althafamburi الطاف آمبوری
معلم،ادیب خادم اردو فون 9952391661
جمعہ، 28 نومبر، 2025
تعزیتی پیغام آہ عزیز بلگامی
منگل، 25 نومبر، 2025
احساسِ کمتری
( افسانچہ)
الطاف آمبوری
وہ برسوں آئینے سے نظریں چراتا رہا۔ اسے یوں لگتا تھا جیسے آئینہ اس کی کمزوریاں گناتا ہے جیسے ہر خاکہ، ہر سایہ اس کے وجود کے خلاف گواہی ہے۔
ایک دن اس نے ہمت کرکے خود کو غور سے دیکھا۔ عجیب حقیقت سامنے آئی:
آئینہ کبھی بولتا ہی نہیں
ساری آوازیں اس کے اپنے اندر سے آتی تھیں۔
اسے پہلی بار احساس ہوا کہ دنیا نے نہیں، اس کی اپنی سوچ نے اسے چھوٹا کیا تھا۔ انسان جب خود کو کمتر سمجھ لے تو پوری کائنات بھی اسے بلند نہیں کرسکتی؛ اور جب وہ خود کو پہچان لے تو دنیا کی کوئی ٹھوکر اسے گرا نہیں سکتی۔
اس نے آئینے پر ہاتھ پھیرا اور آہستہ سے کہا:
"میں وہی ہوں، جو خود کو سمجھتا ہوں۔"
اور اس دن کے بعد آئینہ خاموش نہیں لگا
بلکہ دوست سا محسوس ہوا،
کیونکہ آخرکار وہ اپنے دشمن سے آزاد ہوگیا تھا:
اپنی ہی نگاہ سے۔
جمعہ، 21 نومبر، 2025
جب اردو انگریزی میں قید ہو جائے
جب اردو انگریزی میں قید ہو جائے
تحریر: الطاف آمبوری
اردو زبان برصغیر کی تہذیب، ثقافت اور ادبی میراث کی خوبصورت علامت ہے۔ اس کی دلکشی صرف اس کے الفاظ میں نہیں بلکہ اس کے رسم الخط (لکھنے کے انداز) میں بھی پنہاں ہے۔ اردو کا نستعلیق رسم الخط نہ صرف جمالیاتی لحاظ سے حسین ہے بلکہ معنوی گہرائی اور لسانی ربط کا مظہر بھی ہے۔ مگر حالیہ دور میں ڈیجیٹل ذرائع اور سوشل میڈیا کی عام رواج نے اردو کے اصل رسم الخط کے بجائے رومن اردو کے استعمال کو فروغ دیا ہے، جو زبان و ادب دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔
رومن اردو سے مراد وہ طرزِ تحریر ہے جس میں اردو کے الفاظ انگریزی حروفِ تہجی میں لکھے جاتے ہیں۔ مثلاً:"Main theek hoon" بجائے "میں ٹھیک ہوں" کے۔
ابتدائی طور پر رومن اردو کا استعمال صرف آسانی کے لئے کیا جاتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ ایک عام رواج بنتا جا رہا ہے، خصوصاً نئی نسل میں۔ رومن اردو میں الفاظ کی ادائیگی کا کوئی مستقل قاعدہ نہیں ہوتا۔ ایک ہی لفظ مختلف لوگ مختلف انداز میں لکھتے ہیں۔مثلاً “khush”, “khus”, “khosh” — تینوں کا مطلب “خوش” ہے مگر تلفظ میں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔یہی بے قاعدگی رفتہ رفتہ تلفظ، املاء اور لسانی معیار کو متاثر کر رہی ہے۔
جب نوجوان نسل روزمرہ تحریر میں رومن اردو استعمال کرتی ہے تو ان کی اردو رسم الخط سے دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔وہ اردو لکھنے، پڑھنے اور سمجھنے میں کمزور ہو جاتے ہیں۔نتیجتاً وہ نہ اردو ادب سے صحیح طور پر لطف اٹھا پاتے ہیں، نہ اس کے فکری سرمائے کو سمجھ سکتے ہیں۔یہی صورتِ حال اردو کے زوال کا باعث بن رہی ہے۔
اردو ادب کی اصل روح اس کے رسم الخط میں پوشیدہ ہے۔ میر، غالب، اقبال، فیض اور دیگر شعرا کی تحریری خوبصورتی ان کے الفاظ کے ساتھ ساتھ نستعلیق کی نرمی اور روانی میں ہے۔جب رومن رسم الخط میں اردو لکھی جاتی ہے تو اس کی ادبی لطافت ماند پڑ جاتی ہے۔یوں نئی نسل اپنی ادبی و تہذیبی شناخت سے کٹتی جا رہی ہے۔
