام اعظم ؒ کے اس قول کی روشنی میں اگر اساتذہ کو پرکھا جائے تو معاشرے میں مادیت پرستی کا غلبہ ہمیں واضح نظر آئے گا۔استاد معاشرے میں اخلاقی اقدار کو فروغ دینے والا ہوتا ہے لیکن صد افسوس کہ آج یہ پیشہ( چنداستشنات کے)اپنی عظمت اور وقار کو تقریبا کھو چکا ہے۔پیشہ تدریس آج صرف ایک جاب(نوکری)،اسکیل(تنخواہ) اور ترقی کی حد تک محدود ہوچکا ہے۔استاد اور شاگرد کامقدس رشتہ کہیں کھو گیا ہے۔ تاریخ عالم شاہد ہے کہ اس قوم کو عروج اور ترقی نصیب ہوئی جس نے اپنے اساتذہ کی قدر و منزلت کی۔ مشہور پاکستانی ادیب ،دانشور ماہر تعلیم جناب اشفاق احمد صاحب مرحوم جب اٹلی میں اپنی تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے تب ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کی پاداش میں ان کا چالان کیا گیا ۔اپنی مصروفیت کی وجہ سے جب انھوں نے چالان ادانہ کیا تب ان کو چالان کی عدم ادائیگی اور عدم حاضری کے سبب عدالت میں پیش کیا گیا ۔جج نے چالان کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ دریافت کی تو اشفاق احمد نے بتایا کہ وہ ایک ٹیچر ہیں اور اپنی تدریسی سرگرمیوں کی وجہ سے چالان کی بروقت ادائیگی سے قاصر رہے۔ جج کو جب پتہ چلا کہ وہ ایک ٹیچر ہیں تب وہ اپنی کرسی سے احتراما کھڑا ہو گیا اور حیرت و استعجاب سے کہنے لگا “A teacher in the Court( ایک استاد عدالت میں) ، یہکہتے ہوئے ان کا چالان معاف کردیا۔ اٹلی میں بھی ہمارے وطن عزیز کی طرح اساتذہ کی تنخواہیں دلکش نہیں ہیں لیکن وہاں آج بھی تمام رتبے جج،بیوروکریٹس،تجار،پولیس،سیاستدان وغیرہ سب استاد کے پیچھے یو ں چلتے ہیں جیسے ماضی میں غلام اپنے آقاؤ ں کے پیچھے چلتے تھے۔ استاد کی یہی تعظیم مغربی معاشر ے کی عروج کی داستان ہے۔ وہیں مشرقی معاشرے جو اساتذہ کے ادب و احترام کی بنا بام عروج پر تھے اساتذہ کے ادب و احترام کے اعراض کے سبب تنز ل کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔استاد کا مقام مادیت پرستی اور ماہانہ مشاہیرہ سے بالاہے۔اس سے یہ مراد ہر گز نہ لی جائے کہ اساتذہ کی اپنی ضروریا ت نہیں ہوتی ہیں۔اساتذہ کے ہاتھوں میں معاشرے کے بناؤ اور بگاڑ کی کلید ہونے کی وجہ سے ان کا مقام نمایا ں و بلند ہوتا ہے۔معاشرہ استاد کو ایسے نمایا ں مقام پر فائز کرتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کرتا ہے کہ وہ دنیا کے باقی شعبوں کی طرح اپنے ہاتھ منفعت اور مراعات کی لالچ میں آلودہ نہ کریں ۔
استا د کی ذمہ داریاں؛ استاد نسل نو کی تربیت کا اہم کام انجام دیتا ہے ۔ہر قوم و مذہب میں استاد کو اس کے پیشے کی عظمت کی وجہ سے اہمیت حاصل ہے۔استاد طلبا کو نہ صرف مختلف علوم و فنون کا علم دیتاہے بلکہ اپنے ذاتی کردار کے ذریعہ ان کی تربیت کا کام بھی انجام دیتا ہے۔معاشرے کی زمام کار سنبھالنے والے افراد خواہ وہ کسی بھی شعبے اور پیشے سے وابستہ ہوں اپنے استاد کی تربیت کے عکاس ہوتے ہیں۔استاد کا اہم اور بنیادی فریضہ انسان سازی ہوتا ہے۔اگرچیکہ اس کام میں نصاب تعلیم اور تعلیمی اداروں کے اثرات بھی شامل ہوتے ہیں لیکن یہ ایک نا قابل تردید حقیقت ہے کہ پورے تعلیمی نظام کا مرکز و محور ایک استاد ہی ہوتا ہے۔نصاب تعلیم جو بھی لیکن استاد اسے جس طرح چاہے پڑھا سکتا ہے۔ایک مسلمان معلم پر عام اساتذہ سے دوگنی ذمہ داری عائد ہوتی ہے چونکہ وہ پہلے تو ایک مسلمان ہے اوردوسرا ایک مدرس بھی۔فلسفہ اسلام کی رو سے استاد ایک مربی ،مزکی ،رہنما و رہبر ہوتاہے۔ جو نہ صرف نسل نو کی تربیت کرتا ہے بلکہ نسل نو کو اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی تعلیمی نظریا ت سے وابستہ بھی کرتا ہے۔ کیونکہ نظریہ کے بغیر کوئی بھی قوم حمیت سے عاری بے تربیت افراد کا مجموعہ بن جاتی ہے۔ مسلم معلمین کے لئے نبی اکرم ﷺ کی سخت وعید ہے ’’جو کوئی بھی مسلمانوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنا پھر ان کے لئے ایسی خیر خواہی اور کوشش نہ کی جتنی وہ اپنی ذات کے لئے کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کو منہ کے بل جہنم میں ڈال دیں گے۔‘‘ اس فرمان نبوی ﷺ کی روشنی میں اگر مسلم اساتذہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ذرہ بھر بھی کوتاہی برتیں گے تو روز قیامت ان کا سخت مواخذہ کیا جائے گا۔ روز قیامت عدم ساز گار حالات ،مادی وسائل کی کمی،والدین اور طلباء کی عدم توجہی و دیگر عذر مسلم اساتذہ کے لئے کسی کام نہیں آئیں گے۔اساتذہ اپنی اہمیت اور ذمہ دار ی کو محسوس کریں خاص طور پر مسلم اساتذہ اپنے مقام کو پہچانے کہ اول تو وہ مسلمان ہیں اور پھر ا سلامی طرز معاشرت اوردین فطرت کے نفاذ کے لئے نئی نسل کو تیار کرنے والے معلم، استاد مربی او ر رہبر ہیں۔ نامساعد حالات میں بھی مسلم اساتذہ کا منشاء و مقصد نسل نو کی اسلامی تعلیم و تربیت ہوتا ہے۔پیشہ تدریس سے وابستہ افراد کے لئے چار عملی میدان ہوتے ہیں (1) تعمیر ذات (2) اپنے علم میں مسلسل اضافہ (3) طلباء کی شخصیت و کردار سازی اور (4) تعلیم گاہ اور استاد۔

تعمیر ذات:نئی نسل کی تعمیر کا کام انجام دینے والے استاد کے لئے سب سے پہلے اپنی ذات کی تعمیر ضروری ہوتی ہے۔طلباء کے لئے استاد کی ذات افکار و اقدار کا اعلی معیار ہوتی ہے۔اساتذہ اپنی شخصیت کی تعمیر میں نبی اکرم ﷺ کی ذات کو پیش نظر رکھیں۔ہر انسان کے لئے نبی اکرم ﷺ کی ذات پاک بہترین نمونہ ہے۔آپ ﷺ معلم اعظم ہیں اسی لئے اساتذہ اپنے پیشے سے انصاف کرنے کے علاوہ درس و تدریس میں اثر و تاثیر پیدا کرنے کے لئے آپﷺ کے اسوہ حسنہ کی لازمی پیروی کریں۔ایک معلم کا قلب جب رب حقیقی کی عظمت و کبریائی سے معمور ہوگا ،احکام خداوندی کا پابند اور سنت نبویﷺ پر عامل ہوگا تب اس کا درس شاگردوں کے لئے باران رحمت اور زندگی کی نوید بن جائے گا۔معلم کا خوش اخلاق ،نرم خو،خوش گفتار،ملنسار،ہمدرد،رحمدل،غمگسار و مونس اور مدد گار ہونابہت ضروری ہوتا ہے۔