رومن اردو نے املاء اور قواعد دونوں کو متاثر کیا ہے۔کسی لفظ کی درست شکل معلوم نہ ہونے کے سبب لوگ غلط املا کے عادی بن گئے ہیں۔مثلاً “Zindagi”, “Zendagee”, “Zindagee” سب ایک ہی لفظ کی مختلف شکلیں ہیں۔یہ غیر معیاری تحریر اردو زبان کے قواعدی ڈھانچے کو کمزور کر رہی ہے۔
اردو صرف زبان نہیں، بلکہ ہندو مسلم تہذیب کی علامت ہے۔رومن اردو کے بڑھتے ہوئے رجحان سے نہ صرف زبان کی اصل شکل متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس سے ہماری ثقافتی شناخت بھی کمزور پڑ رہی ہے۔اگر یہی رجحان جاری رہا تو آنے والی نسلیں اردو کو محض بولی کی صورت میں جانیں گی، تحریری ورثے سے ناواقف رہیں گی۔
اردو رسم الخط سے دوری کا اثر تعلیمی سطح پر بھی پڑ رہا ہے۔بہت سے طلبہ اردو میں امتحان دینے سے گھبراتے ہیں کیونکہ وہ رومن انداز میں لکھنے کے عادی ہیں۔یہ رجحان علمی پستی اور زبان سے بیگانگی کو جنم دے رہا ہے۔
اگرچہ سوشل میڈیا پر اردو رسم الخط لکھنا کچھ مشکل لگتا ہے، مگر آج بے شمار اردو کی بورڈ ایپس اور صوتی ان پٹ (Voice Input) سہولیات دستیاب ہیں۔ان کی مدد سے نستعلیق اردو میں لکھنا نہایت آسان ہو گیا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین، اساتذہ اور ادبی ادارے نئی نسل کو اردو رسم الخط کی طرف واپس لانے کی منظم کوششیں کریں۔
رومن اردو کا ظاہری فائدہ وقتی اور سہولت پر مبنی ہے، لیکن اس کے اثرات دیرپا اور منفی ہیں۔یہ نہ صرف ہماری زبان کی بنیادوں کو ہلا رہی ہے بلکہ تہذیبی و فکری رشتے کو بھی کمزور کر رہی ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم رومن اردو کے بجائے اصل اردو رسم الخط کو فروغ دیں، تاکہ ہماری زبان اپنی خوبصورتی، معنویت اور وقار کے ساتھ زندہ رہے۔
رومن اردو سہولت تو دیتی ہے مگر اس کی قیمت لسانی کمزوری، ادبی بگاڑ اور تہذیبی نقصان کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔اردو کی بقا اسی میں ہے کہ ہم اپنے رسم الخط کو اپنائیں اور اپنی نسلوں میں اس کے تئیں محبت و فخر پیدا کریں۔
اتوار، 16 نومبر، 2025
افسانچہ ماں
جمعہ، 14 نومبر، 2025
بچوں کا روشن مستقبل , یومِ اطفال کی اہمیت اور چچا نہرو کا پیغام
بدھ، 12 نومبر، 2025
مولانا ابوالکلام آزاد: ایک عہد ساز شخصیت، علمی ورثہ اور قومی وژن
مولانا ابوالکلام آزاد: ایک عہد ساز شخصیت، علمی ورثہ اور قومی وژن
الطاف آمبوری
1. مولانا ابوالکلام آزاد: ایک عہد ساز شخصیت
مولانا ابوالکلام محی الدین احمد آزاد (1888ء – 1958ء) برصغیر کی تاریخ کے ان نادر روزگار شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے اپنی فکری بصیرت، سیاسی عزم، اور علمی گہرائی سے ایک پورے عہد کی تشکیل اور رہنمائی کی۔ وہ بیک وقت ایک برجستہ عالمِ دین، ایک شعلہ بیاں صحافی، ایک کہنہ مشق انشا پرداز، اور ایک بے باک سیاسی رہنما تھے۔ ان کی زندگی ہندوستان کی تحریکِ آزادی، فکری بیداری اور قومی تعمیر کی کہانی ہے۔
مولانا آزاد کی پیدائش 1888ء میں مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی۔ انہوں نے روایتی اسلامی علوم کی تعلیم حاصل کی اور کم عمری میں ہی عربی، فارسی اور اردو زبانوں پر مکمل عبور حاصل کر لیا۔ انہوں نے صحافت کو عوامی بیداری اور سیاسی شعور پھیلانے کا ذریعہ بنایا۔ ان کا ہفتہ وار اخبار 'الہلال' (1912ء) اپنے دلیرانہ اور انقلابی لب و لہجے کے باعث بہت جلد مقبول ہوا اور برطانوی سامراج کے خلاف سیاسی جدوجہد میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔
آزاد نے تحریکِ آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ متحدہ قومیت کے پرزور حامی تھے اور انہوں نے ہمیشہ تقسیمِ ہند کی مخالفت کی۔ 1940ء میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر منتخب ہوئے اور آزادی تک اس منصب پر فائز رہے۔ 'انڈیا وِنز فریڈم' ان کی سیاسی بصیرت کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کا علمی ورثہ بھی بے مثال ہے، جس میں سب سے بڑا کارنامہ 'ترجمان القرآن' ہے اور دورانِ اسیری لکھے گئے خطوط کا مجموعہ 'غبارِ خاطر' اردو ادب کا ایک شاہکار ہے۔ ان کی عہد ساز شخصیت کا اثر آج بھی ہندوستان کی جمہوری، سیکولر اور تعلیمی روح میں جھلکتا ہے۔
2. مولانا ابوالکلام آزاد بطورِ وزیرِ تعلیم: عصری تعلیم کی بنیاد
آزادی کے بعد (15 اگست 1947ء سے 1958ء تک) مولانا آزاد نے ملک کے پہلے وزیرِ تعلیم کے طور پر ایک ایسا وژن پیش کیا جس نے جدید ہندوستان کے تعلیمی ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔ ان کا مقصد تھا کہ ملک علمی اور تکنیکی طور پر ترقی کرے۔
اعلیٰ تعلیم کی منصوبہ بندی:
* یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کا قیام (1953ء): یہ ایک ایسا بااختیار ادارہ تھا جس نے یونیورسٹیوں میں تعلیم، تحقیق اور معیار کو فروغ دینے کے لیے فنڈنگ کا ایک منظم نظام فراہم کیا۔
* انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (IITs) کا سنگِ بنیاد: انہوں نے ملک کے پہلے آئی آئی ٹی (IIT Kharagpur) کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا اور اعلیٰ تکنیکی تعلیم کے ایک مضبوط نیٹ ورک کا آغاز کیا۔
* ثانوی تعلیم کمیشن (1952-53ء): اس کی تشکیل تعلیمی نظام کے بنیادی مرحلے کی اصلاح کے لیے کی گئی۔
فنون، ثقافت اور تحقیق کا فروغ:
* ثقافتی اکیڈمیوں کا قیام: انہوں نے ادب، فنون اور ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے تین بڑی قومی اکیڈمیوں، یعنی ساہتیہ اکیڈمی، سنگیت ناٹک اکیڈمی، اور للت کلا اکیڈمی کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔
* سائنسی ادارے: کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (CSIR) جیسے اداروں کی مضبوطی پر توجہ دی۔
مولانا آزاد نے بنیادی اور مفت تعلیم پر زور دیا اور خواتین کی تعلیم کو ملک کی ترقی کے لیے لازم سمجھا۔ ان کی یومِ پیدائش 11 نومبر کو پورے ملک میں قومی یومِ تعلیم (National Education Day) کے طور پر منایا جاتا ہے۔
3. متحدہ قومیت (Composite Nationalism) کے بارے میں ان کے نظریات
مولانا آزاد کا متحدہ قومیت کا نظریہ ان کی سیاسی فکر کا سنگ بنیاد اور ہندوستان کی آئینی روح کا عکاس ہے۔ یہ نظریہ اس بات پر مبنی تھا کہ ہندوستان میں رہنے والے مختلف مذاہب کے لوگ، خاص طور پر ہندو اور مسلمان، ایک مشترکہ جغرافیائی، تاریخی اور سیاسی پس منظر کی وجہ سے ایک قوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔
تاریخی و سماجی وحدت:
* مولانا آزاد کا ماننا تھا کہ پچھلے ایک ہزار سال کی تاریخ نے ہندوستان میں ایک "مشترکہ زندگی" اور ایک "مشترکہ کلچر" کو جنم دیا ہے، جسے وہ "ہندوستانیت" کہتے ہیں۔