استاددرس و تدریس کو صرف حصول معاش کا ذریعہ نہ سمجھے بلکہ اس کو رضائے الہی کا ایک ذریعہ مانے۔اسلامی نقطہ نظر سے حصول علم کا مقصد خو دآگہی اور خدا آگہی ہے ہمیشہ یہ نظریہ اساتذہ کے ذہنوں میں پیوست رہے۔۔علوم کی ترویج و تدریس کو ذریعہ معاش نہ سمجھیں بلکہ علو مکی تدریس، ترویج و اشاعت کو اخلاق کی بلندی اور کردار کی تعمیر کے لئے استعمال کریں۔ایک حقیقی استاد اسلاف سے حاصل شدہ علوم(نظریات،تہذیب،عقائد،افکار،عادات ،رجحانات،اور خصائل) کو بالکل اسی طر ح بغیر کسی کم و کاست اگلی نسلوں کو صحت و عمدگی سے منتقل کر ے۔استاد کمرۂ جماعت یا مدرسہ کی چار دیواری تک ہی استاد نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ ہر پل اپنی رفتار،گفتار،کردار غرض ہر بات میں معلم ہوتا ہے۔معلم کی ہر بات و حرکت طلبا پر اثر انداز ہوتی ہے۔طلباء صرف استاد سے کتاب یا اسباق ہی نہیں پڑھتے ہیں بلکہ وہ استاد کی ذات وہ شخصیت کا بھی مطالعہ کرتے ہیں۔استاد مدرسہ ،کھیل کا میدان، گھر اور بازار ہر جگہ طلباء کے لئے ایک زندہ نمونہ ہوتا ہے۔طلباء کو فسق و فجور سے منع کرنے والا استاد اگر خود ان افعال میں ملوث ہو تب اس کے اعمال خود فسق و فجور کی طلباء کو خاموش تعلیم دیتے ہیں۔ایک بے صبر اور بدمزاج استاد اگر صبر و تحمل کی تعلیم دے تب اس کاعمل طلباء کوچڑچڑے پن اور عدم تحمل کی طرف مائل کرتا ہے۔ایک عظیم استاد اپنی شخصیت کو نہ صرف نکھار تا ہے بلکہ اپنی شخصیت کے ذریعہ معاشرے کوبہتر ین انسان فراہم کرتا ہے۔ایک استاد کوصبر و تحمل ،معاملہ فہمی،قوت فیصلہ،طلبہ سے فکری لگاؤ،خوش کلامی اور موثر اندازبیان جیسی اوصاف سے متصف ہونا چاہیے۔ایک استاد کی شخصیت اور بھی دلکش ہوجاتی ہے جب وہ اخلاص ،لگن ،ہمدردی ،دلسوزی اور اصلاح کے جذبے سے نظم و ضبط قائم کرے (2)علم میں مسلسل اضافے کی جستجو؛ انگریزی کا معروف قول ہے کہ “Teaching is nothing but learning”یہ بالکل حقیقت ہے کہ تدریس کے ذریعہ کئی تعلیمی راز عیا ں ہوتے ہیں اور تدریس ہر پل اساتذہ کے علم میں اضافہ کا باعث ہوتی ہے ۔اس کے باوجود اساتذہ بہتر تدریسی خدمات کی انجام دہی کے لئے جدید معلومات کے حصول کو یقینی بنائیں تاکہ درس و تدریس کے دوران کسی خفت اور تحقیر سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں۔اپنے علم میں اضافے کے ذریعہ اساتذہ نہ صرف اپنی شخصیت کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ اپنی تدریس کو بھی بااثر بنانے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔عربی کا مقولہ ہے کہ ’’علم حاصل کرو گود سے گور تک ‘‘اساتذہ کو اس قول پر ہمیشہ کار بند رہنا چاہیئے۔استاد میں علمی لیاقت ،تدریسی صلاحیتوں کے ساتھ بچوں کی نفسیات اور طریق تعلیم سے واقفیت بے حد ضروری ہے۔(3) طلباء کی کردار و شخصیت سازی؛تعلیم میں کیرئیر سازی کے رجحان نے طلباء کو علم کے عین مقصد سے دور کردیا ہے۔طلباء کی کردار سازی میں اور شخصیت کے ارتقاء میں معلم کا بہت بڑا دخل ہوتاہے۔