* ان کا مشہور قول تھا کہ وہ ایک مسلمان ہیں اور اس پر فخر ہے، لیکن وہ ایک ہندوستانی بھی ہیں اور ہندوستان کی تاریخ میں اپنا کردار ادا کرنے کی وجہ سے وہ اسے کسی قیمت پر نہیں چھوڑیں گے۔
مذہبی آزادی بمقابلہ قومی وحدت:
* انہوں نے دلیل دی کہ مذہب ایک نجی معاملہ ہے جبکہ قومیت کا تعلق سیاسی اور سماجی زندگی سے ہے۔
* وہ دو قومی نظریہ کے سخت مخالف تھے اور تقسیم کو ایک "تاریخی غلطی" قرار دیتے تھے، کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ تقسیم سے ہندوستان میں موجود کروڑوں مسلمانوں کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔
مولانا کا نظریہ مذہبی رواداری اور تمام مذاہب کے احترام پر مبنی تھا۔ یہ نظریہ ہندوستانی جمہوریت کی اس روح کو تقویت دیتا ہے جس کے تحت کثرت میں وحدت کو قومی زندگی کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے۔
پیر، 10 نومبر، 2025
افسانچہ: جنریشن زی
اتوار، 2 نومبر، 2025
افسانچہ: نیکی کر موبائل میں ڈال
ہفتہ، 1 نومبر، 2025
پرائمری تعلیم میں مادری زبان اردو کی اہمیت
پرائمری تعلیم میں مادری زبان اردو کی اہمیت
تحریر: الطاف آمبوری
دنیا کی تمام ترقی یافتہ قوموں نے تعلیم کے میدان میں ایک بنیادی اصول کو تسلیم کیا ہے — ابتدائی تعلیم ہمیشہ بچے کی مادری زبان میں ہونی چاہیے۔ مادری زبان وہ پہلی زبان ہے جس کے ذریعے بچہ اپنی ماں سے، اپنے ماحول سے، اور اپنے سماجی دائرے سے تعلق قائم کرتا ہے۔ اسی زبان میں وہ دنیا کو سمجھنا شروع کرتا ہے، اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے، اور علم کے دروازے کھولتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے ابتدائی مراحل میں مادری زبان کا کردار بنیاد کی مانند ہوتا ہے۔ اگر بنیاد کمزور ہو تو عمارت کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی۔
مادری زبان — فہم و ادراک کی زبان
بچہ جب پہلی بار اسکول جاتا ہے تو وہ ذہنی طور پر دنیا کو اپنی مادری زبان کے ذریعے سمجھنے کا عادی ہوتا ہے۔ اگر اس پر کسی اجنبی زبان کو مسلط کر دیا جائے تو سیکھنے کا عمل بوجھ بن جاتا ہے۔ وہ مفہوم تو یاد کر لیتا ہے مگر معنی نہیں سمجھ پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے طلبہ ابتدائی سطح پر دلچسپی کھو دیتے ہیں۔
اردو زبان میں تعلیم دینے سے بچہ آسانی سے نصاب کو سمجھ سکتا ہے، سوالات کر سکتا ہے، بحث میں حصہ لے سکتا ہے، اور اپنی تخلیقی سوچ کو بروئے کار لا سکتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف تعلیمی کامیابی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ فکری آزادی کو بھی فروغ دیتا ہے۔
تعلیمی ماہرین کی آراء
یونیسکو (UNESCO) کی متعدد رپورٹوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پرائمری تعلیم اگر مادری زبان میں دی جائے تو بچے کی سیکھنے کی صلاحیت تین گنا زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
ماہرِ تعلیم جے۔ پی۔ نائلر کے مطابق:
“جب بچہ اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ صرف معلومات نہیں سیکھتا بلکہ علم کی روح کو سمجھتا ہے۔”