ایک اچھا استاد اپنے شاگردوں کی کردار سازی کے لئے ہمہ وقت فکر مند رہتا ہے۔اپنے طلباء کے دلوں سے کدورتوں،آلودگیوں اور تمام آلائشوں کو دور کرتے ہوئے اس کو ایمان ،خوف خدا ،اتباع سنت اور آخرت کی جواب دہی کے احساس سے معمور کرتا ہے۔طلباء کی کرداری سازی کے لئے خود بھی تقوی و پرہیز گاری کو اختیار کرتا ہے اور اپنے شاگردوں کو بھی اس پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتا ہے۔ایک اچھا معلم اپنے شاگردوں میں مقصد سے لگن و دلچسپی پیدا کرتا ہیطلباء کوبیکار و لایعنی مشاغل سے دور رکھتا ہے۔دنیا سے بے نیازی اور مادہ پرستی سے اجتناب کی تلقین کرتا ہے۔اپنے شاگردوں کو محنت اور جستجو کا عادی بناتا ہے۔کاہلی سستی اور تضیع اوقات سے طلباء کو باز رکھتا ہے۔(4) تعلیم گاہ اور استاد؛آج اسکول ،کالجس ،یونیورسٹیز تعلیم کی اصل غرض و غایت سے انحراف کرتے ہوئے مادہ پرستی کے فروغ میں پیش پیش نظر آرہے ہیں۔یہ ادارے ڈاکٹر ،انجینئر ،سائنسدان ،سیاست دان،پروفیسر،ٹیچرز،اور فلاسفرز بنانے میں تو کامیابی حاصل کر رہے ہیں لیکن ایک آدمی کو انسان بنانے میں (جو کہ تعلیم کا اہم مقصد ہے ) ناکام ہورہے ہیں۔تعلیمی ادارے انسان سازی کے کار حمیدہ سے آج عاری نظر آرہے ہیں اساتذہ کی ان حالات میں ذمہ دار اور بڑھ جاتی ہے کہ وہ طریقہ تعلیم اور نظام تعلیم میں تبدیلی کی سعی و کوشش کریں ۔مادہ پرست نصاب تعلیم و تعلیمی اداراجات میں دانشوری سے تدریس افعال کو انجام دیں تاکہ طلباء میں دہریت اور مادہ پرستی جیسے جذبات سر نہ اٹھا سکیں۔ اپنے عمل و کردار سے تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کو مثبت تعلیمی نظام کی طرف راغب کریں۔بنر مندی کے ساتھ دیانت داری اور امانت پسندی کا ایک اعلی نمونہ قائم کریں۔تعلیم ادارہ جات سے دھوکے باز سیاست دانو ں کے بجائے باکردار و امانت دار سیاست دان پیدا کریں۔ایسے انجینئر اور ڈاکٹر تیار کریں جو لوگو ں کے علاج کو نہ صرف اپنا ذریعہ معاش بنائیں بلکہ اس خدمت کو عباد ت کے درجہ تک پہنچادیں۔اساتذہ اپنے شاگردوں کی اس طرح تربیت کر یں کہ وہ اپنے پیشوں میں مہارت پیدا کرنے کے ساتھ انسان بھی باقی رہیں۔اساتذہ تعلیمی ادارجات اور نصاب تعلیم کو بلند مقصد حیات اور فکر سازی کے رجحان سے آراستہ کریں
اساتذہ سے معاشرے کے تقاضے:نوجوان نسل کی کوتاہیاں اپنی جگہ ،والدین کا تغافل نصاب تعلیم اور تعلیمی اداروں کی خامیاں بھی اپنی جگہ مگرکار پیغمبری سے وابستہ ہونے کی وجہ سے اور قوم و ملت کے ایک ذمہ دار منصب پر فائز ہونے کی بناء پر اساتذہ اس بحران کا جائزہ لیں اور خود اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کا تعین کریں ۔اگراساتذہ سینکڑوں مسائل اور اسباب و علل کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف اپنی کوتاہیوں کا تھوڑا سابھی ادارک کر لیں تب یقیناًیہ احساس قوم و ملت کی ترقی کی جانب پہلا قدم ہوگا۔