اردو کے تناظر میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ اردو بولنے والے بچوں کے لیے اردو صرف زبان نہیں بلکہ سوچنے، محسوس کرنے اور بیان کرنے کا ذریعہ ہے۔
اردو زبان اور تہذیبی شعور
اردو زبان برصغیر کی مشترکہ تہذیب و ثقافت کی امین ہے۔ اس کے ذریعے محبت، اخوت، ادب اور اخلاقیات کے بے شمار اسباق نسل در نسل منتقل ہوئے ہیں۔ اگر ابتدائی تعلیم اردو میں دی جائے تو بچوں کے دل و دماغ میں اپنی تہذیبی جڑوں کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ وہ غالب، اقبال، اور سرسید کے فکری ورثے سے جڑتے ہیں۔
اردو تعلیم نہ صرف زبان کی بقا کا ذریعہ ہے بلکہ قوم کی فکری شناخت کا تحفظ بھی کرتی ہے۔
بین الاقوامی مثالیں
دنیا کے کئی ممالک نے مادری زبان میں تعلیم کو قانونی حیثیت دی ہے۔
فن لینڈ اور ناروے میں ہر بچہ اپنی مادری زبان میں ابتدائی تعلیم حاصل کرتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان ممالک کی شرح خواندگی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
چین میں ہر صوبہ اپنی علاقائی زبان میں ابتدائی تعلیم فراہم کرتا ہے، جس نے تعلیمی معیار کو بلند ترین سطح تک پہنچا دیا ہے۔
افریقہ کے کئی ممالک میں بھی اب انگریزی یا فرانسیسی کے بجائے مقامی زبانوں کو تعلیم کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے، تاکہ بچے اپنی جڑوں سے جڑے رہیں۔
ہندوستان جیسے کثیر لسانی ملک میں یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ ہر بچہ اپنی مادری زبان میں پرائمری تعلیم حاصل کرے — تاکہ مساوات، فہم اور معیار تعلیم برقرار رہے۔
اردو میڈیم اسکولوں کا زوال اور ضرورتِ احیاء
بدقسمتی سے اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ کہیں نصابی کتب کی کمی ہے، کہیں تربیت یافتہ اساتذہ کی۔ سرکاری سطح پر بھی اردو کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو تعلیمی اداروں کو مضبوط کیا جائے، جدید نصاب کو اردو میں منتقل کیا جائے، اور اساتذہ کو تربیت دی جائے کہ وہ جدید تدریسی طریقوں کو اردو میں استعمال کر سکیں۔
اگر اردو میڈیم اسکولوں کو جدید سہولیات، لائبریریاں، اور ڈیجیٹل مواد فراہم کیا جائے تو یہ ادارے نہ صرف تعلیمی معیار میں نمایاں اضافہ کریں گے بلکہ اردو زبان کی ترویج کا عملی ذریعہ بھی بنیں گے۔
اردو زبان — قومی
اتحاد کی علامت
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اردو کسی مخصوص طبقے یا مذہب کی زبان نہیں، بلکہ ہندوستان کی قومی زبانوں میں سے ایک اہم زبان ہے۔ اس کی جڑیں دہلی سے لے کر دکن تک پھیلی ہوئی ہیں۔ پرائمری سطح پر اردو میں تعلیم دینے سے نہ صرف ایک زبان محفوظ ہوتی ہے بلکہ قومی یکجہتی، ہم آہنگی، اور بین الثقافتی احترام بھی فروغ پاتا ہے۔
نتیجہ
تعلیم کا مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک با شعور، فکری، اور اخلاقی انسان پیدا کرنا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہوں، اپنی تہذیب سے جڑے رہیں، اور دنیا کا مقابلہ اعتماد کے ساتھ کریں — تو ہمیں انہیں وہی زبان دینی ہوگی جس میں وہ خواب دیکھتے ہیں، سوچتے ہیں، اور اپنی ماں سے بات کرتے ہیں۔
پرائمری تعلیم میں مادری زبان اردو کی بحالی صرف زبان کی خدمت نہیں، قوم کی خدمت ہے۔
الطاف آمبوری
)تعلیمی و ادبی تجزیہ نگار(


